عمران بن رشید
قرآن میں اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے ’’وَلَا تَقْفُ مَا لَیْسَ لَکَ بِہِ عِلْمٌ اِنَّ السَّمْعَ وَالْبَصَرَوَالْفئَوادَ کُلُّ اُولٰئِکَ کَانَ عَنْہ‘ مَسْئُولًا‘‘یعنی اور ایسی چیز کے پیچھے مت پڑو جس کا تمہیں علم نہیں ‘بے شک انسان سے کان‘ آنکھ اور دل ان سب سے متعلق سوال ہوگا[سورہ بنی اسرائیل؍36]۔مفسرین کے نزدیک اس آیت میں بہتان بازی ‘وہم وگماں اور بے علم ہونے پر علم کا دعویٰ کرنے سے منع کیا گیا ہے۔اس کی تاویل میں مختلف اقوال بیان کئے گئے ہیں جن کو ابنِ جریر طبریؒ نے اپنی تفسیر میں جمع کیا ہے۔اُن ہی اقوال میں سے قتادہ کا یہ قول بھی ہے’’لا تقل رائیتُ ولم تر وسمعتُ ولم تسمع و علمتُ ولم تعلم‘‘یعنی یہ مت کہا کرو کہ میں نے دیکھا جب کہ تم نے نہ دیکھا ہو اور نہ یہ کہا کرو کہ میں نے سنا جبکہ تم نے نہ سنا ہو اور نہ ہی یہ کہا کرو کہ میں جانتا ہوں جبکہ تم نہ جانتے ہوں ۔ابو نعمان سیف اللہ خالد حفظہ اللہ لکھتے ہیں ’’اس آیتِ کریمہ میں اللہ تعالیٰ نے آدمی کو ایسی بات کہنے سے منع فرمایا ہے جس کا اُسے علم نہ ‘یہ آیت قائدہ کلیہ ہے جس کے ضمن میں وہ تمام اقوال و افعال داخل ہیں جن کی صداقت و حقاینت کا آدمی کو علم نہ ہو‘‘[تفسیر دعوۃ القرآن؍جلد سوم]۔اللہ کے رسول ؐ کی حدیث ہے’’کفیٰ بالمرئِ کذبًا ان یحدث بکل ما سمع‘‘آدمی کے جھوٹا ہونے کے لئے اتنا کافی ہے کہ وہ جو کچھ سنتا ہے اسے (بلا تحقیق) آگے بیان کرتا ہے[مسلم؍5 ]۔
سورہ بنی اسرئیل کی مذکورہ آیت سے دو چیزیں واضح طور پر سامنے آتی ہیں وہ یہ کہ عمل سے پہلے علم اور تصدیق سے پہلے تحقیق لازم ہے۔حافظ صلاح الدین یوسف ؒ لکھتے ہیں ’’قفایقفواکے معنی ہے پیچھے لگنا‘یعنی جس چیز کا تمہیں علم نہیں اُس کے پیچھے مت لگو ‘ یعنی بدگمانی مت کرو‘کسی کی ٹوہ میں مت رہو اسی طرح جس چیز کا علم نہیں اُس پر عمل مت کرو‘‘[تفسیر احسان البیان]۔گویا کہ ہر عمل کے لئے علم ایک میزان ہے ‘بغیرعلم آپ کاعمل درست ہوسکتا ہے اور نہ ہی عمل کا مقصود حاصل ہوسکتا ہے‘امام بخاریؒ نے باب باندھا ہے ’’العلم قبل القول والعمل‘‘یعنی قول اور عمل سے پہلے علم لازم ہے۔
جھلِ بسیط اور جھلِ مرکب:۔ عربی زبان میں ایک محاورہ ہے’’وَبِضِدِھَاتَتَّبَیِّنَ الْاَشْیَائُ‘‘یعنی کسی چیز کو اگر سمجھنا ہے تو اُس کی ضد بیان کرو۔اسی محاورہ اور اصول کے تحت میں جھل(لاعلمی)سے متعلق چند باتیں عرض کرنا چاہتا ہوں تاکہ موضوع کی وضاحت مجھ پر آسان ہوسکے۔ جھل ‘علم کی ضد ہے[شرح صحیح بخاری ؍ مولانا داوٗد رازؒ؍حدیث 237کی شرح میں]۔اور عام مفہوم میں جھل کو لاعلمی پر ہی منطبق کیا جاتا ہے ‘قرآن میں البتہ اس لفظ کو لاعلمی کے ساتھ ساتھ تکبر‘کج روی‘اخلاقی گراوٹ اور کردار کی پستی کے لئے بھی لایا گیا ہے۔مثال کے طور پر سورہ احزاب میں فرمایا گیا’’وَقَرْنَ فِیْ بُیُوْتِکُنُّ وَلَا تَبَرَّجْن تَبَرُّجَ الجَاہِیَّہ الاُولیٰ‘‘اور اپنے گھروں میں ٹکی رہو اور پہلی جاہلیت کے زینت ظاہر کرنے کی طرح زینت ظاہر نہ کرو[33]۔اسی طرح سورہ فتح میں مشرکین کے بغض و عناد کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا گیا’’اِذْجَعَلَ الَّذِینَ کَفَرُوا فِی قُلُوبِھِم الْحَمِیِّۃَ حَمِیِّۃَ الْجَاھَلِیَّۃِ‘‘جبکہ ان کافروں نے اپنے دلوں میں حمیت کو جگہ دی اور حمیت بھی جاہلیت کی[26]۔
