تقسیم ہندسے قبل 1947میں متحدہ کشمیر کا رقبہ 2کروڑ22لاکھ 807مربع کلومیٹر تھا۔ اُسوقت کشمیر کے39قصبہ جات اور 8903دیہات تھے،لیکن آبادی 40لاکھ تھی۔2017میں جموں کشمیر کی آبادی ایک کروڑ 39لاکھ ہے۔1947سے 1960تک کشمیر میں سرکاری ملازمت روزگار کا بنیادی وسیلہ نہیں تھا۔ سرکاری نوکری یا تو کشمیری پنڈت کرتے تھے، یا پھر ارباب اختیار کے قریبی حلقے کرتے تھے۔عام لوگ زراعت، گھروں کے اندر دستکاری یا باغبانی کرتے تھے۔ یہی عوام کی غالب اکثریت کا بنیادی روزگار تھا۔
لیکن حوادثِ زمانہ اور تاریخ کے ارتقاء نے کشمیر میں روزگار کانقشہ ہی بدل دیا ہے۔ اگر ماضی میں کشمیریوں کی محنت کا مرکز و محور زمین زراعت یا دستکاری تھا، آج وہ حکومت اور بیوروکریسی ہے۔ زراعت ، دستکاری اور باغبانی کے شعبوں میں محنت کا وقار وہ نہیں رہا جو تھا۔ اب زمیندار یا باغ کا مالک اپنے بچوں کو بیرون ملک یا بنگلور بھیجتا ہے، اور واپسی پر انہیں سرکاری نوکری دلوانے کے لئے باغ کا ایک حصہ بیچ دیتا ہے۔اسی طرح دوسرے پیشوں کا حال ہے۔ ترکھان، گلکار یا نانوائی بھی اپنے بچوں کو موروثی پیشے میں داخلہ دینے سے ہچکچاتا ہے۔
اس سماجی و معاشی ارتقاء کا نتیجہ کچھ اچھا نہیں ہے۔ آج پورے ہندوستان میںبے روزگاری کی شرح13%ہے جبکہ جموں کشمیر میں یہ شرح 25%ہے۔اس کا مطلب30لاکھ سے زیادہ ایسے نوجوان ہیں جو مکمل یا جزوی طور بے روزگار ہیں۔سرکاری منصوبے اور سکیمیں اپنی جگہ لیکن کشمیریوں نے محنت اور مزدوری کا وقار بحال نہ کیا تو یہ صورتحال ایک قومی بحران کی صورت اختیار کرلے گی۔
ہمارے یہاں روایتی پیشوں اور مجموعی طور محنت مزدوری کے تئیں ایک منفی سماجی رویہ بن چکا ہے۔2011کی مردم شماری کے مطابق جموں کشمیر میں محنت سے جڑے شعبوں میں 43لاکھ 23ہزار ہنرمند یا غیرہنرمند مزدور ہیں۔ ان میں دوسرے درجے کے 16لاکھ79 ہزار ہیں۔ لیکن اس کے باوجود ہمارے روز مرہ کے کام جیسے باغبانی، کھیتی باڑی اور تعمیراتی کاموں میں مزدوری میں غیرریاستی مزدوروں کا غلبہ ہے۔پورے ہندوستان میں خودروزگار وسائل سے زندگی گزارنے والوں کی شرح صرف32%ہے جبکہ بھارتی قومی ایوریج 41%ہے۔ہمارے یہاں مصنوعات اور خدمات میں درکار مزدوروں کی شرح صرف 29فی صد ہے جبکہ ملکی سطح پر یہ اوسط 47%ہے۔
سب سے اہم بات یہ ہے کہ ہماری آبادی کا جو 25%بے روزگار ہے، ان کی عمر18سے29سال کے درمیان ہے۔اس میں پیشہ ورانہ کالجوں اوریونیورسٹیوں سے فارغ ہونے والے ڈگری یافتہ نوجوانوں کی تعداد جوڑ دیں تو یہ تعداد 40%سے تجاوز کرتی ہے۔ان 40فیصد نوجوانوں کو پرائیوٹ سیکٹر میں کوڑیوں کے دام کام پر رکھ کر کہنے کو تو انہیں باعزت روزگار فراہم کیاجارہا ہے لیکن عملی حالت یہ ہے کہ اُن کی حالت عام مزدوروں سے بھی گئی گزری ہے ،فرق صرف اتنا ہے کہ عام مزدور باہر اپنا پسینہ بہاتا ہے جبکہ یہ نوجوان نام نہاد وائٹ کالر جاب کے نام پر مسلسل استحصال کے شکار ہیں اور سماجی طعنہ زنی کے ڈر سے کسی سے کہہ بھی نہیں پاتے ہیں۔ حکومتی دلائل سے قطع نظر مزدور طبقہ کی حالت غیر ہے اور اُن کا کوئی پرسان حال نہیں ہے اور بیروزگاری کے سنگین بحران کی وجہ سے وائٹ کالر مزدوری بھی اب ایک حقیقت بن چکی ہے ۔
مسئلہ یہ ہے کہ کشمیری سماج کا معاشی رویہ موجودہ حالات کی وجہ سے تبدیل ہوگیا ہے۔ محنت یا مشقت اب کوئی باعزت سرگرمی نہیں بلکہ مجبوری کا مظاہرہ ہے۔ جبکہ سرکاری نوکری یا کوئی گلیمر والی جاب معتبر سمجھے جاتے ہیں۔اس رویہ کی وجہ سے ہمارے یہاں بے سمت نوجوانوں کی فوج ہے، جو اپنے موروثی پیشہ کو عار سمجھتے ہیں لیکن سرکاری یا غیرسرکاری سیکٹروں میں انہیں مواقع نہیں ملتے۔ نتیجہ یہ کہ وہ زندگی کو کوئی معنی دینے کے لئے یا تو مذہبی انتہا پسندی کا رُخ کرتے ہیں، یا جرائم کو روزگار سمجھتے ہیں ، یا منشیات کی لت میں تباہ ہوتے ہیں یا پھر خود کو ہی داؤ پر لگا کر کوئی ’بڑا کام‘ کرنا چاہتے ہیں۔
محنت یعنی لیبر کا وقار بحال کرنا وقت کی اہم ضرورت ہے۔ دکاندار، مزدور، ترکھان، نانوانی، بجلی میکینک، موٹر میکینک یا کوئی اور۔ یہ سب ہمارے سماج کا حصہ ہیں۔ اور یہ پیشے بھی اسی طرح محترم ہونے چاہیے جس طرح ڈاکٹر ، انجینئر، افسر یا سیاست کار۔ ایسا اس لئے نہیں ہورہا کیونکہ ہمارے سماجی رویوں پر سیاسی غیریقینی نے زنگ چڑھا دیا ہے۔ یہ زنگ جانا سیاسی مسلہ کے حل سے بھی زیادہ ضروری ہے۔ آخر ایک آزاد ریاست میں بھی ہم کو محنت و مشقت کے ادارے کی ضرورت ہے۔ لیکن فی الوقت اس تبدیلی کے لئے کوئی تیار ہی نہیں ۔ وہ دن دُور نہیں جب ہمارے غسال افغان سے اور کفن جاپان سے آئے گا اور سڑکوں پر مشتعل نوجوانوں کی نفسیات سمجھنے کی کوشش کرتے نظر آئیں گے۔