ماسٹر طارق ابراہیم سوہل
اقبال کا کلام اور اسکا اصل مقام ! ،اس حوالے سے شاعر مشرق علامہ اقبال کے ایک زبان زد عام شعر کی وسعتوں، پس منظر اور فکری گہرائی کے تناظر میں اپنی علمی بے بضاعتی اور ادبی کم مائیگی کے باوجود اپنے خیالات کو رخ قرطاس کی زینت بناتے ہوئے، کلام اقبال کی عظمت کو سلام اور پیام اقبال کے تقدس کو تسلیم کرنے کا ، زہے قسمت موقعہ میسر آیا،دراصل میرے ادبی لگاؤ کے اضطراب کی نوید ہے۔آج میںجس زبان زد عام شعر کی نسبت اپنےبے ہنگم ہی صحیح مگر جذبات وعقیدت سے لبریز احساسات کو الفاظ کا جامہ زیب تن کر رہا ہوں وہ شعر ہے۔ہزاروں سال نرگس اپنی بے نوری پے روتی ہے۔بڑی مشکل سے ہوتا ہے چمن میں دیدہ ور پیدا
یہ ایک مسلمہ حقیقت ہے کہ شاعر مشرق ایک انقلابی شاعر تھے اور اُنکےکلام کی فصاحت و بلاغت، شیرینی و چاشنی اور بے مثال اور غیر فانی مضمون آفرینی، ایک ایسا عظیم کارنامہ ہے جس نے علامہ اقبال کو غیر فانی بنا دیا۔کلام اقبال از اول تا آخر رمزو کنایہ اور تشبیحات اور استعارات میں لپٹا ہوا ایسا کلام اور روحانی پیغام ہے جسے سمجھنے کی کوشش کرنا اعلیٰ نصیبوں کی بات ہے۔اس شعر میں بھی استعارات و تشبیہات موجود ہیں تو فی الحال انکی قدرے اجمالی وضاحت۔
نرگس۔ایک خوبصورت پھول، جسے نا بینا مانا جاتا ہے کیونکہ وہ اپنی خوبصورتی کو نہیں دیکھ پاتا ہے۔یہاں ، ‘نرگس سے علامہ اقبال کی مراد ایسے افراد یا معاشرہ ہے جو اپنی خودی سے بے خبر اور زبوں حالی و کسمپرسی کا شکار ہوں اور محض اپنے بہیمیت کے جذبات کو اپنی حیات مستعار کی معراج سمجھتے ہوں۔بے نوری، سے اقبال کی مراد سماج یا معاشرے کے اندر فکری جمود اور اخلاقی قیادت کا فقدان اور ‘دیدہ ور سے مراد ایسی انقلابی اور تاریخی شخصیات ہیں جن کی بصیرت اور کردار سے اقوام کی تقدیر بدل جائے۔
زمانہ تھا کرۂ ارض میں جہالت کی گھٹا تھی، خالق کا تصور سرے سے ہی مفقود تھا۔خواہشات کو معبود کا مقام حاصل تھا، بنت حوا کی پیدائش کو نحوست کی علامت سمجھا جاتا تھا۔مفاسد کی تند و تیز آندھیوں کی حکمرانی تھی، شراب و کباب اور رباب ،شرافت کی دلیل تھی، قتل و غارتگری کا نہ تھمنے والا ایک سیل رواں اور فیل مست و بے مہار اخلاقی اقدار کی معصوم کلیوں کو مسلتا کچلتا زمین کی وسعتوں کو مکدر کر رہا تھا، بصیرت و بصارت کے تمام چراغ گل ہو چکے تھے تو ایسے میں مشیت ایزدی نے ایک در یتیم کو اس ساری صورتحال کو بدلنے کے لئے ایک ہادی و رہبر بنا کر بھیجا اور عرب کے ریگزاروں میں امن کے چراغ روشن ہوئے اور سلامتی کے گلستان کھلنے لگے اور دیکھتے ہی دیکھتے پوری دنیا کے اندر، انسانی سوچ کو ایک رُخ ملا اور اس مہم کی قیادت ایک ایسے عظیم و تاریخی اور انقلابی شخصیت نے کی ،جس نے بانداز احسن فرقان مجید کے تقاضوں کو عملی طور اور بغیر خیانت کے دنیا تک پہنچا دیا اور خاتم النبین کی مہر ثبت کردی۔
علامہ اقبالؒ نے اپنے اس عظیم فکری شعر میں ہادی اعظم نبی محترمؐ کو ‘دیدہ ور تسلیم کرتے ہوئے امت بیضاء کو دعوت دی ہے کہ اپنے فکری جمود، روحانی تنزل، اخلاقی زوال، معاشی بد حالی اور علمی و عملی تساہل و تغافل کےدبیز پردہ سے باہر آنے کی ضرورت ہے اور اپنے خفتہ ضمیر کو جگانے کی ضرورت بھی۔ مگر یہ سب تبھی ممکن ہے جب ہم ضابطہ اخلاق کے پس منظر اور اسکے ہر لفظ کے اندر پوشیدہ پیغام کو نہ صرف سمجھنے کی فکر کریں بلکہ اس کو اپنی نشست و برخاست کا رہبر اصول مانیں۔دراصل حضرت آدم سےلیکر آج تک، فی زمانہ ایسے افراد نے جنم لیا جنکی قیادت و سیادت اور علم عمل نے انسانیت کو ظلم و عصیاں، خود غرضی اور حق تلفی اور اور ذلت سے نکال کر امن و سلامتی کے ماحول میں داخل کر دیا اور حق و باطل کی تمیز سکھا دی۔علامہ اقبال کا یہ شعر محض ایک شعر نہیں بلکہ ایک زندہ پیغام ہے جو شعور، مطالعہ اور داخلی بیداری کا تقاضا کرتا ہے۔کلام اقبال کے ہر شعر کو سمجھنے کے لئے ضابطہ اخلاق کے ہر لفظ کی گہرائی و گیرائی اور پس منظر کے ساتھ ساتھ اسلامی تعلیمات اور عالمی تاریخ کے نشیب و فراز سے گذرنا ہوگا چونکہ اقبال کا ہر شعر اپنے اندر ایک جہان معنی اور ہرلفظ اپنے اندر وسیع تر پیغام سمیٹے ہوئے ہے۔ہر شعر میں ایک زندہ تحریک ہے، ایک دعوت فکر ہے اور خفتہ ضمیر میں بہیمی جذبات کو خاکستر کرنے کی کیمیائی تاثیر ہے۔اقبال کے اشعار گنگنانے کے لئے نہیں بلکہ ہماری سوچ کو بدلنے کا ایک کھلا اعلان ہے۔مقامِ اقبال کی وسعتوں کا ادراک رکھنے والے مکرمین اس وقت انتہائی رنجیدہ خاطر ہوتے ہیں جب وہ یہ دیکھتے ہیں کہ اقبال کے اشعار کو بے موقعہ اور بے محل کسی ادنیٰ کام، کسی معمولی کامیابی یا خوشآمد کے مواقع ہے گنگنایا جاتا ہے۔دیدہ ور ہونا ایک تاریخی اور انقلابی اعزاز ہے اور اس تقدس کا احترام واجب ہے۔
رابطہ۔9858018662.