مختصر یہ کہ ’’جھل‘‘کا معنی اگر مقید نہ کیا جائے تو یہ علم کے مدِ مقابل استعمال ہوتا ہے ۔شیخ محمد بن صالح العثیمین ؒنے ’’الاصول من علم الاصول ‘‘میں جھل کی دو قسمیں گردانی ہیں۔ایک ’’جھلِ بسیط‘‘ اور دوم ’’جھلِ مرکب‘‘۔اول الذکر یعنی جھلِ بسیط یہ ہے کہ انسان کلی طور پر کسی چیز کی سچائی معلوم نہ ہونے کا عذر پیش کرے ‘مثال کے طور پر اگر آپ سے پوچھا جائے کہ زید کہاں رہتا ہے ؟تو آپ بغیر کسی ظن و تخمین اور قیاس کے کہیں گے کہ مجھے معلوم نہیں ہے۔اور ثانی الذکر یعنی جھلِ مرکب یہ ہے کہ آپ کسی چیز کو اُس کی اصل حقیقت کے خلاف پیش کرے ۔مثال کے طور پر اگر آپ سے پوچھا جائے کہ آسمان کا رنگ کیسا ہے ؟آپ کہیں گے کہ آسمان کا رنگ ہرا ہے‘ظاہر سی بات ہے کہ سوال کا جواب تو آپ نے دے دیا لیکن آپ کا یہ جواب حقیقت کے بالکل برعکس ہے۔کیوں کہ یہ ایک معلوم حقیقت ہے کہ آسمان کا رنگ نیلا ہے نہ کہ ہرا۔اب سوال یہ ہے کہ کوئی انسان حقیقت کی مخالفت کیوں کرے گا۔تو جان لیجئے کہ اس کی دو وجہیں ہوتی ہیں ایک یہ کہ انسان کے ذہن میں ہی غلط علم بیٹھ گیا ہو یا یہ کہ وہ صحیح علم تک رسائی نہ پا سکا ہواور دوسری وجہ یہ کہ انسان گمراہی میں پڑ کر کسی مفاد کے حصول میں حقیقت کی مخالفت کرتا ہے۔جیسے قرآن میں ارشاد ہوا ہے ’’اِنَّ کَثِیراً لَّیُضِیْلُوْنَ بِاھْوَائِھِم بِغَیْرِ عِلم الخ‘‘بے شک اکثر لوگ علم کے بغیر محض اپنی خواہشات کی بنا پر (دوسروں کو )گمراہ کرتے پھرتے ہیں[الانعام؍119]۔یا سورہ توبہ میں فرمایا گیا’’یَاَیُّھَاالَّذِینَ اٰمَنُوُا اِنَّ کَثِیراًمِّنَ الْاَحْبَارِ وَالرُّھْبَانِ لَیَاکُلُونَ اَموَالَ النَّاسِ بِالْبَاطِلِ وَیَصُدُونَ عَنْ سَبِیلِ اللّٰہِ‘‘یعنی اے لوگو جو ایمان لائے ہو !بے شک بہت سے عالم اور درویش یقیتاً لوگوں کا مال باطل طریقے سے کھاتے ہیں اور اللہ کے راستے سے روکتے ہیں[34]۔
علم کیا ہے:۔اب ذرا اپنے موضوع پر آتا ہوں ‘آیت میں چونکہ حصولِ علم پر ابھارا گیا ہے یا حصولِ علم کی ترغیب دلائی گئی ہے لہذا علم کی وضاحت لازم آتی ہے۔اور اس ضمن میں سب سے پہلے علم کی لغوی وضاحت اور تفہیم ضروری ہے۔صاحبِ مصباح اللغات علم کی تعریف کرتے ہوئے لکھتے ہیں ’’علم(لام پر جزم کے ساتھ)حقیقتِ شی کاادراک ۔یقین و معرفت‘‘[مصباح اللغات؍538]۔ شیخ محمد بن صالح بن محمد العثیمینؒ نے ’’ الاصول من علم الاصول‘‘میں لکھا ہے ’’العلم ادراک الشیء علی ما ھو علیہ ادراکا جازما کادراک ان الکل اکبر من الجزء و ان النیۃ شرط فی العبادۃ‘‘یعنی علم یہ ہے کہ کسی چیز کی حقیقت کو یقینی طور پر جاننا جیسے یہ جاننا کہ کُل جز سے بڑا ہے اور نیت عبادت میں شرط ہے ؎۔