مینڈھر//گورسائی کے لوگوںنے ماڈل ولیج کے معاملے پر گائوں کے ساتھ دھوکہ کرنے کا الزام عائد کرتے ہوئے کہاہے کہ اس بارے میں آزادنہ تحقیقات کروائی جائے ۔لوگوں کا ایک اجلاس منعقد ہواجس کی صدارت اشفاق حسین شاہ سابق سرپنچ گورسائی نے کی ۔اس موقعہ پر یہ بتایاگیاکہ گورسائی کو ماڈل ولیج کے طور پرمنتخب کیا گیاہے لیکن اس سے پہلے مقامی لوگوں سے اس بارے میں مشاورت نہیں کی گئی اورمرتب کئے گئے پلان میں حیران کن طور پر کالابن اور پڑاٹ گائوں کو بھی گورسائی کے ساتھ رکھاگیاہے جبکہ محکمہ مال کے ریکارڈ میں ان گائوں کا آپسی جوڑ ہی نہیں ۔مقامی لوگوںنے کہاکہ کالابن کو بھی گورسائی کے ساتھ جوڑ کر ماڈل ولیج کیلئے منتخب کیاگیاہے جو گورسائی کے ساتھ ناانصافی اورسراسر دھوکہ ہے ۔ان کاکہناہے کہ اگر گورسائی کو ماڈل ولیج بناناہے تو پھر اس میں گورسائی کی سبھی پنچایتیں شامل ہونی چاہئیں ، باہر کی پنچایتوں کو گورسائی سے جوڑ کر اسے ماڈل بنانے کی انہیں کوئی ضرورت نہیں ۔سابق سرپنچ گورسائی حاجی منشی نے کہا کہ وہ ریاست اور مرکز کی حکومت سے اپیل کرتے ہیں کہ اس معاملے میں ایک کمیشن مقرر کرکے تحقیقات کروائی جائے اور گائوں کے لوگوں کی مشاورت سے منصوبہ مرتب کیاجائے نہ کہ ان کے مرضی کے خلاف کام کیاجائے ۔انہوںنے کہاکہ لوگ وہی منصوبہ پیش کریںگے جس سے پورے گائوں کوفائدہ ہو لیکن کچھ مفاد خصوصی رکھنے والے لوگ اپنے مفاد ات کو ملحوظ نظر رکھ کر منصوبہ مرتب کررہے ہیں جو ان کیلئے ناقابل قبول ہے ۔اجلاس میں سردار نذیر احمد، سفیر حسین شاہ،امتیاز احمد خان،طارق خان،مذکور حسین شاہ، محمد عارس خان،محمد اقبال خان،قربان حسین شاہ،محمد شریف،منصور خان،حاجی منشی، محمد اسلم خان ،خادم حسین، وقار احمد خان،مظفر حسین شاہ ،مختار حسین شاہ، حاجی محمد شفیق خان،محمد خورشید،محمد سعید، شوکت علی، محمد مرتضیٰ علی شاہ،عمران احمد خان، لیاقت حسین،غلام نبی،بابی خان ،رئیس احمد خان وغیرہ بھی موجو دتھے ۔