محبت انسانی جبلت کا فطری قرینہ ہے اور اس سے ازل سے قدرت نے انسانی دل میں پیوست کر رکھا ہے اسی طرح جس طرح نفرت اور حسد انسان کی خصلت میں شامل ہے۔ نفرت انسان کو انسانیت کے درجے سے گرا سکتی ہے اور حسد کی آگ انسان کے خاکی خمیر کو خاک میں ملا دیتی ہے ۔ مگر عاشقی کی آگ زہر کو قند اور خار کو گلاب بنا دیتی ہے نفرت کو محبت میں تبدیل کر دیتی ہے ، حسد کو مروت بنا دیتی ہے ، زمین کو آسمان کر دیتی ہے ۔ آندھیرے میں اجالا پیدا کر تی ہے لیکن ہے یہ وہ شے جو صبر طلب ہے، جو صبر مانگتی ہے ،صبر چاہتی ہے بقول شاعر :
عاشقی صبر طلب اور تمنا بے تاب ہے
دل کا کیا رنگ کروں خونِ جگر ہونے تک
(غالبؔ)
عاشقی کا صبر طلب ہونا اور تمنا کا بے تاب رہناخود میں ایک متضاد عمل ہے جہاں عاشق کا صبر طلب ہونا ضروری ہے وہاں تمنا کا بے تاب، بے قرار مچلتی ہوئی رہنا بھی انتہائی لازمی ہے کیونکہ اسی سے حیات کو لذت حاصل ہے ۔ عاشقی بازیچہ اطفال نہیں ہے بلکہ دل گردے کا کام ہے عاشق بننا کوئی آسان معاملہ نہیں ہے یہ ہفت خواں رستم والا عمل ہے جہاں نیند بھی اپنی نہیں رہتی اور آرام بھی غیر کے درواز ے کی لونڈی بن کر غائب ہو جاتا ہے ۔ عاشقی ایک سفر ہے جس کی ابتداء آنکھوں کے اشاروں سے ہو کر دل کے مختلف گوشوں تک پہنچ کر ہوتی ہے جس کی مختلف منزلیں ہوتی ہے ان منزلوں میں جوش ، ولولہ، شوق اور نظارہ محبوب کے زلفوں کا خیال خاص قدِ خم کا نمایاں سراپا، قدموں کی خاطرداری، محبوب کی گلی کو محبوب رکھنا ، شام سانجھ سے اداس اداس رہنا تمام رات محبوب کے خیالوں کی چادر اوھوڑناشامل ہے۔ بقول شاعر
طبیعت اپنی جب گھبراتی ہے سنسان راتوں میں
تو ایسے میں ہم تیری یادوں کی چادر تان لیتے ہیں
(فراقؔ)
عاشقی کا ایک بنیادی اور سب سے بڑا لازمی عنصر ’’صبر طلبی ‘‘ ہے لیکن صبر طلبی کا مقابلہ یا تصادم ہمیشہ ’’بے تاب تمنا‘‘ سے (مُراد وہ تمنا ہے جو کسی کی نصیحت ماننے کے لئے تیار نہیں ہوتی )ہے جو صرف دل کی نظروں سے دیکھتی ہے اور عقل کے تمام گوشوں کو پردہ اخفا میں رکھتی ہے یہ تمنا دنیا سے لڑنے کے لئیے تیار ہوتی ہے ۔ توپوں اور تیروں کا مقابلہ نہتے کرنا چاہتی ہے ہر اس شخص کو اپنا دشمن تصور کرتی ہے جو اس سے عقل سے کام لینے کی صلح دیتا ہے یہ ’’بے تاب تمنا‘‘ وہ ہوتی ہے جو عاشق کو مجنون کا عمل سکھاتی ہے ، فرہاد کا سبق پڑھاتی ہے ، زلیخا کے داؤ دیکھاتی ہیں ۔ لیکن اس کے برعکس ’’صبر طلبی‘‘ ہمیشہ عاشق کی راہ نمائی کرتی ہے اس سے آدابِ عشق سکھاتی ہے جینے کا ہنر بتاتی ہے ۔