طب یونانی ایک قدیم طب ہے جو یونان میں پیدا ہوئی ،عرب میں تجرباتی مراحل سے گزری اور برصغیر میں عوامی طب کے طور پر مقبول ہوئی۔ہندوستان میں انگریزوں کے دور اقتدار میں جب ایلوپیتھی طریقہ علاج کو حکومت نے رائج کیا تو ساتھ ہی دیسی طبو ں کے خلاف سازشیں بھی شروع کردیں جس کی وجہ سے ملک میں ایک بے چینی کی فضا پیدا ہوگئی ۔ایسے حالات میںحکیم اجمل خاں نے عملی طور پرہندوستانی طبوں یعنی یونانی اور آیوروید کی بقا کے لئے جدو جہد کی ۔ حکیم اجمل خاںجو کہ مایہ ناز طبیب ہونے کے ساتھ ساتھ ہندوستانی سیاست اور تحریک آزادی کے سرخیل رہنما تھے لیکن جو بات انہیں اپنے دور کے دیگر لوگوں سے ممتاز کرتی تھی وہ یہ کہ ہمہ تن مصروفیت کے باوجود انہوں نے طبابت کو نہیں چھوڑا ۔انہوں نے دہلی میں یونانی اور آیورویدک طبیہ کالج نیز ہندوستان کا پہلازنانہ طبیہ کالج قائم کیا ۔ طب یونانی میں جدید طریقہ کار کے مطابق تحقیق کی بنیاد ڈالی۔ وہ یونانی طب کے اصولوںکو مسلم رکھتے ہوئے اس میں جدید طریقہ سے تحقیق کے متمنی تھے ۔
ملک کی آزادی کے بعد دیسی طبوں کی ترقی کے لئے راہ ہموار ہوئی اور انہیں پھلنے پھولنے کا مساوی موقع دیا گیا ، طب یونانی کے گریجویٹ اور پوسٹ گریجویٹ سطح کے تعلیمی ادارے وجود میں آئے، تحقیقاتی مراکز قائم ہوئے۔ ان سب کے باوجود یونانی طب کو وہ مقام جو اسے ایک صدی پہلے حاصل تھا نہیں مل پایا بلکہ اس کی مقبولیت میں روز بروز کمی ہوتی رہی ۔آیوروید نے مواقع کا خوب فائدہ اٹھایا اور اپنی تحقیقات کوجدید اصولوں پر آگے بڑھاتی رہی جس کا نتیجہ ہے کہ ایلوپیتھ کے بعد سب سے زیادہ مقبول طب آیوروید ہی ہے اور اسے اب عالمی سطح پر ایک متبادل طب کی حیثیت حاصل ہوچکی ہے۔ایسا نہیں ہے کہ طب یونانی ہندوستان میں غیر معروف ہے لیکن اس کی مقبولیت میں جو اضافہ ہونا چاہئے تھا وہ نہیں ہوا ۔یہ مضمون نگار چوں کہ طب یونانی کا خوشہ چیں ہے اس لئے اس کی مقبولیت میں جو رکاوٹیں ہیں اور جسے وہ اب تک سمجھ سکا اس کا نچوڑ قارئین کے لئے پیش ہے۔
۱۔طبی تعلیمی اداروں میں تعلیمی نصاب یونانی اور جدید طب کا مرکب ہے ۔طب کے یونانی نصاب میں شامل مضامین پر جو کتابیںاساتذہ کرام کے ذریعے لکھی جارہی ہیں ان کتابوں اور متقدمین کی کتابوں میں ایک بھی زبر زیر کا ہیر پھیر نہیں ہوتا یہاں تک کہ ان میں جو نسخہ جات تحریر کئے جاتے ہیں ان کی افادیت کا علم صرف متقدمین کی کتابوں میں ہی ملتا ہے ، جو بھی نئی تحقیق ہوئی ہے اس کو بھی شامل نہیں کیا جاتا۔ جس سے طالب علم کوئی اضافی معلومات نہیں حاصل کرپاتے اور فراغت کے بعد ایلوپیتھی علاج کرنے لگتے ہیں ۔
۲۔فی زمانہ برق رفتار زندگی کی وجہ سے ذیابیطس،ہائی بلڈ پریشر،کینسر ،دمہ ،جوڑوں اور جگر کے امراض ایک بڑا چیلنج بن کر ابھر رہے ہیں جس کوجدید طب بھی قابو کرنے میں ناکام نظر آرہی ہے ۔طب یونانی کے خزانے میں ایسے نسخہ جات اور ادویات ہیں جو ان امراض کو ختم کرنے میں اہم کردار ادا کرسکتی ہیں لیکن ابھی تک طب یونانی کے محققین اور معالجین کے لئے یہ کوئی سنجیدہ موضوع نہیں بن سکاہے ۔
۳۔آج جدید طب نے ٹکنالوجی کی مدد سے مرض کی تشخیص کے تمام تر اسباب مہیا کر دئے ہیں ۔اگر کوئی مسئلہ ہے تو ان امراض کے شافی علاج کا ،جسے تلاش کرنے کی ذمہ داری طب کے دیگر نظاموں پر عائد ہوتی ہے ۔لیکن اس سمت میں طب یونانی میںافسردگی کی کیفیت ہے ۔
۴۔یونانی معالجوں کی ایک بڑی تعدا د نے طب یونانی کو صرف ’شادی سے پہلے اور شادی کے بعد‘تک ہی محدود کردیا ہے ۔جس کی وجہ سے عوامی رجحان یہ ہے کہ طب یونانی میں صرف جنسی پریشانیوں کے علاوہ کسی اور مرض کا علاج ممکن نہیں ہے ۔
