جموں// نیشنل پنتھرس پارٹی کے سرپرست اعلیٰ پروفیسر بھیم سنگھ نے راجستھان ، حیدرآباد اور دیگر مقامات پر سفر کے دوران چہرے پر ماسک نہ پہننے‘ پر پولیس کی زیادتیوںکو چیلنج کیا ہے۔ یہاں جاری بیان کے مطابق پروفیسر بھیم سنگھ نے سڑکوں پر چلنے اور خریداری کے لئے جاتے معصوم لوگوں پر پولیس کارروائی کو غیرقانونی، غیرآئینی اور قانون کی نگاہ میں ناپسندیدہ قرار دیا اور پولیس کی اس کاروائی کی مذمت کی ۔ انہوں نے کہاکہ راجستھان سرکار کے آرڈی ننس یا کسی بھی ریاست کے آرڈی ننس کے ذریعہ دیئے گئے اختیارات کو جائز/ باجواز قرار نہیں دیا جاسکتا ہے کیونکہ کوئی بھی ریاست یا حتیٰ کہ مرکزی حکومت کو کسی بھی ایسے ایکٹ کے لئے سزا عائد کرنے کا اختیار حاصل نہیںہے، جس کوہندستان کے آئین میں متعین نہیں کیا گیا ہے ۔انہوں نے پی ٹی آئی کی اس رپورٹ کی تعریف کی جو اس نے گزشتہ روز دیر شام سنت نگر پولیس اسٹیشن میں ایک پولیس کانسٹبل کے ہاتھوں جمعہ کی رات چہرے پر ماسک نہ پہننے والوں کی پیٹائی کی دی ہے۔ انہوں نے وکلاء سے چہرے پر ماسک نہ پہننے والے معصوم لوگوں پر پولیس کی کارروائی کے معاملات کو اٹھانے کی صلاح دی ہے۔ انہوں نے کہا ہے کہ پولیس کسی شخص کو ماسک نہ پہننے پر ، جس کی صلاح ڈاکٹروں /صحت مشیروں نے دی ہے لیکن ہندستانی آئین میں قانون طورپر پیش نہیں کیا گیا ہے، کسی پر بھی 200یا 500روپے کا جرمانہ بھی نہیں لگا سکتی ہے۔انہوں نے کہاکہ عالمی صحت تنظیم (ڈبلیو ایچ او) نے چہرے پر ماسک پہننے کا مشورہ کووڈ۔19کے مریضوں کے انفیکشن سے بچنے کے لئے دیا ہے۔ ڈبلیو ایچ او نے کہاہے کہ اگر آپ کسی ایسی جگہ پر جائیں جہاں سوشل ڈسٹینسنگ ممکن نہ ہو تو آپ چہرے پر ماسک کا استعمال کریں۔ پنتھرس سربراہ نے کہاکہ ڈبلیو ایچ او نے کسی بھی شخض کو سڑک پر چلنے والے معصوم لوگوں کو چہرے پر ماسک نہ پہننے کے لئے سزا یا مارنے کا قانون بنانے کا مشورہ نہیں دیا۔