کشمیرمیں شہری ہلاکتیں افسوسناک ،قتل عام بندکیاجائے:فریڈم موومنٹ
جموں//جموں کشمیرفریڈم موومنٹ نے کہاہے کہ وادی کشمیر میں ہورہی بے گناہ نہتے کشمیر ی نوجونوں کا فورسز کے ہاتھوں بیہمانہ قتلِ عام کی جس قدرمذمت کی ہے کم ہے۔ یہاں جاری پریس ریلیزکے مطابق فریڈم موومنٹ کے چیرمین محمدشریف سرتاج نے کہا ہے کہ ’گذشتہ روز شوپیان میں ہوئی قتل و غارت سے پورا کشمیر سوگوار ہے اور یہ عام خیال ہے کہ فورسز عوام پر فائرنگ کیلئے تمام قواعد کی کھلم کھلا خلاف ورزی کر رہے ہیں۔ اورجنگجو نوجوانوں کے بہانے فائرنگ کے دوران عام لوگوں کو جان بوجھ کرنشانہ بنایا جارہا ہے۔اس عمل کو موجودہ مودی سرکار کی پالیسی کاحصّہ تصور کیا جارہاہے۔ اوراس قتل عام میں پی ڈی پی بھی برابر شامل ہے ۔انہوں نے وادی کشمیر کے شوپیاں اوردیگر علاقوں کے نہتے نوجونوں کا فورسز کے ہاتھوں بہمانہ قتل پر سخت رنج و افسوس کا اظہار کرتے ہوئے اس قتل عام کی شدیدالفاظ میں مذمت کی ہے۔اور عالمی برادری سے اپیل کرتے ہوئے کہا ہے کہ سرکاری دہشت گردی اور معصوم کشمیری نوجوانوں کے قتل عام کوبند کر انے میں اپنا رول ادا کریں۔محمدشریف سرتاج نے مودی سرکار سے کہا ہے کہ مسا ئل کا حل قتل وغارت گیری سے نہیںبلکہ بات چیت سے ہی ممکن ہے۔لہذا سرکار کوچاہے کہ وہ ریاست جموں کشمیر میںعام نہتے شہریوں کے قتل عام کوبند کرے اور مسئلہ کشمیر کے حتمی حل کے لئے سہ فریقی بات چیت کاراستہ اختیار کرئے۔اور جو ارض کشمیر کو جلیانوالہ باغ میں تبدیل کرکے انسانی خون پانی کی طرح بہایا جارہا ہے۔اور جس طرح فوج نے کشمیریوں کے قتل عام کا سلسلہ تیز کردیا ہے، اس پر من حیث القوم ہمیں غور کرنا چاہیے کہ کس طرح مودی سرکاراور یہاں کے نام نہاد حکمران ہماری اس نسل کُشی کرنے پر دیدہ دلیر ہوگئے ہیں۔ آئے روز کشمیر میں جلیاں نوالہ باغ دہرائے جارہے ہیں ۔ عام نہتے شہریوں اور طلباء کو گولیوں سے چھلنی کردیا جاتا ہے۔ جموں کشمیر کو ماتم کدہ میں تبدیل کردیا گیا ہے۔ شمال وجنوب میں قتل وغارت کا کھیل جاری ہے۔ معصوم طلباء اس طرح کی جارحیت کے بری طرح شکار ہیں۔ اب یہاں نہ بزرگ محفوظ ہیں، نہ 10سال کے بچے، کیونکہ بھارتی حکمرانوںنے ہندوتوا ایجنڈا کو پائے تکمیل تک پہنچانے کیلئے جموں کشمیر میں نسل کشی کا سلسلہ تیز کردیا ہے۔ جوانہتائی تشویش ناک ہے۔فریڈم موومنٹ کے چیرمین نے کہا جو لوگ مسئلہ کشمیر کوبے روزگاری سے جوڑکر دیکھتے ہیںان کی آنکھیںکھولنے کے لئے کشمیر یونیورسٹی کے اسسٹنٹ پروفیسر محمدرفیع بٹ کی ہلاکت کافی ہے۔ اس لئے مسئلہ کشمیر کا فوجی حل کے بجائے سیاسی حل تلاش کرنے پرتوجہ دینے کی ضرورت ہے۔تاکہ مزید نسل کُشی کو روکا جا سکے۔
