عبادت اور تقویٰ کے مقدس مہینے ماہ رمضان کا استقبال مسلمانوں نے آج ایسے حالات میں کیا کہ عبادتوں کے سارے مراکز ان کے لئے بند ہیں ۔باجماعت نماز ممنوع ہے ۔ گھروں سے باہر نکلنے پر پابندی ہے ۔ایک دوسرے سے ملنے پر بھی قدغن ہے ۔مسلمان اس پر انتہائی افسردہ ہے اور سوچ رہا ہے کہ ایسا کیوںہوا ۔اس کے لئے اس کے سارے عبادت خانے بند کیوں ہوئے۔ پھر یہ سوچ کر اپنے آپ کو تسلی دیتا ہے کہ اسی کے نہیں بلکہ سارے مذاہب کے عبادت خانے بند پڑے ہیں ۔ نہ کسی کو چرچ میں جانے کی اجازت ہے اور نہ مندر میں۔اسے یقین ہے کہ اللہ ناراض ہے اورعین ممکن تھا کہ وہ اپنا محاسبہ کرتا ۔ اپنے اعمال کو ٹٹولتا اور اپنی اصلاح کرنے کی کوشش کرتا لیکن اس کی صفوں میں موجود بہت سے لوگ دانشوری کا لبادہ اوڑھ کر خود ساختہ تاویلیں لیکر آتے ہیں اور اسے یہ یقین دلانے کی کوشش کرتے ہیں کہ جو کچھ بھی ہورہا ہے وہ اللہ کی مرضی نہیں بلکہ یہ اس کے اور عالم انسانیت کے دشمنوں کی ایک بہت بڑی سازش ہے اور ورلڈ آڈرتبدیل کرنے کا ایک بہت بڑا منصوبہ ہے ۔ان کے مضبوط دلائل مسلمان کو تصورات کی ایک نئی دنیا میں لے جاتے ہیں جہاں وہ دور دور تک بھٹک کر کھوجاتا ہے ۔
سوشل میڈیا جہاں افواہیں ، غلط بیانیاں ، نفرتیں اور شرانگیزیاں پھیلانے کا سب سے بڑا ذریعہ بن چکا ہے وہاں گمراہیاں پھیلانے میں بھی اس کا ایک بڑا کردار رہا ہے ۔حال ہی میں سوشل میڈیا پر ایک ویڈیو وائرل ہوا جس میں ایک نیوز چینل کسی دانشور سے کرونا وائرس کے بارے میں سوال کرتی ہے کہ اس کی دانست میں اس وائرس کی حقیقت کیا ہے ۔دانشور صاحب خم ٹھونک کر فرماتے ہیں کہ یہ خیال بالکل غلط ہے کہ یہ ہلاکت خیز وائرس اللہ کا پیدا کیا ہوا ہے ۔ پہلے وہ کہتا ہے کہ یہ وائرس نہیں بلکہ وائرس کا ہوا ہے جسے جان بوجھ کر کھڑا کیا گیا ہے ۔جب اس سے پوچھا جاتا ہے کہ اس سے تو ہزاروں لوگ مررہے ہیں تو وہ فرماتے ہیں کہ جو لوگ فلو سے مرتے ہیں انہیں کرونا سے منسوب کیا جاتا ہے اور بڑھا چڑھا کر مرنے والوں کی تعداد پیش کی جاتی ہے ۔اس کے بعد ان کا کہنا ہے کہ یہ انسان کا پیدا کیا ہوا وائرس ہے اور یہ بہت بڑا سازشی منصوبہ ہے جس کا مقصد ورلڈ آرڈ کو تبدیل کرنا ہے ۔ سب سے پہلے اس کا مقصد چین اور ایران، جو امریکہ کے سب سے بڑے دشمن ہیں ،کو ختم کرنا تھا۔ اس لئے وائرس چین میں نمودار ہوا اور اس کے بعد ایران اس کی لپیٹ میں آیا ۔ یہ بات سن کر نیوز چینل کا اینکر سوال کرتا ہے کہ امریکہ تو اس وائرس کا سب سے زیادہ شکار ہوچکا ہے اور وہاں ہزاروں کی تعداد میں لوگ مررہے ہیں تو دانشور جواب دیتا ہے کہ وائرس امریکہ نے پیدا نہیں کیا بلکہ یہ صیہونیوں کا منصوبہ ہے ۔ یہ اسرائیل کی سازش ہے ۔ جب اس سے پوچھا جاتا ہے کہ امریکہ تو اسرائیل کا سب سے بڑا حامی ہے تو جواب ملتا ہے کہ صیہونی امریکہ کو بھی ایک عظیم طاقت کی حیثیت میں باقی نہیں رکھنا چاہتے کیونکہ اس طرح سے ان کے مقابل ایک اور طاقت باقی بچے گی ۔ پھر پوچھا جاتا ہے کہ اسرائیل تو خود بھی اس وائرس کا شکار ہے اور وہاں بھی لوگ مرررہے ہیں تو دانشور اس سوال کے جواب میں سوال کرتا ہے کہ آپ کے پاس کیا ثبوت ہے کہ وہاں لوگ مررہے ہیں ۔ وہ اپنے جرائم کو چھپانے کے لئے غلط اطلاعات بھی پھیلاسکتے ہیں ۔اس کے بعد دانشور پورے منصوبے کے خد و خال پیش کرتے ہوئے کہتا ہے کہ مجھے معلوم نہیں دنیا کو کیا ہوگیا ہے کہ وہ سمجھ نہیں پارہی ہے ۔ گریٹر اسرائیل کے منصوبے کی تکمیل کا مرحلہ آچکا ہے اور اس صیہونی منصوبے میں دنیا کے بہت سے ملکوں کو دانے دانے کا محتاج بنانا اور دنیا کی آبادی کے ایک بڑے حصے یعنی سات ارب کی آبادی میں چار ارب لوگوں سے بھی زیادہ کوموت کے گھاٹ اتاردینا ہے،کچھ کو وائرس سے مارا جائے گا ۔ کچھ کو بھوک سے اور کچھ کو اس ویکسین سے مارا جائے گا جو تیار کرلیا گیا ہے لیکن اسے سامنے لانے کاوقت مقرر کردیا گیا ہے ،اس سے پہلے اسے سامنے نہیں لایا جائے گا ،سائنس کے سب بڑے اداروں اور ویکسین بنانے کی کمپنیوں پر صیہونیوں کا مکمل کنٹرول ہے،عالمی ادارہ صحت پر بل گیٹس کا مکمل کنٹرول ہے، اس لئے جو کچھ بھی دنیا والوں کو بتایا جارہا ہے اس کا سکرپٹ صیہونیوں کا تیار کیا ہوا ہے ۔یہ خیال اور یہ دلیلیں کسی بھی انسان کو قائل کرنے کے لئے کافی ہیں، خاص طور پر ا س وقت جب کئی اسلامی سکالر احادیث کی روشنی میں یہ پیشن گوئیاں کررہے ہیں کہ گریٹر اسرائیل ضرور اور ضرور قائم ہوگا جس میں عرب کا وسیع و عریض علاقہ شامل ہوگا ۔مصر ، اردن ، شام ، عراق یہاں تک کہ سعودی عرب کا ایک بڑا علاقہ بھی ا س میں شامل ہوگا ۔چنانچہ مسلمانوں کا یہ یقین پختہ ہوتا جارہا ہے کہ کرونا وائرس بھی یہودیوں کا ہی پیدا کردہ ہے اور گریٹر اسرائیل بھی قائم ہونا ہے ۔اس یقین کے بعد کسی مسلمان کے لئے نہ کچھ سوچنے کی جگہ باقی رہتی ہے اور نہ کچھ کرنے کی ۔اسے صرف دیکھنا اور انتظار کرنا ہے ۔ایک طرف دیکھنے اور انتظار کرنے کی یہ ذہنیت پیدا کی جارہی ہے اوردوسری طرف یہ بھی بتایا جارہا ہے کہ اسلام کا ایک لشکر اٹھے گا جو برصغیر کو تاراج کرتے ہوئے مسلمانوں کا اقتدار قائم کرے گا ۔حالانکہ بیک وقت ان دونوں واقعات کا وقوع پذیر ہونا ممکن نہیں کیونکہ صیہونی سپر پاور کے قیا م کے بعد مسلمانوں کا کہیں بھی سراٹھانا اسے منظور نہیں ہوگا ۔مسلمان اپنے دانشوروں اور عالموں سے سوال نہیں پوچھ سکتا کیونکہ اسے عقیدوں کے سحر میں مبتلا کرکے تحقیق کرنے اور سوچنے کی صلاحیت سے محروم کردیا گیا ہے ۔