بانہال // ضلع ترقیاتی کونسل رام بن کی چیئرپرسن شمشاد شان نے کہا کہ اگر حکام نے حیدر پورہ انکاو¿نٹر میں مارے گئے تیسرے شخص عامر ماگرے کی لاش اس کے اہل خانہ کے حوالے کرنے کا فیصلہ نہیں کیا تو وہ اس کیلئے احتجاجی مظاہرہ کرینگے۔رام بن میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ سنگلدان کے تیسرے مہلوک نوجوان کے والد اور رشتہ داروں کا دعویٰ ہے کہ وہ بے قصور تھا۔ ڈاکٹر شمشادہ شان نے جموں و کشمیر کے لیفٹیننٹ گورنر منوج سنہا کی طرف سے پیر کی شام سرینگر انکاو¿نٹر کی مجسٹریل جانچ کے حکم کا خیر مقدم کرتے ہوئے کہا ہے کہ انہیں لیفٹیننٹ گورنر سے امید ہے کہ وہ مہلوک کے پسماندگان کو انصاف دینگے۔ ڈاکٹر شمشادہ شان نے کہا کہ ”ہم مایوس نہیں ہیں کیونکہ ہمیں لیفٹیننٹ گورنر پر پورا بھروسہ ہے۔ ہم ان کے فیصلے کا انتظار کر رہے ہیں اور مجھے امید ہے کہ وہ ہفتے کی شام تک لاش کی واپسی کے بارے میں حکم دینگے تاکہ عامر کی آخری رسومات ان کے گھر والے ادا کرسکیں“۔ انہوں نے کہا” عامر ماگرے کی لاش کی واپسی کے بارے میں اگر وہ کوئی فیصلہ نہیں لیتے ہیں تو حالات ہمیں احتجاج پر کرنے پر مجبور کر دیں گے''۔ انہوں نے کہا کہ ہم حیدرپورہ انکاو¿نٹر کی مجسٹریل تحقیقات کا حکم دینے اور دو دیگر شہریوں کی لاشیں ان کے اہل خانہ کو واپس کرنے کے لیے لیفٹیننٹ گورنر کے شکر گزار ہیں۔ ڈاکٹر شمشادہ شان نے بتایا کہ حکومت کو عامر ماگرے کی لاش بھی واپس کرنی چاہئے کیونکہ قانون تمام شہریوں کے لیے برابر ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہم نے پہلے ہی رام بن کے ڈپٹی کمشنر کو لاش کی واپسی کیلئے ایک درخواست دی ہے۔ انہوں نے کہا کہ لطیف ماگرے کا خاندان قوم پرست ہے اور ملی ٹنٹوںکا مقابلہ کیا اور حکومت کی جانب سے بہادری کیلئے اعزازات سے نوازا گیا اور دس گیارہ سال سے ماگرے کا کنبہ سیکورٹی کے تحفظ اور نگرانی میںہے اور یہ سوچنا مشکل ہے کہ ان کے اپنے بیٹے کو ملی ٹنٹ قرار دیا جائے گا۔