ایجنسیز
واشنگٹن//امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اعلان کیا ہے کہ ان کی ٹیم ایران کے ساتھ مذاکرات کے لیے شام تک پاکستان کے دارالحکومت اسلام آباد پہنچ جائے گی۔ امریکی صدر نے کہا کہ نائب صدر جے ڈی وینز کے علاوہ خصوصی ایلچی برائے مشرقِ وسطی سٹیو وٹکوف اور داماد جارڈ کشنر مذاکرات کے لیے اسلام آباد جا رہے ہیں۔میڈیا سے بات کرتے ہوئے جب امریکی صدر پوچھا گیا کہ کیا آپ پاکستان جائیں گے، تو انہوں نے کہا’’کچھ دن بعد دیکھیں گے، معاملات کیسے آگے بڑھتے ہیں‘‘۔انہوں نے کہا ’’ یقین ہے کہ ہم سمجھوتے کے بہت قریب پہنچے ہیں‘‘۔ ٹرمپ کا کہنا تھا’’وقت آگیا ہے کہ ایران کیساتھ لڑائی ختم کی جائے، ایران سے دوستانہ یا مشکل طریقے سے معاہدہ ضرور ہوگا‘‘۔ڈونالڈ ٹرمپ نے کہا کہ مذاکرات کا اگلا دور منگل سے شروع ہوگا اور امید ہے کہ ایران ہماری تجاویز قبول کرے گا، ایران کیلئے امن معاہدے کا آخری موقعہ ہے۔یکن ساتھی ہی انہوں نے ایران کو سنگین نتائج بھگتنے کی دھمکیاں بھی دیں۔انہوں نے کہا’’ڈیل نہ ہوئی تو وہ کروں گا جو 47برسوں میں کسی امریکی صدر نے نہیں کیا ہے،معاہدہ نہ ہوا تو ایران کے تمام بجلی گھر اور پل تباہ ہونگے،پورا ملک تباہ کردیا جائیگا‘‘۔انہوں نے مزید کہا کہ صدر بارک اباما جیسی غلطی نہیں کروں گا۔ اب کوئی نرمی نہیں برتی جائے گی۔بندر گاہ بند ہونے سے ایران کو یومیہ 500 ملین کا نقصان ہورہا ہے، لیکن امریکہ کو کوئی نقصان نہیں ۔امریکی صدر نے کہا کہ ایران کی پاسداران اسلام کی وجہ سے صورتحال بگڑ رہی ہے۔ادھر ایران کی سپریم کونسل نے کہا کہ پاکستان کی کوششوں سے امریکہ کی نئی تجاویز مل گئی ہیں جن کا جائزہ لیا جارہا ہے، جس کے بعد جواب دیا جائیگا۔انہوں نے کہا کہ کئی معاملات پر بات چیت کے دوران پیشرفت ہوئی ہے اور دیگر کئی پر ابھی اتفاق رائے نہیں ہوا ہے۔دریں اثناء ایران اور پاکستان کے وزرائے خارجہ کی بات چیت کی ۔