اگر گریٹر اسرائیل کا قیام یقینی ہے تو کیا یہ اللہ کی ہی مرضی ہے اور اگر یہ اللہ کی مرضی ہے تو کیا مسلمان کو اس پر لبیک کہنا ہے کیونکہ اللہ کی مرضی پر لبیک کہنا مسلمان کے ایمان کا حصہ ہے ۔جو لوگ گریٹر اسرائیل کو لازمی اور یقینی بتا کر اسے اللہ کی مرضی جتلا رہے ہیں وہی مسلمانوں میں جہاد کی تبلیغ بھی کررہے ہیں تو سوال پیدا ہوتا ہے کہ اگر گریٹر اسرائیل کا قیام لوح ازل میں لکھا ہوا ہے تو پھر مسلمان کیوں اللہ کی مرضی کے خلاف جہاد کرے گا ۔
علماء کے پاس علم کا وسیع ذخیرہ ہوتا ہے، اسلئے ان کے خیالات سے اختلاف کی گنجائش نہیں لیکن اس بات پر اعتراض کی گنجائش ہے کہ وہ یا تو ماضی کے رومان میں مسلمانوں کا ذہن بھٹکا دیتے ہیں یا مستقبل کے امکانات کے مدد و جزر میںاسے ہچکولے کھانے پر مجبور کرتے ہیں جبکہ حال سامنے پڑا ہے اور اس کے بے پناہ مسائل کا سامنا بھی ہورہا ہے ۔ ان سے نظریں ہٹا کر کیسے مستقبل کی کوئی حصولیابی ممکن ہوسکتی ہے۔حال خراب ہو تو مستقبل اور زیادہ خراب ہونا یقینی ہے ۔پھر اسلام کا نظریہ ماضی سے تجربات حاصل کرنے اور مستقبل کو اللہ پر چھوڑنے کی ہی تعلیم دیتا ہے ۔ وہ صرف مسلمان کے لئے حال کا کرداروضع کرتا ہے اور اسی پر معاشرے کی ساری اساس کھڑی کرتا ہے ۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ مسلمانوں کے خلاف صیہونیوں نے بہت بڑی اور گہری سازشیں کی ہیں اور انہی سازشوں کا یہ نتیجہ ہے کہ مسلمان پوری دنیا میں ایک دوسرے کا خون بہانے کے سوا اور کچھ نہیں کررہے ہیں لیکن مسلمان اتنا گیا گزرا کیوں ہے کہ وہ ہر سازش کے جھانسے میں آسانی کے ساتھ آتا رہا ہے ۔یہ دانشور اور یہ علما ء اس میں ان سازشوں کا شعورپیدا کرنے کا مادہ پیدا کیوں نہیں کرتے اور ان کا توڑ کرنے کا راستہ کیوں نہیں بتاتے ۔ جوکچھ بھی دنیا میں ہونا ہے ،وہ اللہ کی مرضی سے ہی ہونا ہے اور وہ ہوکر ہی رہے گا لیکن کیا کب ہونا ہے، یہ اللہ ہی جانتا ہے ۔ اس لئے کب کیا ہونا ہے، یہ مسلمان کے لئے کوئی اہمیت نہیں رکھتا ۔ اللہ نے اس کو ہر صورتحال میں جو کردار ادا کرنے کے لئے پیدا کیا ہے اور پیغمبر اسلامؐ نے اسے جس کی تعلیم دی ہے، اسے تو وہی کرنا ہے ۔کرونا وائرس میں بھی اس کا ایک کردار ہے، جسے ادا کرنے کے لئے اسے تیار ہونا چاہئے تھا ۔ اس خوفناک صورتحال میں اسے یہ ثابت کرنا تھا کہ وہی ایک ہے جو ایسے حالات کامقابلہ کرنے کا عالم انسانیت کو راستہ دکھا سکتا ہے کیونکہ اسے اس کے مذہب نے اسی لئے تیار کیا ہے ،اسے اس وائرس کے خاتمے کے لئے نمایاں کردار ادا کرنا ہے ، اسے یہ بھی دیکھنا ہے کہ اللہ کیو ں انسانوں سے ناراض ہے۔ توبہ کے دروازے بھی کھلے ہیں اور اس کے لئے رہنما اصول بھی موجود ہے مگر وہ نہ غو ر و فکر کے لئے تیار ہے اور نہ درست عمل کے لئے ۔