سرینگر// سرکار نے انتظامی افسراں، محکموںکے سربراہان اورنیم خود مختار اداروں کو ہدایت دی ہے کہ وہ مختلف عدالتوں،ٹربیونلوں اورفورمز میں زیر سماعت کیسز کے جوابات،عذرات داخل کرنے سے قبل محکمہ قانون و پارلیمانی امور سے مشاورت لازمی بنائے۔ سرکار کا کہنا ہے ’’سرکاری محکموں،محکموں کے سربرہاں،اداروں اورسوسائٹیوں وغیرہ کی جانب سے متعلقہ عدالتی فورمز میںبروقت ،اچھی طرح سے غور لائے گئے اور یکساں موقف کی جواب پیش کرنے کے عمل کو یقینی بنانے سے قبل مسودہ کے جوابات کی جانچ پڑتال کے لیے محکمہ قانون ، انصاف اور پارلیمانی امور سے مشورہ کرنا ضروری ہے‘‘۔حکم نامہ میںمزید کہا گیا ہے کہ جس کیس میں ایک سے زیادہ محکمے ملوث ہونے ہونگے ان میں ، محکمہ قانون ، انصاف اور پارلیمانی امور ان مقدمات میں ایک یکجا جواب کو حتمی شکل دے گا اور کسی ایک محکمے کو معقول طور پر معائنہ شدہ ضمنی اعتراضات واپس کریں گے اور وہ محکمہ سب محکموں کی جانب سے بروقت جواب داخل کرے گا بشرطیکہ ہر محکمے کو علیحدہ جوابات داخل کرنے کے لیے عدالت کی طرف سے مخصوص ہدایات نہ ہوں۔ حکم نامہ میں کہا گیا ہے کہ، اس صورت میں بھی محکمے جوابات کو ایک دوسرے کے ساتھ ہم آہنگی اور مستقل مزاجی کو یقینی بنانے کے لیے محکمہ قانون کے جانب سے جوابات کو محکمہ قانون و پارلیمانی امور ہی ہری جھنڈی دکھائے گا۔ محکمہ عمومی انتظامی کے کمشنر سیکریٹری منوج کمار دیویدی کی جانب سے جاری حکم نامہ میں کہا گیا ہے محکمہ قانون و پارلیمانی امور محکمہ میں مرکزالانظام قائم کرے گا، تاکہ حکومت کے جوابات کے مسودے کو ایک ہی چھت کے نیچے جانچنے کے لیے جوبات یاموقف داخل کرنے میں کسی تاخیر سے بچا جا سکے۔ حکم نامہ میں تمام انتظامی افسراں اور محکموں کے سربراہاں،سرکاری اداروں اورنیم خود مختار اداروں کو ہدایت دی گئی ہے کہ وہ ہدایات پر حرف بہ حرف عمل کرے۔