پیداواری صلاحیت، استعداد اور ٹیکنالوجی بجٹ 2026–27 کا مرکزی محور:رون چُگ
عظمیٰ نیوز سروس
جموں//بی جے پی کے قومی جنرل سیکریٹری اور جموں و کشمیر کے پربھاری ترون چُگ نے جموں و کشمیر بی جے پی کے صدر اور راجیہ سبھا کے رکن ست شرما اور جموں و کشمیر اسمبلی میں قائدِ حزبِ اختلاف سنیل شرما کے ہمراہ بی جے پی ہیڈکوارٹر، تریکوٹا نگر، جموں میں ایک پریس کانفرنس سے خطاب کیا۔میڈیا سے بات کرتے ہوئے ترون چُگ نے کہا کہ گزشتہ 11برسوں سے وزیر اعظم نریندر مودی کی قیادت میں مرکزی حکومت ملک کی معاشی بنیاد کو مضبوط بنانے اور عام شہریوں کی زندگی کو بہتر بنانے کے لیے مسلسل کام کر رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ حکومت کی توجہ مضبوط معاشی پالیسیوں، بڑے پیمانے پر انفراسٹرکچر کی توسیع، کاروباری عمل کی آسانی اور ٹیکس کے بوجھ میں کمی پر مرکوز رہی ہے، جس سے جامع اور پائیدار ترقی کو یقینی بنایا گیا ہے۔ترون چُگ نے کہا کہ بجٹ 2026–27، جو کرتویہ بھون سے پیش کیا جانے والا پہلا بجٹ ہے، وزیر اعظم مودی کے وژن کی عکاسی کرتا ہے اور آتم نربھر بھارت کے لیے ایک واضح روڈ میپ فراہم کرتا ہے۔ انہوں نے بجٹ کو ایک سنگِ میل دستاویز قرار دیتے ہوئے کہا کہ یہ قوم کی مستقبل کی ترقی کی سمت متعین کرتا ہے، جس میں شہریوں، صنعتکاروں، کسانوں اور نوجوانوں کی مشترکہ پیش رفت کو یقینی بنایا گیا ہے۔ ان کے مطابق مودی حکومت کا واضح پیغام قلیل مدتی عوامی مقبولیت کے بجائے طویل مدتی ترقی ہے اور یہ بجٹ وکست بھارت 2047 کے لیے مضبوط اور پرعزم بنیاد رکھتا ہے۔بھارت کی معاشی تبدیلی پر روشنی ڈالتے ہوئے ترون چُگ نے کہا کہ گزشتہ 12 برسوں میں بھارتی معیشت مستحکم، مضبوط اور عالمی سطح پر قابلِ اعتماد بنی ہے، جو اس بجٹ کی بنیاد ہے۔ انہوں نے بتایا کہ اب تک 350 سے زائد اصلاحات نافذ کی جا چکی ہیں، جن سے کاروبار اور روزمرہ زندگی دونوں آسان ہوئے ہیں۔ ان کے مطابق بجٹ میں روزگار کے مواقع پیدا کرنے، پیداوار بڑھانے اور نوجوانوں کی مہارتوں میں اضافہ پر خصوصی توجہ دی گئی ہے۔انہوں نے مزید کہا کہ مودی حکومت نے بجٹ کو تین بنیادی ذمہ داریوں پر مرکوز رکھا ہے:پیداواری صلاحیت بڑھا کر تیز اور پائیدار ترقی، عوامی امنگوں کو پورا کرنے کے لیے استعداد سازی، اور مصنوعی ذہانت سمیت جدید ٹیکنالوجی کے ذریعے بہتر طرزِ حکمرانی۔جموں و کشمیر پر توجہ مرکوز کرتے ہوئے ترون چُگ نے کہا کہ مودی حکومت نے اس بات کو یقینی بنایا ہے کہ سرحدی اور حساس علاقوں میں ترقی کو قومی سلامتی کے ساتھ جوڑا جائے۔ انہوں نے کہا کہ جموں و کشمیر کے لیے مرکزی امداد میں اضافہ، مرکز کی مسلسل وابستگی کا واضح ثبوت ہے۔ انہوں نے عمر عبداللہ کی قیادت والی حکومت پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ اس نے محض مرکزی بجٹ کے فوائد کو نقل کیا ہے اور اپنی ذمہ داریاں مؤثر طریقے سے ادا کرنے میں ناکام رہی ہے۔انہوں نے کہا کہ جموں و کشمیر میں سڑکوں، سرنگوں، بجلی اور لاجسٹکس پر سرمایہ جاتی اخراجات میں اضافہ مقامی روزگار کو نمایاں طور پر فروغ دے گا۔ سیاحت کے فروغ سے خاص طور پر نوجوانوں اور چھوٹے کاروباری افراد کو فائدہ ہوگا۔ انفراسٹرکچر کے لیے 12.2 لاکھ کروڑ روپے کی سرمایہ کاری جموں و کشمیر کو قومی ترقی کے دھارے سے مزید جوڑے گی۔ترون چُگ نے ایم ایس ایم ای شعبے کو مضبوط بنانے کی اہمیت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ اس سے کشمیر کے کاریگروں، بنکروں اور چھوٹی صنعتوں کو نئی تقویت ملے گی۔ کھادی، دستکاری اور مقامی مصنوعات کو بڑی منڈیوں سے جوڑنے کے اقدامات پہاڑی اور سرحدی ریاستوں کے لیے نہایت اہم ہیں۔ انہوں نے کہا کہ مودی حکومت کے تحت کشمیر کے نوجوان، جو کبھی کانگریس کے دورِ بدعنوانی کا شکار تھے، آج تعلیم، ٹیکنالوجی اور مواقع سے بااختیار ہو چکے ہیں اور پتھروں کے بجائے لیپ ٹاپ تھام کر قوم کی تعمیر میں حصہ لے رہے ہیں۔انہوں نے کہا کہ تعلیم سے روزگار تک حکومت کی پالیسی محض ڈگریوں کے بجائے باوقار ملازمتوں پر مرکوز ہے۔ صحت کے شعبے میں بجٹ کی خصوصی دفعات دور دراز علاقوں کے عوام کو راحت پہنچائیں گی۔ انہوں نے کہا کہ بجٹ میں مالی نظم و ضبط برقرار رکھا گیا ہے اور 4.3 فیصد مالیاتی خسارے کا ہدف ذمہ دارانہ حکمرانی کی عکاسی کرتا ہے۔بجٹ 2026–27 کو اعتماد کا بجٹ قرار دیتے ہوئے ترون چُگ نے کہا کہ یہ ٹیکس دہندگان، سرمایہ کاروں اور ریاستوں کے درمیان اعتماد پیدا کرتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ بجٹ سرحدی سلامتی اور زمینی خوشحالی کے درمیان توازن قائم کرتا ہے اور جموں و کشمیر کے غیر دریافت شدہ علاقوں کو سیاحتی نقشے پر لا کر قدرتی سیاحت کو نئی سمت دیتا ہے۔ نئی پالیسیاں اس بات کو یقینی بنائیں گی کہ جموں و کشمیر کی زرعی پیداوار مؤثر طریقے سے منڈیوں تک پہنچے، جبکہ ڈیری، پولٹری، مویشی صحت، نوجوانوں، کھیلوں، خواتین کو بااختیار بنانے اور روزگار سے متعلق تاریخی اسکیمیں خطے کی سماجی و معاشی تصویر بدل دیں گی۔
ُ
بجٹ 2026 این سی حکومت کی ناکامی کی واضح یاد دہانی: ست شرما
عظمیٰ نیوز سروس
جموں//جموں و کشمیر بی جے پی کے صدر اور راجیہ سبھا کے رکن ست شرمانے کہا کہ یو ٹی بجٹ 2026 نے ایک بار پھر نیشنل کانفرنس حکومت کی کھوکھلی حکمرانی اور ٹوٹے ہوئے وعدوں کو بے نقاب کر دیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اسمبلی انتخابات کے دوران بلند و بانگ اور غیر حقیقی وعدوں کے ذریعے عوام کو گمراہ کیا گیا، مگر حکومت بننے کے بعد بجٹ میں وژن، جدت اور عوامی امنگوں سے وابستگی کا فقدان نظر آتا ہے۔