ہوم گارڈملازمین کا ڈیوٹی الائونس بڑھانے کامطالبہ
حالیہ کابینہ فیصلہ غیرتسلی بخش اورناانصافی:بہوجن سماج پارٹی
جموں//بہوجن سماج پارٹی جموں کشمیرنے 4300 ہوم گارڈملازمین کے سلسلے میں لیے گئے کابینہ فیصلہ جس کے تحت ہوم گارڈز کے ڈیوٹی الائونس میں اضافہ نہ کرنے کی شدیدالفاظ میں مذمت کی ہے۔ یہاں منعقدہ ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے بی ایس پی کے ریاستی صدرایس آرمجوترہ نے کہاکہ سپریم کورٹ آف انڈیا کے حکمنامہ مطابق کیس ٹائٹل۔ گرراشک ،ہوم گارڈ ویلفیئر ایسوسی ایشن بمقابلہ سٹیٹ آف ہماچل پردیش ودیگران کے تحت نہیں بڑھایاگیا۔انہوں نے کہاکہ سپریم کورٹ کے مذکورہ فیصلے میں کہاگیاہے کہ ہوم گارڈس رضاکاروں کو30 دنوں کاالائونس اداکرنے کیلئے کہاتھا۔انہوں نے کہاکہ یہ حکمنامہ ہماچل پردیش ،پنجاب اوردیگرریاستوں میں لاگوہے ۔انہوں نے کہاکہ ہوم گارڈس کاڈیوٹی الائونس 17134روپے ماہانہ ہماچل پردیش میں ،جبکہ 29565 روپے پنجاب میں دیاجاتاہے لیکن جموں کشمیرکابینہ نے ہوم گارڈز کیلئے صرف 2700روپے ڈیوٹی الائونس مقررکیاہے جوکہ صرف نودنوں کابنتاہے جوکہ ناانصافی ہے۔انہوں نے کہاکہ ریاستی حکومت ملازمین کی توقعات پرپورااُترنے میں ناکام ثابت ہوئی ہے۔انہوں نے کہاکہ آنگن واڑی ورکراورہیلپراورکلریکل ملازمین مطالبات کولے کرسڑکوں پرہیں اوران کی مانگوں کوپورانہیں کیاجارہاہے۔اس دوران پریس کانفرنس میں چرنجیت چڑگوترہ،نائب صدر۔ آرکے تھاپہ جنرل سیکریٹری ،بدری ناتھ جنرل سیکریٹری، جگدیش ورما ،جنرل سیکریٹری، پریتم چند ریاستی سیکریٹی ، بی ایل ڈگرہ ،مہندرکمارریاستی سیکریٹری، ایچ سی تھاپا زون کوآرڈی نیٹر ادہم پور، رنجیت سنگھ زون صدرادہم پور،جگدیش بھگت زون صدر،تلک راج بھگت، رویندرسنگھ،دلبیربھگت، رمیش کمار، سریش کمار، راج پال بگوریہ، پشپ کمارودیگران بھی موجودتھے۔
ایس آراو520کے نفاذ اورتنخواہوں کی واگذاری کی مانگ
پی ایچ ای عارضی ملازمین کا14 مئی سے 3روزہ کام چھوڑہڑتال کاانتباہ
