سرینگر// جموں و کشمیر کی انفرادیت، وحدت اور اجتماعیت قائم و دائم رکھنا ہر ریاست کے ہر پشتینی باشندے کے لئے لازم و ملزوم ہے اور اسی میں ہماری شناخت اور تشخص کا راز مضمر ہے۔ ان باتوں کا اظہارنیشنل کانفرنس کے صدرڈاکٹر فاروق عبداللہ نے وادی کے مختلف اضلاع سے آئے ہوئے پارٹی عہدیداران، کارکنان اور معزز شہریوں سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ انہوں نے کہا کہ ہماری پہچان دنیا میں اُسی صورت میں قائم رہ سکتی ہے جب ہم اپنی تہذیب و تمدن، کلچر خصوصاً اپنی علاقائی زبانوں کو محفوظ رکھیں گے اور اپنے بچوں کو اس سے روشناس کرائیں گے۔ انہوں نے کہا کہ اللہ کا شکر ہے کہ علمدار کشمیرؒ، لل عارفہ اور حبہ خاتون جیسے صوفی اور ریشیوں نے کشمیری زبان کو دوام بخشا اور اس کی حفاظت کی ترغیب دی۔ حضرت شیخ العالمؒ نے اپنی مادری زبان میں ہی قرآن و حدیث بیان کیا۔ ڈاکٹر فاروق عبداللہ نے کہا کہ جس قوم نے اپنی زبان اور تمدن کھو دیا وہ صفحہ ہستی سے مٹ گئی۔ انہوں نے کارکنوں اور عہدیداروں کو ہدایت دی کہ وہ جماعت کی مضبوطی اور لوگوں کی خدمت کو اپناشعار بنائیں۔ انہوں نے کہا کہ جموں وکشمیر کا خصوصی درجہ ہر قیمت اور ہر سطح پر بحال ہرنے سے ہی ریاست میں امن و امان ، تعمیر و ترقی اور عوامی حکومت قائم ہوسکتی ہے۔ میں جماعت کے اعلیٰ سے ادنیٰ عہدیداروں اور کارکنوں سے تاکید کرتا ہوں کہ وہ اس وقت پُرآشوب اور سخت ترین دور کو مدنظر رکھتے ہوئے خود کو عوام کیلئے وقف رکھیں اور ساتھ ہی نیشنل کانفرنس کے نیا کشمیر پروگرام کو گھر گھر پہنچائیں۔