بشیر اطہر
تعلیم ایک ایسا پلیٹ فارم ہے جس میں نوجوان پیڑی کو تربیت فراہم کرکے آنے والی زندگی کےلئے تیار کیا جارہا ہے اور آنے والے چیلنجوں کا مقابلہ کرنے کیلئے انہیں تعلیم کے ساتھ ساتھ تربیت بھی فراہم کی جارہی ہے تاکہ انہیں روزگار ڈھونڈنے میں کوئی دشواری پیش نہ آئے۔ اگرچہ ہندوستانی نظام تعلیم دنیا بھر میں متنوع تعلیمی نظام تصور کیا جارہا ہے ،یہی وجہ ہے کہ ہندوستان کی تعلیمی نظام میں نئی نئی تبدیلیاں رونما ہورہی ہیں، پالیسیاں بدل رہی ہیں مگر پھر بھی یہ تعلیمی نظام ہماری آنے والی نسلوں کو اپنا روزگار کمانے کےلئے مثبت ثابت نہیں ہورہا ہے اور ہمارے پڑھے لکھے نوجوان اخلاقی اقدار سے عاری ہورہے ہیں اور ملک میں باقی ممالک کے مقابلے میںبیروزگاری بڑھ رہی ہے۔جس کے پیش نظرملک بھر میںیہ بات محسوس کی جارہی ہے کہ ہمارے تعلیمی نظام میں کہیں نہ کہیں ایسانقص موجو ہے جس کی وجہ سے ہم اپنے ملک کےلئے ایسےشہری فراہم نہیں کرسکتے ہیں جو اخلاقی طور اعلیٰ اور فنی لحاظ سے تربیت یافتہ ہو۔اس بات پر چرچے ہوئے اور آخر کار یہ طے پایا گیا کہ ہمیں اپنی تعلیمی پالیسی کا قبلہ سیدھا کرنا پڑے گا کیونکہ پرانی پالیسیوں کی وجہ سے ہم قوم کوتعلیم یافتہ نوجوان فراہم تو کرتے ہیں مگر مہارت یافتہ اور اخلاقی طور اعلی نوجوان فراہم کرنے سے ابھی تک قاصر ہیں۔ اسی نقص کو دور کرنے کےلئے 2020میں نئی تعلیمی پالیسی کو مرتب کیا گیا ہے، جس کو اب NEP 2020یا(NATIONAL EDUCATION POLICY 2020)سے جانا جاتا ہے ،اس پالیسی کو مرتب کرنے کےلئے ایک اعلیٰ سطحی کمیٹی تشکیل دی گئی، جس کے چیرمین ڈاکٹر کرشنا سوامی کستوری رنجن( انڈین سپیس ریسرچ آرگنائزیشن کے سابق چیرمین) تھے ۔نیشنل ایجوکیشن پالیسی 2020 کے مرتب کردہ رہنما خطوط کے مطابق اساتذہ کو یہ کام سونپا گیا ہے کہ انہیں قوم کو ایسے تعلیم یافتہ نوجوان فراہم کرنے ہیں جن میں بہترین شہری بننے کی صلاحیت ہو ، جو اخلاقی طور اعلیٰ،علم ریاضی میں ماہر اور فنی لحاظ سے تربیت یافتہ ہوں۔اس پالیسی کو لاگو کرنے کےلئے انہوں نے کہا کہ ایک مشن کے تحت یہ کام اسکولوں میں انجام دیا جائے گا اور اس مشن کا نام انہوں نے NIPUN(National Initiative For Proficiency In Reading with Understanding Numeracy) رکھا ہے۔ اس مشن کے مطابق FLN یعنی Foundaional Literacy and Numeracy کو اہمیت دی جائے گی اور بنیادی خواندگی کو اعداد کے ساتھ ساتھ بڑھاوا دینا جیسی تجدیدیت لائی گئی۔ پالیسی کے مطابق اب اساتذہ کو مقدار اوروُسعت پر کام نہیں کرنا ہے بلکہ قابلیت اور خصوصیت کے علاوہ بچوں کے تنقیدی سوچ اور تصوراتی تجزیہ پر دھیان دینا ہوگا۔کمیٹی نے واضح کیا ہے کہ اب ہمیں صرف طالب علموں کے رپورٹ کارڈ پر توجہ مرکوز نہیں کرنی ہے بلکہ ہمیں ان سے یہ بھی باور کرانا ہے کہ اصل میں طالب علم کے فرائض کیا ہیں ۔