عظمیٰ نیوز سروس
سرینگر// سابق ڈائریکٹر جنرل آف پولیس آر آر سوائن نے کشمیر پنڈت بردری سے اپیل کی ہے کہ کشمیر بدل گیا ہے جہاں ایک نیا پر امن فضا چل رہا ہے اور اب وہ وادی واپس آ سکتے ہیں۔شیرِ کشمیر انٹرنیشنل کانفرنس سینٹر میں “انٹرنیشنل کشمیری پنڈت کنکلیو: جلاوطنی سے عظمت تک” کے موقع پرسوائن نے کہا کہ زمین پر غالب جذبات اب خدشے سے بڑھ کر توقع کی طرف منتقل ہو چکے ہیں۔ “مباحثوں کے دوران بہت سے لوگوں نے اپنے درد اور زخموں کا اظہار کیا، لیکن وہ پختہ ارادے سے آگے بھی دیکھ رہے ہیں۔ انہوں نے کہا ہے کہ ”آج کی سب سے بڑی تبدیلی یہ ہے کہ دونوں برادریاں ایک نئے کشمیر کے بارے میں مل کر سوچ رہی ہیں، اور دونوں طرف سے کشمیری پنڈتوں کو ان کی سرزمین پر خوش آمدید کہنے کی مشترکہ تڑپ موجود ہے۔
انہوں نے تسلیم کیا کہ بیرون ملک رہنے والے تارکین وطن کے دلوں میں طویل عرصے سے سیکیورٹی کے حوالے سے گہری بے چینی رہی ہے، اور وہ اکثر یہ جاننے کے خواہشمند رہے ہیں کہ آیا خطے کا بنیادی استحکام واقعی ایک نئے موڑ پر پہنچ گیا ہے یا نہیں۔ وزارت خارجہ میں اپنی سابقہ تعیناتی کے دوران تارکین وطن کے ساتھ اپنی وسیع بات چیت کو یاد کرتے ہوئے سوائن نے کہا کہ کئی ممتاز کمیونٹی رہنماؤں نے رسمی اور غیر رسمی ذرائع سے وادی میں زمینی حقائق جاننے کے لیے رابطہ کیا تھا۔ سوین نے بتایا ”میں نے انہیں واضح طور پر کہا کہ ماحول بدل چکا ہے اور ایک نیا ماحول ابھرا ہے جو امید سے تعبیر ہوتا ہے،” سوائن نے کہا۔ “ہم نے انہیں فعال طور پر اپنے گھروں میں واپس آنے، دورہ کرنے اور کمیونٹی کے پروگراموں میں مکمل شرکت کرنے کی ترغیب دی ہے۔” انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ کشمیری پنڈت برادری کا خطے کے سماجی، ثقافتی اور معاشی مستقبل میں ناقابل تردید حصہ ہے، اور رواداری کی روایتی روح کی بحالی کے لیے ان کی فعال شمولیت اب بھی اہم ہے۔