سرینگر //جموں و کشمیر کی ریاستی اور خصوصی آئینی حیثیت منسوخ کرنے کیلئے دی جانے والی وجوہات میں سے ایک یہ بتائی گئی تھی کہ جموں کشمیر میں ترقی اور صنعتی نظام کے ایک نئے دور کاآغازہوگا جو اس خطے میں خوشحالی لائے گا ۔ اس مقصد کیلئے 19 اپریل2021 کو ایک نئی صنعتی پالیسی تشکیل دی گئی ۔نو سال کی پالیسی کو "صنعت کو درپیش چیلنجوں سے نمٹنے کے لئے ایک پائیدار ، متوازن ، ترقی پسند اور مسابقتی ماحولیاتی نظام بنانے کے لئے اپنایا گیا تھا۔لیکن یہاں صنعتیں مضبوط تو درکنار بند ہونے کی دہلیزپر پہنچ گئی ہیں۔2019میں مکمل طور بندشیں، 2020میں کورونا لاک ڈائون اور اب امسال بھی پچھلے 10ماہ سے کورونا کرفیو کی وجہ سے محکمہ صنعت و تجارت کے ذریعہ مرتب کردہ اعداد و شمارکے مطابق اس وقت کشمیر میں 40.82فیصد صنعتی یونٹ بیمار ہیں۔2019سے قبل جو صنعتی یونٹ یا کارخانے لگائے گئے تھے، وہ مکمل طور پر خسارے پر چل رہے ہیں۔حکومت کی جانب سے پچھلے تین برسوں سے کسی طرح کے صنعتی پیکیج نہ ملنے سے جموں و کشمیر میں نئے صنعتی یونٹ مالکان اب ذہنی دباؤ کا شکار ہیں۔ ان تمام برسوں کے دوران انہوں نے صنعتی یونٹوں میں منافع کمانے کے بجائے صرف اپنی بینک واجبات میں اضافہ کیا ہے۔ جموں و کشمیرکے ایک سب سے بڑے صنعتی اسٹیٹ لاسی پورہ پلوامہ میں تقریباً 90فیصد یونٹ دباؤ میں ہیں اور بیمار ہونے کے دہانے پر ہیں۔
لگاتار لاک ڈاؤن اور کرفیو کی وجہ سے ،یہاں کاروبار بڑھنے کی بجائے غیر کارکردگی بخش اثاثوں (این پی اے) میں تبدیل ہوچکے ہیں اور اگست 2019 کے بعد سے یہاں 30 فیصد سے زیادہ یونٹ ہولڈر مکمل طور پر دیوالیہ ہوچکے ہیں۔ کشمیر کے نوجوان صنعت کاروں کی کنسورشیم کا کہنا ہے کہ اگست 2019 سے وادی کی صنعتوں کو40ہزار کروڑ روپے کا نقصان ہوا ہے۔ حکومت نے گذشتہ سال جموں و کشمیر میں صنعتکاروں کے لئے یونین ٹیرٹری پیکیج فراہم کرنے کا وعدہ کیا تھا ، لیکن ابھی تک ایسا کوئی پیکیج موجود نہیں ہے۔انہوں نے تجویز پیش کی کہ حکومت صنعتکاروں کو قرض دینے کے بجائے جموں و کشمیر میں بیمار صنعتوں کی بحالی کے لئے بڑے پیمانے پر ریلیف پیکج فراہم کرے۔فیڈریشن چیمبر آف انڈسٹریز کشمیر (ایف سی آئی کے) کے سابق صدر شکیل قلندر کا کہنا ہے کہ "1999 میں ، حکومت نے احمد آباد کے انٹرپرینیورشپ ڈویلپمنٹ انسٹی ٹیوٹ آف انڈیا (ای ڈی آئی) سے کہا تھا کہ وہ جموں و کشمیر میں بیمار یونٹوں کا ڈیٹا بنائے۔ اس نے انکشاف کیا کہ جموں وکشمیر میں 87.13 فیصد صنعتی یونٹ بیمار ہیں۔انکا کہنا تھا کہ اب کونسی ایسی دودھ کی نہریں بہہ رہی ہیں کہ صنعتی شعبہ کمال کر گیا۔اقتصادی ماہرین کا کہنا ہے کہ خصوصی پوزیشن ختم کرنے کے بعد اپنی پہلی تقریر میں ، وزیر اعظم نریندر مودی نے وعدہ کیا تھا کہ جموں و کشمیر میں درآمد برآمد ، فوڈ پروسیسنگ اور صحت کی دیکھ بھال سمیت بہت ساری صنعتیں فروغ پائیں گی ، لیکن ابھی تک ریاست کے باہر سے کسی نے بھی سرمایہ کاری کرنے پر آمادگی ظاہر نہیں کی ہے۔جموں و کشمیر اسٹیٹ انڈسٹریل ڈیو لپمنٹ کارپوریشن (سڈکو) اور انڈسٹری اینڈ کامرس ڈیپارٹمنٹ ، کے مطابق ، ابھی تک کسی بھی تارکین وطن کاروباری شخص نے جموں و کشمیر کے مختلف صنعتی اسٹیٹس کے اندر پڑے ہوئے بیمار یونٹوں کی بحالی کے لئے کوئی دلچسپی ظاہر نہیں کی ہے۔محکمہ کشمیر انڈسٹری کے اعدادوشمار کے مطابق بیمار یونٹ زیادہ ترسڈ کو کمپلیکس کھنموہ، رنگریٹ اور پلوامہ کے لاسی پورہ صنعتی سڈکو کمپلیکس کے اندر واقع ہیں۔ ان صنعتی یونٹوں کی عمارتیں تباہ شدہ ہیں، مشینری ناکارہ ہے اور خراب شدہ خام مال پڑا ہے۔