جموں//آل جے اینڈکے پی ایچ ای آئی ٹی آئی ٹرینڈ اورسی پی ورکرس ایسوسی ایشن نے حکومت کوانتباہ دیاہے کہ اگر13 مئی تک ان کی مانگیں جن میںایس آراو 520 کی عمل آوری اورواجب الاداتنخواہوں کی واگذاری شامل ہیں پوری نہیں کی گئیں تومحکمہ پی ایچ ای کے عارضی ملازمین 14 مئی 2018سے 72 گھنٹے کی کام چھوڑہڑتال کریں گے ۔یہاں جاری ایک پریس ریلیزکے مطابق آل جے اینڈکے پی ایچ ای آئی ٹی آئی ٹرینڈ اورسی پی ورکرس ایسوسی ایشن کااجلاس تنظیم صدر تنویرحسین کی صدارت میں منعقدہوا جس میں صوبائی /اضلاع صدوراورجنرل سیکریٹریوں کے علاوہ سنٹرل کمیٹی کے اراکین بشمول دیپک گپتا (نائب صدر)، سبھاش رکوال (جنرل سیکریٹری )بھانو پرتاپ ،سنجیوٹھاکروغیرہ نے بھی شرکت کی۔اس دوران میٹنگ میں مقررین نے کہاکہ ایس آواو 520 کی عمل آوری میں حکومت کی طرف سے کی جارہی بلاوجہ تاخیر اورواجب الاداتنخواہوں کی واگذاری نہ ہونے کے سبب عارضی ملازمین کوشدیدمشکلات کاسامنارکانپڑرہاہے ۔انہوں نے کہاکہ پی ایچ ای کے عارضی ملازمین گذشتہ کئی مہینوں سے تنخواہوں کے بغیراپنے فرائض منصبی تندہی سے انجام دے رہے ہیں۔انہوں نے کہاکہ تنخواہیں نہ ملنے سے عارضی ملازمین کے کنبے فاقہ کشی پرمجبورہیں ۔انہوں نے کہاکہ محکمہ کی طرف سے ورکروں کوووچروں، تعلیمی لیاقت اورزیادہ عمرکی بنیادپر ہراساں کرتے ہیں ۔انہوں نے کہاکہ محکمہ ڈیلی ویجروں سے 120 ووچرمانگتاہے لیکن انہیں تنخواہ نہایت ہی کم دی جاتی ہے۔ انہوں نے کہاکہ ایس آراو 520 کے تحت کچھ رعایات بھی دی گئی ہیں مگراس کے لاگوہونے میں تاخیرکے سبب پی ایچ ای کے عارضی ملازمین کربناک صورتحال سے دوچارہیں۔ انہوں نے کہاکہ اگرحکومت نے 13 مئی تک ایس آراوکولاگواورواجب الاداتنخواہیں واگذارنہ کیں تو14 مئی سے ایسوسی ایشن مطالبات کے حق میں 72گھنٹے کی کام چھوڑہڑتال کرے گی جس کی تمام ترذمہ داری حکومت پرعائدہوگی۔اس دوران پریس کانفرنس میں وجے کمار، ہوشیارسنگھ ، سریندر،راجیش شرما، دھنی رام ، پردیپ شرما ،ذوالفقاراحمد، سوہن چودھری، کلدیپ چودھری ، درشن کمار، مقبول حسین، غلام نبی ، اسحاق حسین،جیون سنگھ ،پون کمار ، الطاف حسین،روی شرماوغیرہ بھی موجودتھے۔
کٹھوعہ عصمت دری وقتل معاملہ
سپریم کورٹ کافیصلہ خوش آئند:گلزارکھٹانہ
