سرینگر//حریت کانفرنس(ع) نے کئی کشمیری صحافیوں،سیاسی کارکنوں اور تاجروں کے فون کی نگرانی کرنے کی حکومت کی کارروائی کو غیراخلاقی اورغیرقانونی قرار دیتے ہوئے اس کی شدیدالفاظ میں مذمت کی ہے۔ایک بیان میں حریت نے کہا کہ جیسا کہ’ The Wire‘نے اپنی تازہ رپورٹ میں انکشاف کیا ہے حریت کانفرنس کے چیرمین میرواعظ مولوی عمرفاروق ،سینئرایگزیکیٹوارکان مولوی مسرورعباس ،بلال غنی لون کے علاوہ کئی کشمیری صحافیوں ،سیاسی کارکنوں اور تاجروں کو ٹارگٹ سرویلنس پر رکھا گیا ہے۔حریت نے بیان میں کہا کہ اس غیرقانونی اور غیراخلاقی حرکت میں ملوث افراد اور ایجنسیوں کے خلاف باقاعدہ مقدمہ چلایا جانا چاہیے۔حریت نے کہا کہ حکومتوں کی جانب سے کسی بھی فرد کے فون کی نگرانی کیلئے انہیں ہیک کرنا ،نہ صرف بنیادی انسانی حق بلکہ نجی رازداری کے حق کی بھی سنگین خلاف ورزی ہے لیکن جموںوکشمیر میں یہ کوئی اچھنبے اور تعجب کی بات نہیں ہے۔حریت کانفرنس نے واضح کیا کہ اس کے چیئرمین میرواعظ مولوی محمد عمر فاروق کو گزشتہ دو برسوں یعنی اگست 2019 سے ہی حکمرانوں نے غیر قانونی طور پر نظر بند رکھا ہے اور اس طرح موصوف کے جملہ بنیادی اور بشری حقوق پہلے سے ہی سلب کرلئے گئے ہیں جو حد درجہ افسوسناک اور شرمناک ہے۔