قیصر محمود عراقی
قلم وہ ہتھیار ہے جس نے جنگ کے وقت امن اور امن کے وقت جنگ کروائی۔یہ وہ آلہ ہے جس کے ذریعے اللہ تعالیٰ نے انسان کو وہ علم سکھایا جس نے انسانوں کو باقی تمام مخلوقات میں اشرف المخلوقات بنایا۔ پہلا قلم تب بنا جب کاغذ کو پودوں سے بنایا جاتا تھا مگر اس کا اثر اس کے وجود سے بھی پہلے سے تھا، ہر وہ چیز جو ہمیںکچھ لکھنے میںمدد دے قلم کہلاتی ہے۔ قلم جہالت کی تاریکیوں کو اجالے میں بدل دیتا ہے، یہ قلم ہی ہے جو انسان کے خوابوں کو حقیقت میں بدلنے کی طاقت رکھتا ہے، یہ وہ آلہ ہے جس نے علم کو نسل در نسل منتقل کرنے میںمدد دی، اس نے انسان کو خودشناسی کا احساس دلایا ، یہاں تک کہ عالمی امن کا وجود بھی قلم کی طاقت کا مقروض ہے۔ یہ قلم کی طاقت تھی جس نے مجرموں کو قانون کے شکنجے میں ڈال کر انسانی معاشرے کو منظم کیا۔
ہمارے ماضی اور حال ایسی مثالوں سے بھرے پڑے ہیںجہاں قلم کی طاقت نے دنیا کو بدل کر رکھ دیا ۔ علامہ اقبال ، جان کیٹس ، مہاتما گاندھی، افلاطون ، کارل مارکس اور آدم اسمیتھ عالمی سطح پر تسلیم شدہ مصنفین تھے جنہوں نے اپنے قلم کی طاقت سے لوگوں کی سوچ کو بدلا، یہ وہ لوگ تھے جن کی تحریروں نے لوگوں کو سوچنے اور عمل کرنے پر مجبور کیا، ان تحریروں نے جیوگرافک رکاوٹوں کو توڑااور دنیا بھر میںتبدیلیاں لائی۔ یہ قلم کی طاقت تھی جو ستی پرتھا، چائلڈ لیبر، بچپن کی شادیوںاور لڑکیوں کیلئے تعلیمی رکاوٹوں جیسی سماجی برائیوں سے لڑی ،کیونکہ قلم تلوار سے بھی زیادہ بڑا ہتھیار ہے۔ قلم نے سلطنتیں بنائی اور پھر اسی نے تخت الٹ کر رکھ دیئے، قلم ہی ہتھیار تھاجس نے دنیا کو برائی کے خلاف لڑنے کیلئے متحد کیا۔ لیکن قلم کی تحریر کی طاقت پوری دنیا کو ہلا سکتی ہے۔ یہ قلم کی طاقت تھی جس نے برطانوی راج کے ماتحت برصغیر کے لوگوں میں عزت نفس اور خود شناسی کے تصور کو بیدار کیا اور وہ اپنے حقوق کیلئے کھڑے ہوئے اور اپنا ملک حاصل کیا۔ آج جو عوام کھلی فضامیں سانس لے رہے ہیںاور اپنی زندگی آزادانہ طورپر گذاررہے ہیںیہ سب اسی قلم کی مرہون منت ہے کیونکہ ہتھیار کی طاقت قلم کی طاقت میں رکاوٹ نہ بن سکی۔ یہ قلم کی طاقت تھی جس نے انسان کو دوسری مخلوقات سے برتر بنایا۔ اللہ نے اپنی مقدس کتابیں تحریری شکل میں بھیجیںاور یہ قلم کی تحریر کی طاقت تھی جو دنیا کو اندھیرے سے روشنی کی طرف لے آئی۔ قلم ایک ایسا آلہ ہے جس نے انسان کو اپنے جذبات کو کاغذ پر بیان کرنے کے قابل بنایا، رفتہ رفتہ یہ طاقت دنیا میںامن کے تقاضے میں بدل گئی۔ یہ قلم کی طاقت ہے جو مجرموں کو قانون کی زنجیروںمیں جکڑ دیتی ہے، تحریری ثبوت لوگوں کو ہزار مسائل سے بچا سکتا ہے، یہ قلم کی طاقت تھی جس کے ذریعہ علم ودانائی نسل در نسل منتقل ہوتی رہی۔ قلم کی طاقت عالمی امن کی ذمہ دار ہے۔ میثاق مدینہ پہلی تحریر تھی جس نے معاشرے میں امن قائم کیا اور اس وقت سے قلم کی طاقت پوری دنیا میں امن کے قیام کیلئے خدمات انجام دے رہی ہے۔ خلاصہ یہ ہے کہ جو چیز تلوار سے حاصل نہیں ہوتی وہ قلم کی چھوٹی نوک سے حاصل کی جاسکتی ہے، قلم کی اپنی طاقت ہے جس نے اسے انمول بنایا ہے۔ قلم کی قدر وقیمت حصول علم کے تعلق سے واضح ہوتی ہے کہ قلم ہی نے کتابوں کو جنم دیا، دنیا میں جتنے بھی اہل علم ، ادیب، شاعر، ڈاکٹر پیدا ہوتے ہیں،سب کو علم سیکھنے کیلئے سب کو علم سیکھنے کیلئے قلم کا سہارا لینا پڑتا ہے۔سائنس نے آج کی دنیا میں ایک انقلاب برپا کردیا ہے لیکن انقلاب برپا کرنے والے ان سائنسدانوں کو بھی اپنے تجربات اور مشاہدات محفوظ کرنے اور دوسروں کے سامنے پیش کرنے کیلئے قلم ہی کی ضرورت پڑی ہے۔
قلم دیکھنے میں ایک معمولی چیز نظرآتی ہے ،اس کی قیمت بھی زیادہ نہیں ہوتی اور اس کا کوئی خاص وزن بھی نہیں ہوتا، بظاہر ہر قلم جسامت وضخامت میں کوئی شئے نہیں لیکن اس کے اندر بڑی طاقت ہوتی ہے۔ کیونکہ صاحب قلم ہی صاحب علم ہوتا ہے، وہی سرفراز ہوتا ہے، اسی کا حکم چلتا ہے۔ اگر جنگجوں کا ہتھیار تلوار ہے تو عالم، فاضل اور صاحب امر کا ہتھیار قلم ہوتا ہے، جس نے قلم کو ہاتھ میں لیا ،اسے عزت اور دولت ملی اور جس نے اسے چھوڑ دیا وہ ناکام ونامراد رہا، ترقی، عزت، شہرت اور دولت ہر شئے سے وہ محروم ہوگیا۔ تاریخ نے جتنے بڑے بڑے فلاسفر، حکما، فضلا، دانشور، مصور، سائنسداں، شاعر، ادیب، مصنف، ڈاکٹراور انجینئر پیدا کئے ہیں سب کے سب قلم کی بدولت ہی نامور ہوئے اور اگر وہ قلم نہ پکڑ تے تو علم حاصل نہ کرسکتے اور اگر علم حاصل نہ کرتے تو کچھ بھی نہ بن سکتے۔ صاحب قلم لوگ مرنے کے بعد بھی زندہ رہتے ہیں، فلاسفر اپنے اصول اور افکار وخیالات چھوڑ جاتے ہیں، حکما اپنے قول اور اصول، تشخیص وعلاج چھوڑ جاتے ہیں، فضلا ودانشوراپنا علم چھوڑجاتے ہیں، سائنسداں اپنی ایجادات اور اپنی تحقیق چھوڑجاتے ہیں، شاعر ومصنف اور ادیب اپنی تصانیف چھوڑ جاتے ہیںاور ڈاکٹر ، انجینئر اپنی زندگی کے تجربات چھوڑجاتے ہیں۔ زبان سے کیا گیا اظہار محفوظ نہیں رہتا البتہ قلم سے لکھا ہوا (اگر وہ کسی وجہ سے ضائع نہ ہو)تو ہمیشہ محفوظ رہتا ہے، اسی قلم کی بدولت تمام پچھلے لوگوں کی تاریخیں اور اسلاف کا علمی ذخیرہ محفوظ ہے، حتیٰ کہ آسمانی کتابوںکی حفاظت کا ذریعہ بھی یہی قلم ہے۔ خلاصہ کلام یہ ہے کہ آج ضرورت اس بات کی ہے کہ ہم قلم کی افادیت کو سمجھیںاور اسے اپنے درمیان رائج کرنے کی کوشش کریںورنہ ایک دن ایسا آئیگا کہ قلم کا وجود کالعدم ہوکر رہ جائیگااور آنے والی نسلیںاس قلم کی اہمیت وافادیت تو دور اس کے نام سے بھی ناواقف ہوجائینگی۔
رابطہ۔6291697668