ڈاکٹر کستوری رنجن کہتے ہیں کہ” ہم نے ایک ایسی تعلیمی پالیسی مرتب کی ہے جو پیشہ ورانہ صلاحیت رکھنے کے ساتھ ساتھ کثیرالجہت بھی ہو، ہم نے دیکھا ہے کہ ہمارےپرانے تعلیمی نظام میں ترقی اور نشوونما کےلئے کوئی یکسانیت نہیں پائی جاتی تھی مگر نیشنل پالیسی آف ایجوکیشن 2020 میں ان چیزوں میں یکسانیت پائی جائے گی۔ نئی تعلیمی پالیسی میں(Foundational Literacy and Numeracy)پر بہت زیادہ توجہ مرکوز کرنے کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے پالیسی مرتب کرنے والوں نے تعلیمی نظام کو کئی مرحلوں میں تقسیم کیا ہے، جس میں بنیادی مرحلہ پانچ سال کا ہےجس کو انہوں نے المنٹری سٹیج بھی کہا ہے، جس میں تین سے آٹھ سال تک کے بچوں کو بنیادی تعلیم کے ساتھ ساتھ انہیں تنقیدی سوچ،تجزیہ اور تصوراتی وضاحت جیسے اہم نکات کو ابھارنا شامل ہے۔ یہ سب چیزیں انہیں تیسری جماعت تک سکھائیں جائیں گے کیونکہ فلسفیوں نے کہا ہے کہ ’’آٹھ سال تک بچہ جو کچھ سیکھتا ہے بڑا ہوکر وہ اسی کی تصویر کشی کرکے اس کو شکل دینے کی کوشش کرتا ہے، اسی لئے پہلے آٹھ سال بچے کی تربیت کےلئے سب سے اہم ہیں‘‘۔NEP2020 کے مطابق آٹھ سال کے بعد دو سال Preparatory یعنی تمہیدی سال ہیں، ان دو سالوں میں تعلیم،تربیت، آرٹ اور کرافٹ، ماحولیاتی آگاہی اور حفظان صحت کے ساتھ ساتھ انہیں زندگی کے مختلف اور کٹھن راستوں سے نکلنے کی تربیت بھی فراہم کی جائے گی، اس کے بعد تین اور چار سال مڈل اور سیکنڈری سٹیج کےلئے رکھے گئے ہیں۔ سیکنڈری سٹیج میں طالب علموں کو تعلیم کے ساتھ ساتھ انفارمیشن ٹیکنالوجی کے ساتھ ساتھ کثیرالجہت فنون بھی سکھائیں جائیں گے تاکہ وہ زندگی کے چیلنجوں کے ساتھ بہ آسانی مقابلہ کرسکیں گے۔NEP 2020 میں یہ تجویز بھی رکھی گئی ہے کہ جو موجودہ امتحانی سسٹم ہے، اس میں بھی تجدید لانے کی ضرورت ہے۔ اب بچوں کی Competency دیکھی جائے گی ،جس میں ایک بچے کی Cognition, Skill اور Attitude دیکھا جائے گا اور اسی حساب سے انہیں پوئنٹس ملیں گے،اس سکیم کے تحت نمبرات حاصل کرنے کے سلسلے کو ختم کیا گیا ہے۔ NEP2020 میں تشخیص کےلئے تین معروف ٹرم والی تشخیص کو مقرر کیا گیا ہے، ان میں Assessment Of Learning, Assessment For Learning اورAssessment As Learning جیسے آلات سے بچے کی صلاحیت کو ناپا جائے گا، اس تشخیص کےلئے حفظ(Remembering) رکھنے کےلئے 15فیصد، سمجھنے(Understanding) کےلئے20فیصد،اطلاق(Applying)کےلئے25فیصد،تجزیہ(Analysing)کےلئے15فیصد،جانچنے(Evaluating)کےلئے15فیصد اورایجاد(Creating) کےلئے 10 فیصد رکھے گئے ہیں۔