یوپی میں الیکشن کے اب چند ماہ رہ گئے ہیںاورانتخابی ہلچل تیز ہوگئی ہے۔اس لئے مناسب سمجھا کہ ووٹ کی شرعی حیثیت کو سپرد قرطاس کردوں، نیز اس مضمون میں ووٹ ڈالنے کے متعلق بہت ہی اہم باتوں کو قلمبند کیا ہوں ۔ پہلی بات کچھ لوگوں کا کہنا ہے کہ سیاست سے اسلام کا کوئی تعلق نہیں حالانکہ یہ سوچ انتہائی غلط فہمی پر مبنی ہے۔حضرت مفتی تقی عثمانی فرماتے ہیں کہ سیاست شریعت میں کوئی شجرہ ممنوعہ نہیں ہے بلکہ دین ہی کا ایک شعبہ ہےلیکن ہم مسلمانوں کو یہ بات فراموش نہ کرنی چاہیے کہ ہماری سیاست غیر مسلموں سے مختلف ہونی چاہیے ۔اسلام میں ایسی سیاست کی کوئی گنجائش نہیں ،جس میں جھوٹ اور مکرو فریب کی کھلی چھوٹ ہوتی ہے۔
دوسری بات جیسے ہی انتخابات قریب ہوجاتے ہیں۔کچھ لوگ ووٹ ڈالنے میں عدم دلچسپی کا مظاہرہ کرتے ہیں،جو انتہائی قبیح سوچ ہے۔بعض لوگ سمجھتے ہیں کہ ہمارے ایک ووٹ نہ ڈالنے سے فرق نہیں پڑتا ہے، حالانکہ بسااوقات ایک ووٹ ہی فیصلہ کن ثابت ہوتا ہے۔لہٰذا ووٹ سے کنارہ کشی اختیار کرنا در حقیقت اپنی سیاسی قوت کو کمزورومدھم کرنا ہے۔ہمارے ملک میں حکمرانوں کا انتخاب بلکہ دیگر ممالک میں بھی حکمرانوں کا انتخاب ملکی باشندوں کے ووٹوں کی شکل میں اظہار رائے کے ذریعہ کیا جاتا ہے، اس لیے ووٹ کی حیثیت معلوم کرنا ضروری ہے۔اب سوال یہ ہے کہ ووٹ کیسے شخص اور کس امیدوار کو دیا جائےاور امیدوار میں کن صفات و اوصاف کو دیکھا جائے؟
یادرکھیں! ووٹ ایک امانت ہے ، اس کا صحیح استعمال اسلامی فریضہ ہے ۔باصلاحیت،امانت داراور قوم وملت کے ہمدرد کو ووٹ دینا ضروری ہے، ورنہ امانت میں خیانت ہوگی۔ ووٹ جمہوری نظام میں رائے شماری کے عمل کا نام ہے،جس کا مقصد ملکی نظام اور عوامی نمائندگی کے لئے مناسب نمائندہ کا انتخاب کرنا ہے ۔اس لیے ووٹ کا استعمال اس امیدوار کے حق میں کریں ،جو امانت و دیانت کے ساتھ قو م کی خدمت کے جذبے سے اس میدان میں آیا ہواوراس کا مقصد قوم وملت کی خدمت کرنا، مظلوموں کی امداد کرنا، ناجائز مقدمات میں پھنسے لوگوں کو باعزت بری کرانا ہو،وغیرہ۔
حضرت مفتی کفایت اللہ ؒلکھتے ہیں کہ اگر مسلمانوں کے ووٹ سے کسی سیاسی مجلس کا انتخاب کیا جائے تو یہ دیکھنا چاہیے کہ امورِسیاسیہ میں جو شخص ماہر اور مسلمانوں کا خیرخواہ اور ان کے حقوق کی حفاظت کااہل ہو، اس کو ووٹ دیں ۔مذکورہ اوصاف کے ساتھ اگر شریعت کا بھی پابند ہو اور نیک صالح ہو وہی مستحق ہے۔انتخاب کا معاملہ بہت سخت ذمہ داری کا ہے، رائے دینے والے پر فرض ہے کہ وہ اس شخص کو رائے دیں جو نیک و سمجھ دار نیز ملک و قوم کا خیر خواہ ہو۔
ووٹ ایک امانت اور سفارش ہے یا ایک قسم کی شہادت ہے۔ اس اعتبار سے کسی فاسق یا فاجر انسان کو ووٹ نہیں دینا چاہیے۔ تاہم جہاں کہیں پارٹی کی بنیاد پر الیکشن ہو تو اس میں شخصیت کے مقابلے میں پارٹی کے منشور کو مد نظر رکھنا زیادہ مناسب ہے۔
ہمار املک ہندوستان ایک جمہوری ملک ہے،جمہوریت کی حقیقت یہ ہے کہ اس میں ہر عاقل و بالغ مرد وعورت کی آراء و مشورے سے ملک کا نظام چلے۔اس لیے ہر شخص اس کو ایک فریضہ سمجھتے ہوئے امانت دار امیدواروں کو ووٹ ضرور دیں۔اگر ہم لوگ اس دینی امانت اور اسلامی فریضہ کی ادائیگی میں ہمیشہ کی طرح سُستی اور کاہلی برتتے رہے تو نہ ملک میں مسلمان مامون رہے گااور نہ ہی مسلمانوں کے ہمراہ کیے گئے ظلم و تشدد میں تخفیف ہوگی۔اگر ووٹ کا استعمال اسلامی فریضہ کی بجائے اپنے ذاتی مفادات کو مد نظر رکھتے ہوئے کیا جاتا رہاتو یادرکھیںکہ نااہل، ظالم، فاسق اورغلط آدمی کو ووٹ دینا گناہِ عظیم ہے۔ جس طرح فی الحال مسلمانوں کے ہمراہ رویہ اختیار کیا جارہا ہے،وہ قبیح روش عیاں ہیں۔لہٰذا رائے دہندگان اگراچھے امیدوار کا انتخاب کریں گے تو یہ عمل ہمارے لیے باعثِ اجر ہوگا اور اگر غلط امیدوار کا انتخاب کریں گے توباعثِ مواخذہ ہوگا۔امید ہے کہ ہم سب مل کر اورہر قسم کے تعصبات و ذاتی مفادات سے بالاتر ہوکر وسیع تر قومی و دینی اور ملکی مفادات کو سامنے رکھ کر ووٹ کا دیانت دارانہ و ذمہ دارانہ استعمال کریں گے تو ان شاء اللہ! بہتر نتائج سامنے آئیں گے اور اگر ہم اس سلسلے میں غفلت و لاپرواہی کا مظاہرہ کریں گے تو اس کے نقصان و خسارہ کے اثرات و نتائجِ بد سے نہیں بچ سکیں گے ۔بارگاہ رب جلیل میں دست بدعا ہوں حق جل مجدہ اپنے بیکراں فضل و احسان کے صدقے ہمیں حق کو سمجھنے اور اس پر عمل کرنے کی توفیق ارزانی فرمائے ۔آمین
رابطہ واٹس ایپ 9735462318 :