عشاق کی مختلف قسمیں ہوتی ہیں خاص طور سے مشرق اور مغرب کے عشاق نہایت الگ الگ انفرادیت اور خصوصیات کے مالک ہوتے ہیں ۔ مغربی تمدن کے جو عشاق ہوتے ہیں وہ خوش زیادہ اور مایوس کم رہتے ہیں کیونکہ مغرب اور مشرق کی تہذیب میں عشق، محبت اور نفرت کا تصور الگ الگ خصوصیات کا حامل ہوتا ہے ۔ جس میں جذباتیت اور معیشت کے الگ الگ نظریات درپیش رہتے ہیں مغربی عاشق میں جو خمار رہتا ہے وہ شراب کے نشے کی طرح ہر شام چڑھتا ہے اور صبح کازب ہی اتر جاتا ہے ۔ یہاں کے عاشق کی ایک خصوصیت یہ بھی ہے کہ وہ عشق دل سے نہیں عقل سے لڑاتاہے جس میں دماغ سے زیادہ اور دل سے کم کام لیا جاتا ہے اس لئے یہاں عشق ہار جانے پر عاشق روتا نہیں ہے بلکہ دوسری جگہ اپنا پتہ پھینکنے کی کوشش میں لگ جاتا ہے ۔ شاعر اس کیفیت کو یوں بیاں کرتا ہے :
میں مایوس نہیں ہوں تیری بے وفائی سے
اب بھی دنیا باقی ہے دل لگانے کے لئیے
مشرقی تمدن میں عشق اور عشاق کا تصور مختلف بھی ہے اور منفرد بھی یہاں عشاق کی مختلف قسمیں ہوتی ہیں ۔ کچھ عاشق ایسے ہوتے ہیں جو نوجوانی کی عمر میں ہی اس روگ میں مبتلا ہوتے ہیں یہاں تک کہ اپنا پورا مستقبل اپنے عشق کے نام کر جاتے ہیں اور والدین کے لئیے مصائب کا انبار پیدا کر دیتے ہیں ۔ کچھ عاشق ایسے ہوتے ہیں جو ہر وقت محبوب کی گلی کا چکر لگانے میں ہی اپنی عمر کاٹ لیتے ہیں اور ’’ تیرے نام‘‘ کا نعرہ اپنا ایمان بناتے ہیں کبھی کبھار نامعلوم وجوہات کی بنا پر بستی والوں کا جینا حرام کر دیتے ہیں کیونکہ اس قسم کے عشاق ان تمام چیزوں سے بے نیاز ہوتے ہیں کہ وہ کیا اچھا کرتے ہیں اور کیا بُرا کرتے ہیں ۔ مقامی بستی والوں کی جانب سے ان جیسے عاشقوں کو مختلف خطابات اور القابات سے نوازا جاتا ہے۔ ان القابات اور خطابات کا تعلق براہ راست عاشق کے حرکات و سکنات سے ہوتا ہے ۔ اپنی محبوبہ کو دیوانگی کی حد تک چاہنے والا عاشق ’’فلاں کا مجنون‘‘ؔ کا خطاب حاصل کرتا ہے۔ اپنی محبوبہ کو شیرین کی طرح مشہور کرانے والا عاشق فرہادؔ کہلاتا ہے ۔ اپنی بے نام محبوبہ کو حاصل کرنے والا عاشق ’’آوارہ عاشق‘‘ مانا جاتا ہے۔ جو عاشق اپنی محبوبہ کا دیدار پانے کے لئے کسی خاص راستے یا سڑک کو اپنا مسکن بناتا ہے وہ ’’سڑک چھاپ عاشق‘‘ کے نام سے مشہور ہوتا ہے ۔ یہاں آپ کو کچھ عاشق ایسے بھی مل سکتے ہیں جنھوں نے ابھی سودا پکا نہیں کیا ہوتا ہے بلکہ اس تاک میں رہتے کہ کس ہرن کا انتخاب کریں اب انتخاب کی بھی مختلف صورتیں ہیں جیسے خصوصیات کلام کی شرینی یا تلخی، پنکھڑئی کی گلاب جیسے لب، غزالی یا بادامی چشمیں ، سرو قد یاقدرعنا چہر ے کا کتابی یا گول ہونا، ہرنی چال کہ شکلِ شفاف، گورا بدن یا لمبے پاؤں ، زلف عنبریں یا چشم خم ، ناک کی لالی یا پلکوں کا اشارہ خاص یہ ایسے نمایاں خدوخال یا بنیادی خصوصیات ہیں جنھیں انتخابی عمل کے دوران مد نظر رکھا جاتا ہے ۔ عاشقوں کی ایک قسم ایسی بھی ہوتی ہے جو پختہ یا عمر پیری میں عشق لڑاتے ہیں ان کے عشق لڑانے کاا نداز پختہ ہوتاہے جہاں محبوب کا ظاہری سراپا ضروری نہیں ہے بلکہ محبوب کی بے نیازی سے تسکین قلب کی حاجت رو اہوتی ہے جو باطنی اعضا کو تشفی بخشتا ہے اس قسم کے عاشق کو عرف عام میں’’ بوڈھا خرانٹ‘‘ کہا جاتا ہے لیکن اس کے درد کو سمجھنے کے لئیے کوئی تیار نہیں ہوتا ہے ۔
حیرت غرور حسن سے شوخی سے اضطراب
دل نے بھی تیرے سیکھ لیے ہیں چلن تمام
(رت موہانی )
لفظی معنوں میں ہم اکثر عاشقی کو محدود لبادے میں اوھوڈ کر اس کا قافیہ حیات تنگ کر دیتے ہیں جو کہ اس کی زندگی کے ساتھ سراسر نا انصافی ہے ۔ اس نا انصافی کے ذمہ دار وہ تمام لوگ ہیں جو اس لفظ کا مذاق اُڑا دیتے اور مزاج بگاڑ دیتے ہیں ۔ جس کی وجہ سے اس کی پوری صحت خراب ہو جاتی ہے ۔ عاشقی کا تعلق زندگی کے ہر شعبے سے ہیں ایک بندہ، بندگی کے عالم میں عاشق ہے اپنے معبود کا ، ایک طالب عالم عاشق ہے حصول علم کا ، ایک دکاندار عاشق ہے اپنے خریداروں کا، ایک لیڈر عاشق ہے اپنی کرسی کا، ایک شوہر عاشق ہے اپنی بیوی کا ، ایک مزدور عاشق ہے اپنی مزدوری کا، ایک مصنف عاشق ہوتا ہے اپنی تصنیف کا، ایک کسان عاشق ہوتا ہے اپنے کھیتوں کا ، غرض عاشقی لفظ ہمہ جحت معنوں میں استعمال ہوتا ہے اور اس کا دائرہ کار بہت وسیع ہے ۔ اس وسعت کا اطلاق ہر حال میں ’’صبر طلبی‘‘ پر ہوتا ہے یعنیٰ ہر عاشق کے لئے لازمی ہے کہ وہ صبر کا طالب ہو اس میں صبر ہو کیونکہ صبر اور عاشقی کا تعلق ازل سے مضبوط ہے ۔ حضرت آدم کا حضرت حواسے جدا ہونا نہایت خطرناک عمل تھا لیکن صبر نے دونوں کے دلوں کو تھام کر رکھا۔ حضرت یعقوب علیہ السلام اور یوسف کی جدائی میں بھی صبر کی ہی جیت ہوئی۔ حضرت صابر نے صبر سے صابر کانام حاصل کیا ہے ۔ گویا میدان عشق میں اور عاشقی کے سفر میں صبر طلبی لازم ہے ۔ لیکن اس صبر طلبی اور صبر کی کیفیت کا حال بھی مشکلات سے طے پایا ہے کیونکہ اس کی تلخیاں اور شرینی اس کے مسائل اور مصائب کا اندازہ وہی شخص لگا سکتا ہے جس سے صبر کرنا پڑتا ہے جو صابر بن جاتا ہے ۔ صبر کرنا اور صابر بن جانا ایک ایمانی اور رحمانی قوت ہے جو ہر نفس کے بس کی بات نہیں ہے ۔ زندگیاں تمام ہو جاتی ہیں صبر کرتے کرتے اس عالم کی کیفیت یا حالت اس ماں سے دریافت کی جاسکتی ہے جس کا لختِ جگر اسے جدا ہو جاتا ہے اور وہ اس امید پر رہ کر صبر کرتی ہے کہ ایک نہ ایک دن اس کا لخت جگر لوٹ کر آئے گا لیکن جب وہ آتا نہیں ہے تو ماں صبر کے ساتھ خاک میں خاک ہو کر خاک ہو جاتی ہے ۔ بعض اوقات عاشقی عاشقوں کو مفلس کا چراغ بنا دیتی ہے ، بیمار کی رات بنا دیتی ہے ، فقیر کی کائنات بنا دیتی ہے ، بوڑھے کی آس بنا دیتی ہے ، درویش کی ذات بنا دیتی ہے ، سپاہی کی تلوار بنا دیتی ہے ، کمزور کی امید بنا دیتی ہے ، کوئیل کی آواز بنا دیتی ہے ، یادوں کی چادر بنا دیتی ہے، غریبوں کی بھوک بنا دیتی ہے ، برسات کی رات بنا دیتی ہے ، اس دیش کا سیاستدان بنا دیتی ہے ۔
ہمارے مختلف شعراء نے حضرت عاشق کی ذات کو مختلف اشاروں ، کنایوں تشبیہات، علامتوں اور استعاروں کے پردوں میں مخاطب کیا ہے کبھی عاشق کو دکھی کہا گیا ہے تو کبھی اسے فقیر کے بھیس میں پیش کیا گیاہے ، کبھی عاشق کی ذات کو سمندر کی لہروں سے تشبیہ دی گئی ہے ، اس کے ان حالات کا ذکر کیا گیا ہے جن سے اس کا پالا پڑتا ہے نیز اس تمنا کا بھی خوب خاکہ کھینچا گیا ہے کہ جس کے ہاتھوں عاشق کے دل کا غبار بھی نکل جاتا ہے یہ عاشق روتا بھی ہے اور ہنستا ہوا بھی نظر آتا ہے کبھی دن میں دیوانگی کی حدیں پار کر لیتا ہے اور کبھی رات کو چاندنی روشنی میں چاند کو تکتا رہتا ہے ۔محبوب کے تغافل کا بھی سامنا اسی بندہ خدا کو رہتا ہے لیکن پھر بھی زبان پر حرف نہیں آتا ۔بقول شاعر
ہم نے مانا کہ تغافل نہ کروگے لیکن
خاک ہوجائیں گے ہم تم کو خبر ہونے تک
(غالبؔ )
حضرت آدم کا عشق باز ہونا ایک فطری عمل ہے کیونکہ عشق یا محبت اس کی خمیر کا ایک بنیادی عنصر ہے اور اس عنصر کی تعمیر خاک، پانی اور ہوا سے ملکر ہوئی ہے جس سے براہ راست مطلب یہ بھی نکالا جا سکتا ہے کہ عاشق عشق میں ناکامیابی کی حالت میں خاک بھی ہو سکتا ہے اور خون جگر بھی بہا سکتا ہے جس کے لئے واحد شرط محبوب کا حسن اس کی جلوہ گری اور ادائے خاص ہے ۔
انسانی وجود کے دو بنیادی مراکز ہیں جن سے انسان زندہ اور سالم ہے وہ ’’ دل اور دماغ ‘‘ ہے اگر دل نے کام کرنا چھوڑ دیا تو آدمی پاگل ہو سکتا ہے گویا اگر ایک بھی مرکز کام نہیں کرتا ہے تو نقصان انسان کا ہی ہو گا۔ مگر حضرات عاشقی زندگی کا ایک عزیز اور حسین دور کہلاتا ہے وہ دور جہاں دل بھی بے قابو ہوتا ہے اور عقل بھی بے دماغ جس کا مرکب عشق کی صورت میں سامنے آتا ہے ۔