جموں//وائس چیئرمین گوجربکروال مشاورتی بورڈ گلزارکھٹانہ نے کٹھوعہ عصمت دری و قتل کیس کو سی بی آئی کے حوالے کرنے سے انکار سے متعلق سپریم کورٹ کے فیصلے کا خیرمقدم کیا ہے۔یہاں جاری پریس بیان میں گوجربکروال مشاورتی بورڈ کے وائس چیئرمین گلزارکھٹانہ نے گوجربکروال طبقہ کی طرف سے بورڈ رسانہ عصمت دری وقتل کیس کے حوالے سے سپریم کورٹ کے گذشتہ روز کے فیصلے کا خیرمقدم کرتاہے۔انہوں نے کہاکہ یہ فیصلہ خوش آئندہے اوراس سے امیدبندھی ہے کہ ملزمان کوعدالت ہرحال میں کیفرکردارتک پہنچائے گی۔قابل ذکرہے کہ گذشتہ روز سپریم کورٹ نے کٹھوعہ کیس کی سماعت کرتے ہوئے اس معاملے کی جانچ سی بی آئی سے کرانے سے انکار کرتے ہوئے کیس کی سماعت کٹھوعہ سے پٹھان کوٹ کی عدالت میں منتقل کرنے ہدایت دی تھی۔ چیف جسٹس دیپک مشرا کی صدارت والی بنچ نے اس معاملے کی سماعت کرتے ہوئے یہ حکم سنایا۔ ضلع کٹھوعہ کے تحصیل ہیرانگر کے رسانہ نامی گاؤں کی رہنے والی آٹھ سالہ کمسن بچی جو کہ گجر بکروال طبقہ سے تعلق رکھتی تھی، کو 10 جنوری کو اُس وقت اغوا کیا گیا تھا جب وہ گھوڑوں کو چرانے کے لئے نذدیکی جنگل گئی ہوئی تھی۔ اس کی لاش 17 جنوری کو ہیرا نگر میں جھاڑیوں سے برآمد کی گئی تھی۔ کرائم برانچ پولیس نے گذشتہ ہفتے واقعہ کے سبھی 8 ملزمان کے خلاف چالان عدالت میں پیش کیا۔ کرائم برانچ نے اپنی تحقیقات میں کہا ہے کہ آٹھ سالہ بچی کو رسانہ اور اس سے ملحقہ گاؤں کے کچھ افراد نے عصمت ریزی کے بعد قتل کیا۔ تحقیقات کے مطابق متاثرہ بچی کے اغوا، عصمت دری اور سفاکانہ قتل کا مقصد علاقہ میں رہائش پذیر چند گوجر بکروال کنبوں کو ڈرانا دھمکانا اور ہجرت پر مجبور کرانا تھا۔ تحقیقات میں انکشاف ہوا ہے کہ کمسن بچی کو اغوا کرنے کے بعد ایک مقامی مندر میں قید رکھا گیاتھا جہاں اسے نشہ آور ادویات کھلائی گئیں اور قتل کرنے سے پہلے اسے مسلسل درندگی کا نشانہ بنایا گیاتھا۔
جموں یونیورسٹی ایس سی/ ایس ٹی ملازمین کاوفدرجسٹرارسے ملاقی
جموں // جموں یونیورسٹی ایس سی/ ایس ٹی ملازمین ایسو سی ایشن نے جموںیونیورسٹی رجسٹرار میناکشی کیلم کے ساتھ میٹنگ منعقدکی۔میٹنگ کے دوران تنظیم نے ایس سی/ ایس ٹی ملازمین سے جڑے کئی معاملے زیر بحث لائے۔اس دوران انہوں نے ایس سی ایس ٹی ملازمین کی پرموشن کے متعلق سپریم کورٹ کی طرف سے جاری کئے گئے حکم نامہ کو ریاست میں لاگوکرنے کی مانگ کی۔ تنظیم کے ممبران نے یونیورسٹی گرانٹس کومیشن کی طرف سے جاری بیانات کے بارے میں بھی بات کی اور رجسٹرار سے اپیل کی کہ اسے سی ایس ٹی ملازمین کو بھی یونیورسٹی باڈی میں جیسے یونیورسٹی کونسل ،اکاڈمک کونسل ،سلیکشن کمیٹی میں مقام دیا جائے ۔ میٹنگ کے دوران اس بات پر زیادہ زور دیا گیاکہ ایس سی ایس ٹی ملازمین کو یو جی سی سے منظور شدہ ایک کمیٹی بنانے کی بھی اجازت دی جائے اور کمیٹی کے دفتر کے لئے اراضی بھی وا گزار کی جانی چاہیئے۔یونیورسٹی کے رجسٹرار نے تنظیم کے ممبران کو تمام تر معاملات پر وائس چانسلر کے ساتھ اٹھانے کی یقین دہانے کرائی۔میٹنگ میں جن لوگوں نے حصہ لیا ان میں سے آر ایل کیتھ،ایس ایس ہیر،کیول کرشن سگوترہ،منظور محمد، دھرم،رام منگلو اور اسسٹنٹ رجسٹرار قابل ذکر ہیں ۔
لیکچراروں کاوفد وزیرتعلیم سے ملاقی
جموں //آل جموں کشمیر پلس ٹو لیکچررس فورم کا ایک وفد دیپک شرما کی قیادت میں وزیر تعلیم سے ملاقی ہوا۔اس دوران فورم نے ان کو وزیر تعلیم کے عہدہ پر فائز ہونے پر مبارک باد پیش کیا۔فورم نے پلس ٹو لیکچررس سے جڑے کئی معاملات وزیر کی نوٹس میں لائے اور اس بات پر زیادہ ذور دیا گیا کہ ٹائیم باونڈپروموشن کے تحت ان لیکچررس کو ترجع دی جائے۔ فورم نے ایس آر او 202کے تحت حال ہی میں جو لیکچررس محکمہ میں تعئنات کئے گئے ہیں ان کی تنخواہوں میں تفاوت کی جائے جو ریاستی کابینہ کی طرف سے بھی منظور کیا گیا ہے۔ میٹنگ میں شعبہ فیزیکل ایجوکیشن لیکچررس کی مستقلی اور ان کی تنخواہ کی واگزری جیسے معاملات پر بھی بات کی گئی۔ وزیر موصوف نے فورم کے تمام مسائل غور سے سنے اوران کو حل کرنے کی یقین دہانی کرائی۔اس دوران وزیر موصوف نے فورم کو بتایا کہ تعلیمی نطام میں مزید بہتری لانے کے لئے ہم سب کو مل جل کر کام کرنا ہوگا ۔میٹنگ میںداکٹر جیوتی ملہوترہ ،پونیت ٹھکرال اور سنجے بھگت بھی موجود تھے۔
اگورمیں گوروروی داس کی تعلیمات سے متعلق تقریب
کٹرہ۔اکھنورسڑک بذریعہ دیوا مائی سیاحتی کیلئے اہم :راکیش وزیر
جموں // اگور جموں میں گورو راوی داس مہاراج کی شخصیت کو لوگوں میں اُجاگر کرنے کے لئے ایک عظیم پروگرام منعقد ہوا۔اس دوران ہوٹل و ریسٹورنٹ ایسو سی ایشن کے چیر مین راکیش وزیر مہمام خصوصی کے طور پر موجود تھے اور پٹھان کوٹ سے آئے ہوئے سوامی گردیپ گیری جی مہاراج نے پروگرام کی افتتاحی نشست میں مذہبی رسومات انجام دے کر عوام کو گورو ریوی داس کی عظیم شخصیت کے بارے میں بتایا۔اس دوران گورو نے لوگوں سے اپیل کی کہ ان کو گورو ریوی داس کی کہی گئی باتوں پر عمل کرنا چاہیئے جو آج کے سماج کی ضرورت ہے اور اگر ہم ملک کو مضبوط بنانا چاہتے ہیں۔