جموں//جامعہ اسلامیہ غوثیہ رانجن میں ایک تعزیتی اجلاس کاانعقاد کیاگیاجس کی صدارت متہم جامعہ قاری علی اکبرقادری نے کی۔اس دوران جامعہ کے اساتذہ اورطلباء نے تعزیتی مجلس میں شرکت کی اوردنیائے اسلام کی روحانی وعبقری شخصیت حضور تاج الشریعہ وارث علوم اعلیٰ حضرت امام احمد رضا خان فاضل بریلوی علامہ مفتی الشاہ محمد اختر رضا خان ازہری جانشین حضور مفتیٔ اعظم ہند کے وصال پر گہرے رنج ودُکھ کااظہارکیا۔اس دوران خطاب کرتے ہوئے جامعہ اسلامیہ غوثیہ رانجن کے مہتمم قاری علی اکبرودیگر علماء کرام نے کہاکہ حضور شیخ الاسلام والمسلمین علامہ محمد اختر رضا خان ازہری کا وصال پرملال پورے عالم اسلام کے لئے ایک عظیم سانح ہے اور وہ علماء و محدثین فقہا و مفسرین کے مرجع ومآب تھے اور 75 برس کی عمرمیںعالم اسلام کو داغ مفارقت دے کر اپنے مالک حقیقی سے جا ملے اور اس مختصر سی زندگی میں لاکھوں علماء ومشائخ کو اپنی خداداد صلاحیت ولیاقت معرفت وعرفاں کا ایسا شیدا ئی بنایا کہ وہ صبح قیامت تک بھٹکے ہوئے انسانوں کو خدا و رسول کی اطاعت وفرمانبرداری کی راہوں پر گامزن کرنے کا عظیم فریضہ انجام دیتے رہیں گے ۔انہوں نے کہاکہ حضور پیشوائے اہلسنت نے اپنی پوری زندگی کی ایک ایک سانس کو اللہ ورسول کی رضا اور دین اسلام کی ترقی وبقا کیلئے وقف فرما دی اورکرووڑوں گم گشتگان ِ راہ ہدایت کو ایمان واسلام کی انمول نعمت سے سرفراز فرمایا۔اس دوران شرکاء نے پسماندگان،مریدین متوسلین سے اظہارتعزیت کرتے ہوئے اللہ تعالیٰ سے دعافرمائی کہ رشدوہدایت اورعلم وعمل کے پیکرمرحوم کے درجات بلندفرمائے اور خانوادۂ اعلیٰ حضرت سے اس کا نعم البدل دنیائے اسلام کو عطا فرمائے۔ قابل ذکرہے کہ جمعرات یعنی 20 جولائی بروز جمعہ بوقت شام وارثِ علوم اعلیٰ حضرت جانشین مفتی اعظم تاج الشریعہ علامہ مفتی اختر رضا خان قادری ازہری میاں (قاضی القضاء فی الہند) وصال فرما گئے تھے۔ گذشتہ عرصہ سے حضور تاج الشریعہ علیل تھے۔ آپ کا وصال اہلسنّت و جماعت کا عظیم نقصان ہے۔ آپ عالمی سطح پر قائد کی حیثیت سے جانے جاتے ہیں۔ آپ کا وصال اسلامی دنیا کا بہت بڑا نقصان ہے۔ آپ اعلیٰ حضرت کے نبیرہ اور حضور مفتی اعظم کے جانشین تھے۔ قاضی القضاء فی الہند کے منصب پر فائز تھے۔ آپ نے دارالافتاء بریلی شریف کی مسندسے کثیر فتاویٰ جاری فرمائے۔ بریلی میں عظیم اسلامی یونیورسٹی قائم کی۔ آپ کی نگرانی میں شرعی کونسل ا?ف انڈیا بریلی شریف ایک عرصے سے اسلامیان ہند کی شرعی رہنمائی کیلئے متحرک ہے۔ عربی، اردو،انگریزی میں متعدد کتابیں تصنیف کیں۔ درجنوں کتبِ اعلیٰ حضرت کو عربی میں ترجمہ کیا۔ نیز متعدد کتب کو عربی سے اردو میں ترجمہ کیا۔آپ عرب و عجم میں یکساں مقبول تھے۔ سلسلۂ قادریہ کی وسیع پیمانے پر اشاعت کی۔لاکھوں مریدین پوری دنیا میں پائے جاتے ہیں۔ تقویٰ و استقامت میں بے نظیر اور اپنی مثال آپ تھے۔
دارالعلوم حنفیہ قادریہ درگاہ شریف سائیں بابا میراں بخش کا خراج عقیدت
پونچھ// دنیائے اسلام کی روحانی وعبقری شخصیت حضور تاج الشریعہ وارث علوم اعلیٰ حضرت امام احمد رضا خان فاضل بریلوی علامہ مفتی الشاہ محمد اختر رضا خان ازہری جانشین حضور مفتیٔ اعظم ہند کے وصال پر دارالعلوم حنفیہ قادریہ میں اپنی عقیدتوں کے خراج پیش کرتے ہوئے علماء کرام نے بیان کیا کہ حضور شیخ الاسلام والمسلمین علامہ محمد اختر رضا خان ازہری کا وصال پرملال پورے عالم اسلام کے لئے ایک عظیم سانح ہے اور وہ علماء و محدثین فقہا و مفسرین کے مرجع ومآب تھے اور آج پچھتر سال کی عمر میں پورے عالم اسلام کو داغ مفارقت دے کر اپنے مالک حقیقی سے جا ملے اور اس مختصر سی زندگی میں لاکھوں علماء ومشائخ کو اپنی خداداد صلاحیت ولیاقت معرفت وعرفاں کا ایسا شیدا بنایا کہ وہ صبح قیامت تک بھٹکے ہوئے انسانوں کو خدا و رسول کی اطاعت وفرمانبرداری کی راہوں پر گامزن کرنے کا عظیم فریضہ انجام دیتے رہیں گے اور حضور تاج دار اہلسنت کے مشن کو زندہ وجاوداں کوئی دقیقہ فروگذشت نہیں کریں گے حضور پیشوائے اہلسنت نے اپنی پوری زندگی کی ایک ایک سانس کو اللہ ورسول کی رضا اور دین اسلام کی ترقی وبقا کیلئے صرف فرما دی کرووڑوں گم گشتگان ِ راہ ہدایت کو ایمان واسلام کی انمول نعمت سے سرفراز فرمایا اس ضمن میں شرکاء مجلس نے اپنے اپنے انداز میں پسماندگان ،مریدین ومتوسلین سے اظہار تعزیت کرتے ہوئے التجا کی کہ رب لم یزل سب کو صبر جمیل نصیب فرمائے اور پیکر علم وعمل کے درجات میں بے پناہ بلندیاں وعروج عطا فرمائے اور خانوادۂ اعلیٰ حضرت سے اس کا نعم البدل دنیائے اسلام کو عطا فرمائے دارالعلوم حنفیہ قادریہ میں بعد نماز ظہر قرآن خوانی اور کلمات طیبات کے ساتھ ساتھ نعت ومنقبت اوراشکبار آنکھوں کیساتھ یہ دعائیہ مجلس اختتام پذیر ہوئی اس موقع پردارالعلوم ہذا کے پرنسپل قاری محمد منظور حسین قادری ،مرکزی جامع مسجددربار شریف کے پیش امام وخطیب مولانا مفتی لیاقت حسین سعدی ،مولانا حافظ عبدالرشید مصباحی ؔ ،مولانا حافظ مشتاق احمد نعیمیؔ اور حافظ عبدالحمید قادری نے شرکت کی ۔