نئی دہلی// راجیہ سبھا کے چیئرمین سی پی رادھا کرشنن نے پیر 27 اپریل 2026 کو عام آدمی پارٹی (AAP اے اے پی) کے سات ارکان پارلیمنٹ کے بھارتیہ جنتا پارٹی (BJP بی جے ڈی) میں انضمام کو باضابطہ طور پر تسلیم کیا، جس سے ایوان بالا میں اروند کیجریوال کی پارٹی کے ارکان پارلیمنٹ کی تعداد کم ہو کر تین ہوگئی۔ اس تبدیلی کے ساتھ ہی راجیہ سبھا میں بی جے پی کے ممبران پارلیمنٹ کی تعداد 113 ہو گئی ہے۔راگھو چڈھا، اشوک متل، ہربھجن سنگھ، سندیپ پاٹھک، وکرم جیت ساہنی، سواتی مالیوال اور راجیندر گپتا وہ سات ممبران پارلیمنٹ ہیں جو انضمام میں شامل ہوئے ہیں۔ راجیہ سبھا کی ویب سائٹ کے مطابق، سبھی ساتوں ممبران پارلیمنٹ بی جے پی کی رکنیت کی فہرست کا حصہ ہیں۔ ذرائع نے بتایا کہ ساتوں ممبران پارلیمنٹ نے جمعہ کو راجیہ سبھا کے چیئرمین سے اپیل کی تھی کہ انضمام کے بعد انہیں بی جے پی ممبران پارلیمنٹ سمجھا جائے اور ان کی درخواست قبول کر لی گئی۔اس سے پہلے، عام آدمی پارٹی نے اتوار کو راجیہ سبھا کے چیئرمین کو ایک عرضی پیش کی تھی، جس میں پارٹیوں کو تبدیل کرنے والے سات ممبران پارلیمنٹ کی رکنیت ختم کرنے کا مطالبہ کیا گیا تھا۔ عام آدمی پارٹی کے راجیہ سبھا ایم پی سنجے سنگھ نے کہا کہ انہوں نے چیئرمین رادھا کرشنن کو ایک عرضی پیش کی ہے، جس میں پارٹی کے سات ارکان پارلیمنٹ کو نااہل قرار دینے کا مطالبہ کیا گیا ہے جنہوں نے حال ہی میں عام آدمی پارٹی چھوڑ کر بی جے پی میں انضمام کا اعلان کیا تھا۔واضح رہے کہ گزشتہ جمعہ کو عام آدمی پارٹی (AAP اے اے پی) کو اس وقت دھچکا لگا تھا جب راجیہ سبھا کے سات ممبران پارلیمنٹ نے استعفیٰ دے دیا اور بی جے پی میں انضمام کا اعلان کیا۔ انہوں نے الزام لگایا کہ کیجریوال کی پارٹی اپنے اصولوں، اقدار اور اخلاقیات سے ہٹ گئی ہے۔