اس موقع پر راکیش وزیر نے گورو کی زندگی پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ ہمیں ایسے اشخاص کے بتائے گئے راستے پر چلنا چاہئے کیوں کہ انھوںنے ہمیشہ مساوات کا درس دیا ہے جو آج کے دور میں بہت ضروری ہے کیوں کی سماج ذات پات اور مذاہب کی بنا پر بٹتا جا رہا ہے۔انہوں نے اس دوران کٹرہ اکھنور سڑک پروجیکٹ کے بارے میں لوگوں کو جانکاری دی ۔انہوں نے مزیدکہاکہ کٹرہ۔اکھنورروڈ براستہ دیوا مائی سے سیاحت کوبڑے پیمانے پرترقی ملے گی۔ راکیش وزیر نے کہا کہ اس پروجیکٹ کی وجہ سے کٹرہ اور اکھنور کا درمیانی فاصلہ کم ہوگا اور سیاحتی شعبہ میں بھی مزید ترقی ہوگی۔اس پروگرام میں جن لوگوں نے شرکت کی ان میںبابا چنچل،سبھا کے صدر رتن لال،بابو رام،رومیش لال ،اشوک بسان وغیرہ کا نام قابل ذکر ہے۔
واجب الاداتنخواہوں کی واگذاری اوراضافے کامطالبہ
آنگن واڑی ورکروں وہیلپروں کی کام چھوڑہڑتال جاری
طار ق ابرار
جموں//محکمہ سماجی بہبودکے آئی سی ڈی ایس پروجیکٹ کے تحت تعینات آنگن واڑی ورکر اورہیلپراپنے مطالبات کولے کرگذشتہ دوماہ سے زائدعرصے سے سڑکوں پراحتجاجی مظاہرے کررہی ہیں۔تفصیلات کے مطابق سوموارکے روزآنگن واڑی ورکرز اینڈہیلپرس یونین جموں کے پرچم تلے سمن سوری کی قیادت میں پریس کلب سے احتجاجی ریلی نکالی جسے ڈوگرہ چوک سے آگے نہیں بڑھنے دیاگیا۔اس دوران یہ ورکر اپنے مطالبات جن میں آنگن واڑی ورکروں کی ماہانہ اجرت میں اضافہ اورواجب الادامشاہروں کی ادائیگی سرفہرست ہیں کی حمایت اورریاستی حکومت کے خلاف نعرے بازی کررہی تھیں۔اس دوران میڈیاسے بات کرتے ہوئے سمن سوری نے کہاکہ ہم اپنے مطالبات کولے کرلگ بھگ گذشتہ تین ماہ سے احتجاجی ریلیاں اوردھرنے دے رہی ہیں لیکن اس کے باوجودسرکارہماری مانگوں پرکوئی توجہ نہیں دے رہی ہیں۔انہوں نے کہاکہ وزیراعلیٰ محبوبہ مفتی کوچاہیئے کہ وہ منگل کے روزمنعقدہونے والی کابینہ میٹنگ میں آنگن واڑی ورکروں اورہیلپروں کی جائزاوردیرینہ مانگوں کوپوراکرنے کی منظوری دیں ۔انہوں نے کہاکہ اگرحکومت نے ہماری مانگیں پوری نہ کیں توہم اپنے احتجاج میں شدت لانے کیلئے مجبورہوجائیں گے ۔سمن سوری نے مزیدکہاکہ آنگن واڑی ورکروں اورہیلپروں کوبالترتیب 3600اور1800روپے ماہانہ معمولی سا مشاہرہ دیاجاتاہے لیکن دہلی ودیگرریاستوں میں آنگن واڑی ورکروں اورہیلپروں کی تنخواہ بالترتیب 10ہزاراور6ہزارروپے ماہانہ ہے ۔انہوں نے کہاکہ جوکام یہاں پرآنگن واڑی ورکرس کرتی ہیں ،وہی کام دہلی ودیگرریاستوں کی ورکرس بھی کرتی ہیں توپھرتنخواہ میں تفاوت اورناانصافی کیوں ؟۔