ست شرما نے بجٹ کو بے جان، سمت سے خالی اور محض مرکزی اسپانسرڈ اسکیموں کا اعادہ قرار دیا۔ انہوں نے کہا کہ مقامی ضروریات کے مطابق نئی پالیسیاں متعارف کرانے کے بجائے این سی حکومت نے مرکزی منصوبوں کو دوبارہ پیک کر کے پیش کیا ہے اور دوسروں کے کام کا کریڈٹ لینے کی کوشش کی ہے۔انہوں نے کہا کہ بجٹ میں انتخابی منشور میں کیے گئے بڑے وعدوں کو مکمل طور پر نظر انداز کیا گیا ہے۔ مفت بجلی کا وعدہ، جو ایک بڑا انتخابی نعرہ تھا، محض ایک علامتی فائدے تک محدود ہو کر رہ گیا ہے، جس سے اکثریت خود کو دھوکہ خوردہ محسوس کر رہی ہے۔ست شرما نے ڈیزل پر 2 روپے، پیٹرول پر 1 روپے کی رعایت ختم کرنے اور ایوی ایشن فیول پر 5 فیصد اضافہ کرنے پر بھی تنقید کی، جس سے عام آدمی پر اضافی مالی بوجھ پڑے گا۔ انہوں نے کہا کہ نوجوانوں، خواتین، کمزور طبقات اور ڈیلی ویجرز کے مسائل کو بھی بجٹ میں نظر انداز کیا گیا ہے۔انہوں نے کہا کہ مجموعی طور پر بجٹ 2026 این سی حکومت کی ناکامی کی واضح مثال ہے، جو انتخابی فریب اور اقتدار کے بعد بے حسی کی عکاسی کرتا ہے۔
راجیہ سبھا میں جموں میں آئی ٹی پارک کے قیام کا معاملہ اٹھایا
عظمیٰ نیوز سروس
جموں//جموں و کشمیر بی جے پی کے صدر اور راجیہ سبھا کے رکن ست شرمانے راجیہ سبھا کے جاری اجلاس میں جموں میں آئی ٹی پارکس کے قیام سے متعلق اہم سوال اٹھایا اور نوجوانوں کے لیے روزگار کے مواقع پیدا کرنے پر زور دیا۔جواب میں الیکٹرانکس و انفارمیشن ٹیکنالوجی کے وزیرِ مملکت جتن پرسادا نے ایوان کو بتایا کہ حکومت ہند ملک بھر میں آئی ٹی ایکو سسٹم کو فروغ دینے کے لیے کام کر رہی ہے، خاص طور پر ٹائر-2 اور ٹائر-3 شہروں بشمول جموں میں۔انہوں نے بتایا کہ سافٹ ویئر ٹیکنالوجی پارکس آف انڈیا (STPI) اسکیم کے تحت ملک بھر میں 68 مراکز قائم کیے گئے ہیں، جن میں سے 60 چھوٹے شہروں میں واقع ہیں۔ انہوں نے تصدیق کی کہ جموں میں ایک جدید STPI مرکز پہلے ہی ایکسپورٹ پروموشن انڈسٹریل پارک (EPIP) میں قائم کیا جا چکا ہے۔یہ جدید مرکز انکیوبیشن سروسز، ہائی اسپیڈ ڈیٹا کمیونیکیشن، کلاؤڈ سروسز، وی اے پی ٹی اور دیگر قانونی سہولیات فراہم کرتا ہے۔ یہ مرکز اسٹارٹ اپس کی سرپرستی میں بھی اہم کردار ادا کر رہا
ہے، جہاں نوجوانوں کو رہنمائی، سرمایہ کاروں سے رابطہ اور نیٹ ورکنگ کے مواقع میسر ہیں۔ست شرما نے اس اقدام کا خیر مقدم کرتے ہوئے کہا کہ یہ ڈیجیٹل انڈیا اور میک اِن انڈیا جیسے قومی پروگراموں کے عین مطابق ہے اور جموں و کشمیر میں معاشی ترقی، اختراع اور روزگار کے فروغ میں اہم کردار ادا کرے گا۔ انہوں نے جموں و کشمیر کے ترقیاتی مسائل کو قومی سطح پر مسلسل اٹھانے کے عزم کا اعادہ کیا۔