علم کی یہی تعریف انہوں نے ابنِ تیمیہؒ کی کتاب ’’عقیدۃ الواسطیہ‘‘کی شرح میں بھی بیان کی ہے ۔گویا کسی بھی چیز کو اُس کی حقیقت کے عین مطابق جاننا علم ہے ‘علم کی یہ تشریح عام ہے جو ہر خواص و عام چیز کو محیط ہے۔شریعتِ اسلامی میں البتہ علم کی ایک مخصوص تعریف بھی ہے ‘جیسے محمد بن عبدالوہب ؒ کہتے ہیں ’’العلم ھو معرفۃ اللّٰہ و معرفۃ نبیّہ ومعرفۃ دین الاسلام بالادلّۃ‘‘[الاصول ثلاثہ]۔یعنی علم دلیل کے ساتھ اللہ کی معرفت اللہ کے نبی کی معرفت اور دین اسلام کی معرفت کا نام ہے۔
مختصر یہ کہ کسی بھی چیز پر کلام کرنے سے پہلے اُس کی حقیقت کا ادراک لازم ہے۔ہمارا عمل اور ہمارا عقیدہ جب تک قرآن و سنت سے ثابت نہ ہو اور اُس کے ثبوت کا علم نہ ہو اُس وقت تک ایسا عمل کرنا اور ایسا عقیدہ رکھنا جہالیت اور گمراہی ہے۔آیت’’وَلَا تَقْفُ مَا لَیْسَ لَکَ بِہِ عِلْمٌ اِنَّ السَّمْعَ وَالْبَصَرَوَالْفئَوادَ کُلُّ اُولٰئِکَ کَانَ عَنْہ‘ مَسْئُولً‘‘میں یہی ترغیب دلائی گئی ہے‘آپ غور کیجئے کہ اللہ تعلی علم کی ترغیب دلانے کے بعد کہتا ہے ’’اِنَّ السَّمْعَ وَالْبَصَرَوَالْفئَوادَ کُلُّ اُولٰئِکَ کَانَ عَنْہ‘ مَسْئُول‘‘بے شک انسان سے کان‘ آنکھ اور دل ان سب سے متعلق سوال ہوگا۔ان تینوں اعضاء کابراہِ راست تعلق حصولِ علم سے ہی ہے ۔چنانچہ حافظ صلاح الدین یوسفؒ لکھتے ہیں’’جس چیز کے پیچھے تم پڑوگے اُس کے متعلق کان سے سوال ہوگاکہ کیا اُس نے سنا تھا ‘آنکھ سے سوال ہوگا کہ کیا اُس نے دیکھا تھا اور دل سے سوال ہوگا کہ کیا اُس نے جانا تھا ؟کیوں کہ یہی تینوں اعضاء علم کا ذریعہ ہیں اور ان کو اللہ تعلی قیامت والے دن قوت گویائی عطا فرمائے گا اور ان سے پوچھا جائے گا‘‘[تفسیر احسن البیان]۔
علم کی اقسام :۔ علم کی تعریف کے بعد یہ چیز نہایت ضروری ہے کہ علم کی چند معروف اقسام کی طرف بھی اشارہ کروں۔ اس ضمن میں سب سے پہلی اور انتہادرجہ اہم بات یہ ہے کہ علم کوئی انسان کی دریافت شدہ (Discovered)شے نہیں ہے بلکہ یہ اللہ کی طرف سے انسان میں ودیعت کردہ (Deposited)شے ہے جس کا ذکر قرآن اور سابقہ نازل شدہ کتابوں میں موجود ہے‘قرآن میں سورہ بقرہ میں فرمایا گیا’’وعلّم اٰدم الاسماء کلَّھا‘‘ اور اللہ نے آدم ؑ کو تمام چیزوں کے نام سکھادئے[آیت؍31]۔علم الاسماء یعنی چیزوں کے ناموں کا علم آدمؑ کو ودیعت کیا گیا ‘تورات (عہدِنامہ قدیم؍Bible old testament )میں فرمایا گیا ’’Now the Lord God had formed out of the ground all the beasts of the field and all the birds of the air He brought them to the man to see what he would name them and what ever the man called each living creature that was its name‘‘[2:19]۔ ابو نعمان سیف اللہ خالد حفظہ اللہ لکھتے ہیں’’اللہ تعلی نے تمام چیزوں سے متعلق ضروری علم انہیں (یعنی آدم کو )ودیعت کردیا‘‘[تفسیر دعوۃ القرآن جلد اول ؍93]۔علم کی بعد میں جتنی بھی قسمیں وجود میں آئیں وہ اسی علم الاسماء کے مظہر کے طور پر آئیں ہیں۔(مضمون جاری ہے۔۔۔)