۵۔بچے کسی بھی قوم کا سرمایہ ہوتے ہیں لیکن یہ بڑی بدنصیبی کی بات ہے کہ بچوں کے امراض پر کوئی خاص کام نہیں ہورہا ہے ، اورنہ ہی ایسی دوائیں تیار کی جارہی ہیں جو ان کی عمر،ذوق اور معیار کے مطابق ہواور انہیں استعمال کرنے میں آسانی ہے۔
۶۔کوئی بھی طب اسی وقت مقبول ہوسکتی ہے جب وہ مریض کے جذبات اور اس کی سہولیات کو مقدم رکھے ۔ایسی دوائیں بنائی جائیں جن کی دستیابی ممکن اوران کا استعمال کرنا آسان ہو ۔لیکن یونانی دواساز کمپنیاں اس سلسلے میں کوئی پیش رفت نہیں کررہی ہیں ۔آیوروید دواساز کمپنیاں اپنی ادویات پر جدید تجربہ گاہوں ،اسپتالوں اور میڈیکل کالجوں میں تحقیق کرانے پر خاصی رقم خرچ کرتی ہیں جس کے بعد ان کی تحقیق شائع ہوتی ہے جس سے اس دوا کی افادیت اور مضرت کے بارے میں پتا چلتا ہے لیکن یونانی دواساز اداروں کا تحقیق سے کوئی لینا دینا نہیں ہے ۔یونانی دوا ساز اداروں کا خیال یہ ہے کہ ان کی دوائیں صرف فائدہ کرتی ہیں ،ان سے نقصان کا کوئی اندیشہ نہیں ہے ۔جدید سائنسی دور میں اس طرح کا طرز عمل طب یونانی کی مقبولیت میں بڑی رکاوٹ بن رہا ہے ۔
۷۔یہ ایک المیہ ہے کہ یونانی دواساز کمپنیاں رجسٹرڈ یونانی معالجین سے کوئی رابطہ نہیں کرتیں بلکہ وہ اپنی ادویات کو ’اوور دی کاؤنٹر ‘دستیابی میں زیادہ دلچسپی لیتی ہیں ،اور خود علاجی جیسے مضرت رساں عمل کی ترویج میں حصہ دار بن رہی ہیں اور عطائیت کو بھی فروغ دینے میں مصروف ہیں ۔ جب کہ آیوروید دواساز کمپنیاں نہ صرف معالجین سے رابطہ پیدا کرتی ہیں بلکہ ان کی بیشتر دوائیں ایلوپیتھ معالج بھی استعمال کرتے ہیں ۔
۸۔طب یونانی کی مقبولیت میں بہت بڑی رکاوٹ ہمارے محققین بھی ہیں جو تحقیق کو اپنے لئے بار سمجھتے ہیں ،زیادہ دن نہیں گزرے جب کورونا کے زمانے میں اس موذی مرض پر قابو پانے کے لئے شافی علاج تلاش کرنے کے مقصد سے آیوروید کے ماہرین ملک کے طول و عرض میں کئی درجن پروجیکٹ پر کام کررہے تھے اس وقت یونانی ماہرین ،اساتذہ ،سائنسداں اور محققین اپنی ذتی مشاغل سے لطف اندوز ہورے تھے ۔
۹۔ دیسی طبوں کو کنٹرول کرنے والی وزارت آیوش اور سی سی آئی ایم جیسے اداروں میں یونانی طب کی نمائندگی کرنے والے افراد کی سرد مہری نے بھی یونانی طب کو عدم مقبول بنانے میں اہم کردار ادا کیا ہے ۔ ابھی حال ہی میں ایک آرٹی آئی سے انکشاف ہوا ہے کہ جب آوروید میں ایم ایس کی ڈگر ی رکھنے والے معالجین کو سرجری کرنے کی اجازت دینے کے لئے میٹنگ ہورہی تھی جس میں یونانی کے تین نمائندے موجود تھے مگر انہوں نے یونانی میں ایم ایس کی ڈگری رکھنے والے لوگوں کے مستقبل پر کوئی بات نہیں کی ۔
غور فکر کا مقام ہے کہ ایلوپیتھ یا جدید طب جس کی پیدائش ڈیڑھ صدی سے زیادہ نہیں ہے لیکن وہ اتنی مقبول کیوں ہوئی اس کا سیدھا جواب یہ ہے کہ ایلوپیتھی نے مریض کی سہولیات کو اولیت دی ہے ۔ ٹکنالوجی سے ہاتھ ملاکرایسی ایجادات کیں جو مرض کی تشخیص میں معاون ہوئیں۔ان کے یہاں تحقیق کا ایک کھلا میدان ہے جس پر وہ تندہی سے کام کرتے اور اپنی تحقیقات کو منظر عام پر لاتے ہیں ۔جب کہ یونانی کے تحقیقی ادارے مناسب سمت میں کوئی تحقیقی پیش رفت نہیں کررہے ۔طب یونانی کی بقا اس کو جدید تقاضوں سے ہم آہنگ کرنے سے مشروط ہے ،ورنہ اسے عجائب گھروں کی زینت بننے سے کوئی نہیں روک سکتا۔
(مضمون نگار معالج اور آزاد کالم نویس ہیں )
ای میل۔[email protected]