سرنکوٹ//سرنکوٹ میں واقع محکمہ زراعت کے دفتر میں ملازمین کی ڈیوٹی کے تئیں لاپرواہی کا یہ عالم ہے کہ دن کے سہ پہر تک ایک سٹور کیپر کے علاوہ کوئی بھی ملازم حاضر نہیں پایاگیاجس پر غم و غصہ ہوتے ہوئے مقامی لوگوںنے احتجاجی مظاہرہ کیا ۔ اس دوران تحصیلدار سرنکوٹ روہت شرما نے بھی دفتر کا دورہ کرکے معائنہ کیا ۔ محمد رشید نامی شخص نے بتایا کہ وہ جب بھی دفتر میں آئے تو یہاں کسی افسر کو نہیں پایاگیا اور ایک ہفتہ سے انہیں الجھاکر رکھاگیاہے ۔انہوںنے کہاکہ اس شدید سردی میںانہیں پریشان ہوناپڑتاہے ۔انہوںنے الزام لگایاکہ کسانوں کو وقت پر بیج نہیں ملتا لیکن اس کی کالابازاری کی جارہی ہے ۔ شفیق ملک نے بتایا کہ انہیں مجبوراًاحتجاج کرناپڑاکیونکہ محکمہ کاجنازہ نکلاہواہے ۔محکمہ کے دفتر میںبڑی تعداد میں بفلیاز، سیالاں ،درابہ ،پونی کھیت ،سانگلہ ،درہ سانگلہ، پمروٹ ،کلرکٹل ،ہاڑی مرہوٹ وغیرہ سے لوگ آئے ہوئے تھے ۔احتجاج کی خبر ملتے ہی بارہ بج کر پچاس منٹ پر تحصیلدار سرنکوٹ روہت شرما موقعہ پر پہنچے اور انہوںنے بھی پایاکہ موقعہ پر ایک ہی ملازم حاضر ہے اور کمرے مقفل ہیں ۔موصوف نے گندم کے بیج کی سپلائی سے متعلق چالان ضبط کرلیا اور گندم کے بیج کے چھبیس تھیلے بھی اپنی تحویل میں لے لیا ۔ انہوںنے اس بات کی تصدیق کی کہ چالان ضبط کرلے گئے ہیں اور معاملہ کی تحقیقات کی جارہی ہے ۔