انہوں نے کہاکہ تاحال ہم ریاستی حکومت سے مایوس ہیں لیکن وزیراعلیٰ محبوبہ مفتی سے امیدکرتی ہیں کہ بحیثیت خاتون ہمارے جذبات کی قدرکریںاورہماری مانگوں کوپوراکرنے کیلئے اقدامات اٹھائیں۔انہوں نے مزیدکہاکہ ہماری ہڑتال کی وجہ سے گذشتہ 83دنوں سے پورے خطے کے آنگن واڑی مراکزبندہیں۔آنگن واڑی ورکروہیلپر احتجاجی مظاہرے کے دوران مشاہرے میں اضافہ اورواجب الادا مشاہروں کی ادائیگی کے علاوہ سینارٹی فہرستیں جاری کرنے ، پنشن سکیم لاگوکرنے اورریٹائرمنٹ کے وقت آنگن ورکروں اورہیلپروں کے حق میں بالترتیب دولاکھ اورایک لاکھ گریجویٹی منظورکرنے کی مانگیں کررہی تھیں۔قابل ذکرہے کہ ریاست جموں وکشمیرمیں لگ بھگ 28ہزارآنگن واڑی ورکراورہیلپرس کام کررہی ہیں۔
آل انڈیابیک ورڈ کلاسزیونین نے وزیرقانون کے فیصلے کوسراہا
جموں//آل انڈیابیک ورڈ کلاسزیونین نے ریاستی وزیرقانون سید بشارت احمد بخاری کے فیصلے کی سراہنا کی ہے ۔ پریس کے نام جاری ایک بیان کے مطابق انہوں نے کہا کہ ہمارے پروموشن کا معاملہ جو بڑی مدت سے کورٹ میں پڑا ہے ایڈوکیٹ جنرل کی عدم توجہ کی وجہ سے ابھی تک زیر بحث نہیں لایا گیا ہے جو قابل تشویش ہے۔انہوں نے مزید کہا کہ ایسی نوعیت کا یہ پہلا مسئلہ نہیں ہے جبکہ 2015میں ایس سی ایس ٹی آٹرو سیئٹس ایکٹ کے متعلق سپریم کورٹ میں ایک کیس تھا جس میں ایڈوکیٹ جنرل کی عدم توجہ کی وجہ سے ابھی تک کچھ ترمیمیں کرنا باقی ہے۔اس لئے وزیر موصوف کی طرف سے اٹھایا گیا یہ قدمفت اسی کیس کی سماعت کے لئے مثبت نہیںہے بلکہ اس طرح کے متعدد کیس موجود ہیں جن پر مزید بحث کرنا باقی ہے جس کے لئے وکلا کو کیس کے فیصلے کے لئے محنت و لگن سے کام کرنا ضروری ہے اور کیس کی سنوائی کے روز کورٹ میں حاضر رہنا ہے۔انہوں نے کہا کہ کئی کیسوں میںکبھی کبھار عرضی داخل کرنے ولے وکلاء کی عدم توجہ کی وجہ سے خسارے میں چلے جاتے ہیں ۔تنظیم کے لیڈران نے وزیر موصوف کے اس فیصلے کی سراہنا کرتے ہوئے کہا کہ وزیر کو ان وکلا کے لئے کوئی ٹھوس قانون مرتب کرنا چاہئے تا کہ وہ اپنا کام محتاتی سے سر انجام دیں اور مرکزی سرکار کو بھی اسی نوعیت کا کوئی ٹھوس قدم اٹھانا چاہئے تاکہ ایس سی ایس ٹی ایکٹ کا معاملہ بھی فوری طور پر حل کیا جا سکے۔تنظیم کی اس میٹنگ میں ممبران کے علاوہ ایڈو کیٹ سوریش ڈوگرہ،پرنسپل درشن لال،راج کمار، اکبر علی،سندوکھ چند،ایم آر بنگوترہ اورپروفیسر کالی داس وغیرہ موجود تھے۔