بلاشبہ ✍عیدالفطر مسلمانوں کے لیے محض ایک تہوار نہیں بلکہ رحمتوں، مغفرتوں اور اللہ تعالیٰ کے انعامات کے ظہور کا مبارک دن ہے۔ یہ وہ مبارک ومسعود ساعت ہے جب ایک ماہ کی مسلسل عبادت، روزہ، تلاوت اور مجاہدۂ نفس کے بعد بندہ اپنے ربّ کے حضور سرخرو ہو کر حاضر ہوتا ہے۔ رمضان المقدس کی رخصتی کے بعد عید کا چاند گویا اس بات کا اعلان ہوتا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اپنے بندوں کے لیے خوشیوں کے دروازے کھول دئیے ہیں۔
لیکن ایک اہم سوال یہ ہے کہ کیا ہماری عید صرف ظاہری خوشیوں، لباس و خوراک اور دنیاوی مصروفیات تک محدود رہنی چاہیے یا ہمیں اس مبارک دن کو اُس کے حقیقی روحانی پیغام کے ساتھ منانا چاہیے؟عیدالفطر کی رات کو’ لیلۃ الجائزہ‘ یعنی انعام کی رات کہا جاتا ہے۔ اس رات اللہ تعالیٰ اپنے بندوں پر خصوصی کرم فرماتا ہے، ان کی عبادات کو شرفِ قبولیت بخشتا ہے اور گناہوں کو معاف فرماتا ہے، فرشتے اس رات خوشی کا اظہار کرتے ہیں اور صبح کے وقت بندگانِ خدا کو ندا دیتے ہیں کہ آؤ اپنے ربّ کی بارگاہ میں جو بے حساب عطا فرمانے والا اور بڑے بڑے گناہوں کو بخش دینے والا ہے۔
لہٰذا اس مبارک رات کو بے مقصد مصروفیات، بازاروں کی چہل پہل اور لہو و لعب میں ضائع کرنے کے بجائے ذکر و اذکار، نوافل، تلاوتِ قرآن اور دعا میں گزارنا چاہیے تاکہ ہم بھی ان خوش نصیبوں میں شامل ہو جائیں جن پر اللہ کی رحمتوں کی بارش ہوتی ہے۔ظاہر ہے کہ ہمارا دین ہمیں معاشرتی مساوات اور اجتماعی خوشی کا درس دیتا ہے۔ اسی لیے عیدالفطر کے موقع پر صدقۂ فطر کو واجب قرار دیا گیا تاکہ معاشرے کا کوئی فرد خوشیوں سے محروم نہ رہے۔ اس لئے بہتر ہے کہ عید کی نماز سے پہلے اسے ادا کیا جائے تاکہ غریب و نادار افراد بھی عید کی خوشیوں میں شریک ہو سکیں۔بے شک عید اُس کی نہیں جس نے نیا لباس پہنا بلکہ عید اُس کی ہے جو عذابِ آخرت سے محفوظ ہو گیا۔گویا عید کی اصل خوشی اللہ کی رضا، مغفرت اور قربِ الٰہی میں مضمر ہے نہ کہ محض ظاہری زیب و زینت میں۔عید کی رات عبادت، دعا اور استغفار میں گزاریں،صدقۂ فطر بروقت ادا کریں،نمازِ عید کا اہتمام کریں،تکبیرات کا ورد جاری رکھیںوالدین، بزرگوں اور رشتہ داروں سے حسنِ سلوک کریں،یتیموں، مسکینوں اور محتاجوں کا خاص خیال رکھیں،صلہ رحمی اور معاف کرنے کا جذبہ اپنائیں،خوشی کے موقع پر بھی گناہوں سے بچیں۔
کیونکہ آج کل عید کے موقع پر بعض غیر مناسب امور بھی دیکھنے میں آتے ہیں، جن سے بچنا ضروری ہے۔بے جا اسراف اور فضول خرچی،لباس و زیورات پر فخر و نمائش،غیر محرم مرد و خواتین کا بے پردہ اختلاط،موسیقی اور بے حیائی میں وقت کا ضیاع عام ہورہا ہے۔اسلام ہمیں بتاتا ہے کہ ایک مسلمان کے لئے لازم ہے کہ وہ زندگی کے ہر معاملے میں خود ضبطی کو برقرار رکھےجبکہ رمضان المبارک بھی ہمیں یہ سکھاتا ہے کہ ہم اپنی خواہشات کو قابو میں رکھیں، دوسروں کے حقوق کا خیال کریں اور اپنے رویوں میں توازن پیدا کریں۔اس لئےاس معاملے میں والدین کی ذمہ داری بھی اہم ہو جاتی ہے۔ اُنہیں چاہیے کہ وہ اپنے بچوں کی تربیت پر خصوصی توجہ دیں، اُنہیں عید کی خوشیوں کا حقیقی مفہوم سمجھائیں اور ان کی سرگرمیوں پر نظر رکھیں،تاکہ وہ جدید دور کی پیدا شدہ خرافات و فضولیات سے بچ سکیں۔یاد رکھیں! اگر ہماری عید اللہ تعالیٰ کی نافرمانی میں گزر جائے تو یہ خوشی نہیں بلکہ محرومی ہے۔ضرورت اس بات کی ہے کہ عیدالفطر کے موقعے پر ہم اپنی زندگی کو تقویٰ، اخلاص، محبت اور خدمتِ خلق سے آراستہ رکھیں۔ یہ دن صرف خوشی منانے کا نہیں بلکہ اپنے اندر ایک نئی روحانی زندگی پیدا کرنے کا دن ہے۔اللہ تعالیٰ ہمیں حقیقی معنوں میں عید منانے کی توفیق عطا فرمائے، ہماری عبادات کو شرفِ قبولیت بخشے اور ہمیں ان خوش نصیبوں میں شامل کرے، جن کے لئے یہ دن دنیا و آخرت دونوں میں سعادت و کامیابی کا ذریعہ بن جائے۔