حافظ خورشید عالم
شیخ نور الدین ولی ؒ کشمیر کے ایک بہت بڑے ولی کامل اور مبلغ اسلام تھے۔ان کا شمار کشمیر کے ان عظیم داعیان دین میں ہوتا ہے جنھوں نے کشمیر میں اسلام کے ابتدائی دورمیں اس کی تبلیغ اور اشاعت کاکارنامہ انجام دیا۔شیخ العالم نورالدین ولیؒ کی ولادت ۷۴۴ ھ مطابق1377 میں ہوئی۔ والدہ کا نام سدرہ اور والد کا نام سالار الدین تھا۔ان ؒ کا خاندان کشتواڑ سے تعلق رکھتا تھا۔ ان کے آباء و اجداد وہاں سے ہجرت کرکے کولگام کے ایک گائوں کیموہ میں آباد ہو گئے۔ سالار الدین نے اسلام قبول کیااورحضرت سید حسین سمنانی ؒ کے حلقہ تربیت میں آگئے ۔
شیخ العالم ؒ نے جب آنکھ کھولی تو کشمیر کے افق سے اسلام طلوع ہو چکا تھا۔جوانی کی چند ہی بہاریں گزری تھیں کہ کشمیر کی صدیوں پرمحیط تجرد پسندی نےانھیں اپنی طرف راغب کیا۔شیخ نو رالدین ولی ؒ نے محض بیس برس کی عمر میں نفس کشی اور ریاضت شروع کردی۔وہ اپنے اہل و عیال کو چھوڑ کر غار نشین ہو گئے۔ ایک دن ان کی بیوی دوبچوں کو لے کر اس غار تک پہنچ گئی۔انھوں نے بیوی کو کانٹوں کابستر پیش کیا لیکن وہ دونوں بچوں کو وہیں چھوڑ کر واپس لوٹ آئی۔دنوں بچوں کاچند ہی ماہ بعد انتقال ہو گیا ۔ شیخ نورالدین ولی کے دورمیں کشمیر کی تہذیب وتمدن اور مذہب و ثقافت میں زبردست تبدیلیاں رونما ہوئیں۔ یہاں کی صدیوں پر محیط پرانی تہذیبی قدریں ،اسلامی تہذیب و ثقافت کے زیر سایہ پروان چڑھنے لگیں۔کشمیر کی مقامی اور نئی اسلامی تہذیبی وتمدنی روایات ہم آہنگ ہو کر ایک نئی تہذیب کی بنیاد ڈالنے میں کامیاب ہوئیں جسے ریشیت کا نام دیا گیا۔ شیخ العالم نور الدین ولیؒ اس ریشی تحریک کے اولین علم بردار تھے۔ انھوں نے کشمیری تہذیب کو منفرد مزاج عطا کیا۔ایک ایسا مزاج اور رنگ جس کی بدولت کئی صدیوں سے کشمیر میں انسان کی عظمت اور انسانی اقدار کا بول بالا قائم ہے۔
حضرت میر سید علی ہمدانی ؒ کے فرزند میر سید محمد ہمدانی ؒ کی ملاقات کے بعد حضرت شیخ نور الدین ولی ؒ کی زندگی اورشاعری میں زبردست انقلاب آیا۔ شیخ العالم ؒ ریشی تحریک سے تعلق رکھتے تھے۔ کشمیر میں زاہدوں اورد رویشوں کی ایک ایسی جماعت نے لوگوں کو بہت زیادہ متاثر کیا تھا جنھوں نے ترک ِدنیااختیار کر لی تھی۔ شیخ نور الدین ولی ؒ کی زندگی اور شاعری کے پہلے دور میںتجرد، تنہائی اور تکلیف دہ ریاضت شامل تھی۔ لیکن حضرت میر سید محمد ہمدانی ؒ سے ملاقات اور ان کی بیعت کے بعد حضرت شیخ نور الدین ولیؒ کی زندگی میں عظیم تبدیلی رونما ہوئی۔انھوں نے کشمیری ریشیت کی اصلاح کر کے یہاں کے مقامی ریشیوں کو احسان و سلوک کے بلند مراتب تک پہنچایا۔ حضرت میر محمد ہمدانی ؒ کی شیخ العالم ؒسے ملاقات ایک تاریخی فیصلہ تھا جس نے اسلامی اخوت اوراتحاد و اتفاق کی راہوں کو ہمیشہ کے لیے کھول دیا۔ حضرت شیخ العالم ؒ میر محمد ہمدانی ؒ کے بڑے قدر داں تھے۔حضرت شیخ العالم ؒ چرار شریف سے حضرت میر محمد ہمدانیؒ کی ملاقات کے لیے روانہ ہوئے تو انھوں نے بھی آگے بڑھ کر ان کا استقبال کیا اور انھیں علمدار کشمیر کا منصب پیش کیا۔اس ملاقات کے بعد حضرت شیخ نور الدین ولیؒ نے اسلام کی تبلیغ اور شرعی احکام کی پابندی کی طرف لوگوں کو راغب کیا۔ انھوں نے اسلامی عقیدوں ، اسلامی اخلاق،عبادت اور تصوف کی تبلیغ اپنی شاعری کے ذریعے ایسے پر اثر انداز میں شروع کی کہ کشمیر کی مسجدیں،مدرسے اور کھیت کھلیان ان سے گونج اٹھے۔ ان کا اصل مقصد لوگوں تک اس پیغام کو پہنچانا تھا جوحضرت امیر کبیر سید علی ہمدانیؒ اور ان کے سعادت مند بیٹے میر محمد ہمدانی ؒنے ان کے سپرد کیا تھا۔ شیخ العالم کی شاعری عارفانہ اور مبلغانہ ہے۔ انھوں نےتوحید پرستی، دنیا کی حقیقت،تزکیہ نفس، اور آخرت کی فکر کے متعلق ایسے شعر کہے ہیں جو انسان کے دل پر گہرےاثر ات مرتب کرتے ہیں۔ کشمیر میں کلام شیخ العالم ؒبڑی عقیدت سے پڑھا جاتا ہے۔حضرت امیر کبیرؒ،میر محمد ہمدانیؒ اور سادات مبلغین کی زبان فارسی یا عربی تھی۔ان کے ارشادات سےصرف پڑھے لکھے لوگ ہی فیض حاصل کر سکتے تھے۔عام لوگوں کی زبان کشمیری تھی۔حضرت شیخ العالمؒ کے کلام نے کشمیر یوں کو عربی وفارسی کے بڑے بڑے دفاتر سے بے نیاز کردیا۔شیخ العالم ؒ نے اپنی شاعری کے لیے سنسکرت زبان کے شروکھ کا انتخاب کیا ہے۔ ان کی شاعری میں خوفِ خدا، آخرت کی فکر، تقوی، سچائی ، قناعت ،ترکِ دنیا ، صبر ورضا ،اخلاق، تصوف ،فلسفہ اور وعظ و نصیحت شامل ہیں۔
شیخ العالم ؒ اپنے عہد کی کئی شخصیات سے کافی متاثر تھے ۔کشمیر کی معروف شاعرہ لل عارفہ سے وہ کافی متاثر تھے۔ یہ بھی کہا جاتا ہے کہ پیدائش کے بعد تین دن تک انھوں نے دودھ نہیں پیا۔ اسی دوران لل دید آئیں اور ان سے کہا کہ جب دنیا میں آنے سے نہیں شرمائے تو اب کیوں شرماتے ہو۔ حضرت امیر کبیر سید علی ہمدانی ؒ اور ان کے فرزند ارجمند میر محمد ہمدانی ؒ سے بھی شیخ بہت متاثر تھے۔حضرت شیخ العالم کے چار خلفا بابا بام الدین،بابانصرالدین ،بابازین الدین او ربابا لطیف الدین تھے جن پرشیخ کو خود بھی ناز تھا۔
شیخ العالم ؒ کے مکمل حالات’’ریشی نامہ‘‘میں ان کی وفات کے ایک سو اسی برس بعد بابا نصیب الدین نے لکھے ہیں۔۔شیخ العالم کی ؒ وفات 837ھ مطابق 1438ء میں ہوئی۔ ان کا مزارچرار شریف میں ہےجو آج بھی مرجع خلائق ہے۔
(رابطہ نمبر8491096996)
[email protected]