پونچھ//ضلع ہسپتال پونچھ میں بچے کی پیدائش کے دوران موت پر لوگوں نے ڈاکٹروں پر لاپرواہی کا الزام عائد کیا۔منگل وار کوپونچھ تحصیل منڈی کی ایک خاتون جس کا نام الفت آراء زوجہ شبیر احمد ساکن کشمیر ہے اورجسے ضلع ہسپتال پونچھ لایاگیا تھا، زچگی کے دوران اسے مردہ بچہ پیدا ہوا۔خاتون کے گھر والوں نے بتایا کہ وہ لوگ جمعرات کو دیر رات ڈیڑھ بجے ہسپتال پہنچے اور اس کے بعد صبح چھ بجے تک ڈاکٹروں کے دروازوں پر دستک دے دے کر انھیں جگانے کی کوشش کرتے رہے لیکن کوئی ڈاکٹر نہیں آیا انہوں نے بتایا کہ اس دوران ہسپتال میں تعینات نرسوں نے بہت کوشش کی لیکن وہ بچے کو بچانے میں ناکام رہیں۔انہوں نے برہمی کااظہار کرتے ہوئے کہا کہ جب مردہ بچہ پیدا ہواتو اس کے کافی دیر بعد ڈاکٹر آئے اورٹال مٹول کرنے لگے۔انہوںنے الزام لگایاکہ یہ سب کچھ ڈاکٹر وںکی لاپرواہی کی وجہ سے ہوا۔خاتون کے ہاں مردے بچے کی پیدائش کی اطلاع ملنے پرخاتون کے رشتہ داروں کا ایک وفد ضلع ترقیاتی کمیشنر سے ملاقی ہوا جہاں انہوں نے ۔ضلع ترقیاتی کمیشنر کو ڈاکٹروںکی لاپرواہی کے سلسلہ میں جانکاری دیتے ہوئے کہا کہ گزشتہ رات کو دو بچوں کی موت ڈاکٹروں کی لاپرواہی کی وجہ سے ہوئی ہے۔انہوں نے ضلع ترقیاتی کمشنرکو بتایا کہ یہ پہلی بار نہیںہوا ہے بلکہ اس سے قبل بھی رات کے وقت ڈاکٹروں کے موجود نہ ہونے کی وجہ سے ضلع ہسپتال پونچھ میں کئی اموات ہوئی ہیں۔انہوں نے الزام لگایا کہ ڈاکٹروں نے ضلع ہسپتال کو ذبح خانہ بنا رکھا ہے ۔انہوں نے الزام لگایا کہ ضلع ہسپتال میں تعینات ڈاکٹروں نے مریضوں کو لوٹنے کیلئے دوکانیں کھول رکھی ہیں جہاں وہ مریضوں سے فیس کے نام پر بڑی بڑی رقومات وصول کرتے ہیں ۔انہوں نے کہا کہ اوپر سے ان لوگوں کو سیاسی پشت پناہی بھی حاصل ہے جس کی وجہ سے ان پر کوئی اثر نہیں ہوتا۔ ان لوگوں کی مفصل بات سننے کے بعد ضلع ترقیاتی کمیشنر پونچھ راہول یادو نے انھیں یقین دلایا کہ وہ اس سلسلہ میں سخت سے سخت کاروائی عمل میںلا کر ضلع ہسپتال پونچھ میں آنے والے مریضوں کو تمام تر سہولیات فراہم کروائیں گے۔اس حوالے سے بات کرنے پر سپرانٹنڈنٹ ضلع ہسپتال پونچھ غلام حسین نے بتایا کہ خاتون کے بطن میں سات ماہ کا بچہ تھا یہی وجہ ہے کہ اس کی موت واقع ہوگئی۔ انہوں نے کہا کہ وہ تحقیقات کر کے قصور وار ڈاکٹروں کے خلاف کاروائی کریں گے۔