Assessment میں یہ بھی واضح کیا گیا ہے کہ اگر ایک طالب علم ان میں سے کسی بھی تشخیص میں کامیاب نہیں ہوا تو اس کو تب تک روکا جائے گا جب تک نہ وہ اس میں کامیابی حاصل کرے۔پالیسی بنانے والوں نے کہا ہے کہ اس سکیم کو لاگو کرنے سے طالب علموں میں مقابلہ کرنے کی صلاحیت پیدا ہوجائے گی۔سکیم یہ بھی عیاں کرتی ہے کہ آنگن واڈی سینٹروں کو اب اسکولوں کے ساتھ ضم کیا جائے گا تاکہ بچوں کے پہلے دو سال کے بعد والے تین سال ضائع نہ ہوجائیں اور ان تین سالوں میں ان میں ایک پختگی لائی جائے گی تاکہ وہ بہ آسانی پہلی جماعت میں شمولیت کرسکیں گے۔ NIPUN کے مطابق پہلی جماعت میں داخلہ لینے کےلئے بچوں کےلئے ایک تین ماہ کا کورس رکھا گیا ہے، جس کا نام انہوں نے “ودیّا پرویش” رکھا ہے ۔ودیّا پرویش میں بچوں کوکتابوں کے بغیر ایک ایسا ماحول فراہم کیا جائے گا تاکہ وہ پہلی جماعت میں اطمینان بخش رہیں۔اس مشن میں کامیابی حاصل کرنے کےلئے2023سے 2025تک کا وقت دیا گیا ہے، یعنی 2025 کے بعد پہلا تشخیص عمل میں لایا جائے گا ، اس کے تین سال بعد پھر سے تشخیص کیا جائے گا اور دیکھا جائے گا کہ بچے کس لیول پر پہنچ گئے ہیں۔ کیونکہ میں نے پہلے ہی کہا ہے کہ NIPUN کا مقصد تعلیمی نظام کو تصمیم کرنا ہے، اسی لئے اس نظام کی اس طرح خوبصورت تصنّع کی گئی ہے۔اس پالیسی سے گورنمنٹ کے تحت چل رہے اسکولی نظام میں بھی بہتری آنے کی توقعات بڑھ جائیں گے کیونکہ آج تک سرکاری اسکولوں میں تین سال کے بچوں کےلئے کوئی بھی جگہ نہیں تھی ،یہاں گریڈ سسٹم نہیں تھا اب ان اسکولوں میں گریڈ سسٹم رکھا گیا ہے۔ تیسرے سال کے بچے کو پہلی گریڈ میں چوتھے سال کے بچے کو دوسری گریڈ میں،پانچویں سال کے بچے کو تیسری گریڈ میں رکھا جائے گا ،اس کے بعد اس کی جسامت وہی ہوگی جو آج بھی چل رہی ہے۔ یعنی چٹھے سال کے بچے کو پہلی جماعت میں داخلہ دیا جائے گا۔NIPUN کے مطابق موجودہ بورڈ امتحانی سسٹم میں بھی تبدیلی لائی جائے گی۔ اب بورڈ یا سٹیٹ انسٹیٹیوٹ کے امتحانات تیسری ،پانچویں، آٹھویں اور بارہویں جماعت تک ہی محدود ہوں گے اور دسویں(Matric)امتحان کو حذف کیا گیا ہے۔ایک اور بات جو اس پالیسی میں اساتذہ کے بارے میں کہی گئی ہے، وہ یہ کہ اساتذہ کو اب باقاعدہ طور خود کو اپڈیٹ کرنا ہوگا، جس کے تحت ہر استاد کو سال میں کم سے کم پچاس گھنٹے کی تربیت لینی ہوگی اور جو اساتذہ پڑھانے سے عاری ہوں گے، اُن سے کوئی اور کام لیا جائے گا۔ یعنی اب اساتذہ پر تلوار لٹک رہی ہے اور استاد کو اب خود کو نئے علوم وفنون کے علاوہ نئے آلات خاص کر نئےGadgets کا استعمال سیکھنا ہوگا ،اور پابندی سے اس اسکیم کا اطلاق کرنے کےلئے تیار رہنا ہوگا۔امید ہے کہ سبھی اساتذہ اس پالیسی پر کھرے اُتریں گے اور لگن و تن دہی سے کام کریں گے۔
(رابطہ۔7006259067)
[email protected]