انوکھی وضع ہے سارے زمانے سے نرالے ہیں
یہ عاشق کون سی بستی کے یا رب رہنے والے ہیں
(اقبال ؔ)
عاشقی سوداگری ہے بازار حسن کی اک عاشق سوداگر ہوتا ہے حسن کا اور حسن کا انتخاب اپنے منفرد اور نرالے اعتبار بھی رکھتا ہے اور اختیار بھی عاشقی کا سودا محض عام سودا گروں کی طرح نہیں ہوتا ہے بلکہ یہ وہ سودا ہے جہاں عاشق نفع اور نقصان سے بے نیازہوتا ہے یہ بے نیازی کا عمل بھی ہزار پردوں میں مخفی ہو کر ہر وار سہہ لیتا ہے جس سے عاشق فطری طور پر طاقت حاصل کرتا ہے عاشقوں کی دنیا ظاہری سطح پرکچھ اور باطنی سطح پر کچھ اور ہوتی ہے جہاںعام آدمی کی رسائی ممکن نہیں ہے۔ کبھی جب دوناکام عاشق کسی راہ پر اچانک مل جاتے ہیں تو کچھ وقت ایک ساتھ بیٹھ کر ایک دوسرے کی عافیت دریافت کرتے ہیں ممکن ہو تواَدھ جلے سگریٹ جلا کر لمبی آہیں بھر کر اپنا سارا حال ایک دوسرے پر عیاںکر کے رکھ دیتے ہیں اور دل ہی دل میں خود کا سہارابن جاتے ہیں پھر اپنی اپنی راہ لیتے ہیں۔ایسے بھی کچھ معاملات دیکھے جا سکتے ہیں جہاں عاشق معشوق کی جیت ہوتی ہے لیکن وہاں زوال کی ابتداء اسی کامیابی اور جیت سے ہوتی ہے جس جیت کو دونوں آخری منزل تصور کرتے ہیں اس منزل پر آکر اب اصل امتحان شروع ہو جاتا ہے جہاں عاشق اور معشوق کبھی کبھار اپنوں کی جدائی کو یاد کر کے رو لیتے ہیں اور بعض اوقات خوابوں کی مٹتے ہوئے محسوس کر کے تھک جاتے ہیں تو فنا ہو جاتے ہیں ۔ یہاں پر آکر زندگی رک سی جاتی ہے خود سے نفرت ہو جاتی ہے اور کائنات سے آدمی دل برداشت ہو جاتاہے تو عشق کا نیا تصور سامنے آتا ہے جہاں اپنی ذات ملال کے حصار میں مقید نظر آتی ہے خود پر ایسے بہت سارے بھاری سائیے مسلطہ نظر آتے ہیں تو زندگی وبال بن جاتی ہے بے وجہ نفرت کا وطیرہ بھی بعض اوقات عاشقی کا روگ اختیار کر لیتی ہے جہاں ہزاروں نفرتیں لاکھ درجہ محبت میں تبدیل ہو جاتی ہیں تو زندگی کی تلخیاں شیرینی بن جاتی ہے اور کیفیتیں بلا تمثیل پیدا ہوتی ہیں جنھیں کسی بھی صورت میں تشبیہات اور استعاروں کے پردوں میں بھی بیان نہیں کیا جا سکتا ہے نہ ہی غزل کا دامن انہیں سنبھال سکتا ہے اور نہ ہی اس روداد کو قید کیا جا سکتا ہے بلکہ یہ لذت آشنائی سے تعبیر و رداتئیں ہیں جو رنگ میں رنگ حنا اور درد میں درد نشتر، منظر میں ڈوبتے سورج کا ہنر رکھتی ہے ۔
چل ساتھ کہ حسرتیں دل مرحوم سے نکلیں
عاشق کا جنازہ ہے ذرا دھوم سے نکلے
(فدوی لاہوری(