پچاس سال قبل جہاں سرینگرشہرمیں نوجوانوں کے کھیل کود کیلئے ہر سوکھیل میدانوں کی بہتات تھی، وہیں آج شہرمیں گنے چنے ہی ایسے کئی کھیل کے میدان ہیں جہاں نوجوان کھیل کود کی سرگرمیوں میں حصہ لے سکتے ہیں۔ شہرمیں کھیل میدانوں کی کمی شدت سے محسوس کی جارہی ہے۔ حکومت نے گرچہ شہرکے پائین علاقوں میں کئی کھیل کے میدانوں کو سٹیڈیموں میں تبدیل کیا لیکن وہاں کھیل کودکی سہولیات نہ ہونے کے برابر ہیں۔کئی دہائیاں قبل شہرکی آبادی کم ہونے کی وجہ سے ہرطرف کھلی آب وہوا تھی۔بچوں اور نوجوانوں کے کھیلنے کیلئے ہر محلے میں چھوٹے چھوٹے گراؤنڈ تھے۔ان کے علاوہ شہرمیںمتعدد بڑے کھیل کے میدان ہوا کرتے تھے۔
پائین شہرکے نوجوان عیدگاہ گراؤنڈ میں اکثرفٹبال کھیلتے تھے۔ پچاس سال قبل عیدگاہ میدان کے علاوہ بٹہ مالوہ میں خرمادان ،جسے چاندماری گروانڈبھی کہتے تھے ،میں بھی لڑکے کھیلنے جاتے تھے۔ یہ کھیل کا وسیع میدان تھا۔ اس کے علاوہ موجودہ جہانگیرچوک کے متصل ،جہاں آج کل ریاستی ہائی کورٹ کاکمپلیکس قائم ہے ،بھی ایک وسیع وعریض میدان تھاجسے گول باغ کہتے تھے۔ مہاتماگاندھی کی استھیایہاں دفن کئے جانے کے بعداس میدان کو پھر گاندھی پارک کے نام سے بھی موسوم کیا گیا ۔ قابل ذکر ہے کہ1982میں جب مرحوم مرزاافضل بیگ نے شیخ محمد عبداللہ کا ساتھ چھوڑکر نیشنل کانفرنس کو خیرآباد کہا،تواسی گول باغ میں انہوں نے ایک عوامی جلسہ کیا تھا۔ اس کے ساتھ ہی ایک اور میدان تھا جس بعد ازاں ریاستی سیکریٹریٹ قائم کیا گیا ہے۔اس میدان میں بھی نوجوان کھیلنے جاتے تھے۔1947سے پہلے اس میدان میں زنانہ پارک قائم کی تھی جسے بعد میں برگیڈئرعثمان کے نام سے موسوم کیا گیا۔ برگیڈئرعثمان فوج میں برگیڈئرتھے اور1947میں قبائیلیوں کے ساتھ لڑتے لڑتے ہلاک ہوگئے تھے۔ا گرچہ اس میدان کا نام برگیڈئرعثمان زنانہ پارک عوامی مقبولیت حاصل نہ کرسکا لیکن اس پارک میں اس زمانے کی معروف خواتین کا آنا جاناتھا۔ تاہم شہر کے شرفاء کی خواتین گھروں سے شاذونادرہی کبھی باہر آتی تھیں اسلئے شہرکے شرفااورمتوسط طبقے کی خواتین نے کبھی بھی اس پارک کارُخ نہیں کیا۔ حضوری باغ جو آج کل ڈاکٹر سرمحمداقبال پارک کے نام سے موسوم ہے،بھی ایک وسیع وعریض میدان تھا جہاں اکثرنوجوان فٹبال کھیلنے جاتے تھے۔ اس میدان میں مختلف ٹورنامنٹوں کا انعقادہوتا تھا جہاں مختلف ٹیمیں ایک دوسرے سے مقابلہ کرتی۔ اس کے علاوہ اس میدان میں سیاسی جلسے بھی ہوتے تھے۔ اس کے علاوہ 1984میں جب غلام محمدشاہ نے ڈاکٹر فاروق عبداللہ کی حکومت کا تختہ پلٹ دیا ،تواس کے بعد وزیراعظم ہندآنجہانی اندرا گاندھی نے کشمیرکادورہ کیا اور اس میدان میں ایک عوامی جلسے سے بھی خطاب کیا جس کے دوران نیشنل کانفرنس کے کارکنوں میں زبردست ٹکرائو ہوا۔ 1989تک حضوری باغ کے میدان میں ہی دسہرہ کے موقعہ پرہندوبرادری راون،کنبھ کرن اور میگھ ناتھ کے پتلے نظرآتش کرتی تھی۔ پولوگراؤنڈمیدان کے علاوہ لڑکے ایس پی کالج گراؤنڈ،ا مرسنگھ کلب میدان میں کرکٹ اور فٹبال کھیلتے تھے۔ شہرکے گنجان آبادی والے علاقہ حبہ کدل میں بھی کھیل کا ایک میدان ہوا کرتا تھا جسے غدودباغ کہتے تھے۔ اس میدان میں بھی آس پاس کے محلوں کے بچے د ن بھر کھیلتے تھے۔اس علاوہ باباڈیمب میں موجودہ ایم پی اسکول کا گراؤنڈ بھی کھیل کود کا مرکز تھا۔سماجی کارکن ظریف احمد ظریف کہتے ہیںکہ وہ خود ملہ کھاہ میں موجود کھیل کے میدان جسے سرفہ وآری کہتے تھے، میں کھیلنے جایا کرتے تھے۔انہوں نے کہا کہ اس میدان میں مرحوم میرواعظ مولوی فاروق صاحب بھی لڑکپن کے ایام میں کرکٹ اورفٹبال کھیلنے آتے تھے۔منظوراحمدایک شہری نے بتایا کہ نوہٹہ میں جہاں آج کل مارکیٹ ہے، وہاں بھی جامع مسجد کے گرد و نواح میں بھی میدان ہوا کرتے تھے جہاں باغات بھی تھے۔منظور کہتے ہیں کہ اس باغ میںثمر بار درختوں کے علاوہ بچوں کے کھیلنے کیلئے بھی وافر قطعہ موجود تھا۔ ایک اور شہری نے بتایاکہ ان کے لڑکپن میں چالیس برس قبل شہر میں کھیل کے وسیع میدان تھے۔انہوں نے کہا کہ اس زمانے میں شہرمیں فٹبال کی تین ٹیمیں مشہورتھیں جن میں فوڈ اینڈ سپلائز، عیدگاہ اسپورٹس، ٹرانسپورٹ اور پولیس کی ٹیم شامل ہیں۔انہوں نے کہا کہ کسی بھی ٹورنامنٹ کے دوران عیدگاہ اورٹرانسپورٹ کی ٹیم کو تماشائیوں کابھرپور سپورٹ ملتا تھا لیکن پولیس کی ٹیم کی زبردست ہوٹنگ کی جاتی تھی۔ ایس پی کالج گراؤنڈ میں اکثر کرکٹ کے ٹورنامنٹوں کا انعقادہوتاتھا۔اس کے علاوہ امرسنگھ کلب کامیدان بھی کرکٹ کیلئے ہی مخصوص تھا۔ عیدگاہ میدان کے علاوہ پولوگراؤنڈ اور حضوری باغ کے میدانوں میں فٹبال کے ٹورنامنٹ منعقد ہواکرتے تھے۔
کانگریس نے سال1977میں26 مارچ کو شیخ محمدعبداللہ کی حکومت سے حمایت واپس لی اورریاست میں گورنرراج نافذکیاگیا۔اسی دوران ریاستی اسمبلی کیلئے انتخابات کے انعقاد کا اعلان ہوا۔کانگریس پہلے ہی پارلیمانی چناؤ میں شکست کا منہ دیکھ چکی تھی ۔پورے ہندوستان میں جنتاپارٹی کی لہر چل رہی تھی اور اب نیشنل کانفرنس چناؤ میدان میں کود پڑی تھی۔انہوں نے کہا کہ ان ہی دنوں شیخ صاحب علیل ہوگئے اور عوام میں تشویش کی لہر دوڑ گئی۔سماجی کارکن ظریف احمدظریف کاکہناہے کہ پھر عوامی تشویش کو دور کرنے کیلئے شیخ صاحب کا صدابندپیغام پولوگراؤنڈ میں عوام کوسنایا گیا۔انہوں نے کہا کہ اس روز اس میدان میں تل دھرنے کی جگہ نہیں تھی۔سال 1977میں ہی جب نیشنل کانفرنس نے انتخابات میں ریکارڈ توڑ کامیابی حاصل کی تو اسی میدان میں شیخ صاحب نے7جولائی1977کو عوام کا شکریہ ادا کیا۔اس کے علاوہ اس میدان میں شیخ صاحب کی وفات پر ان کی میت کو عوامی دیدار کیلئے دودن رکھاگیاجس کے دوران لاکھوں لوگوں نے یہاں مرحوم رہنما کا آخری دیدار کیا۔اسی میدان میں بخشی غلام محمد کی نماز جنازہ بھی ادا کگئی تھی۔
سرینگر میں اب نوجوانوں کے کھیل کود کیلئے میدان ہی جیسے نہیں ہیں۔ امرسنگھ کلب میدان تو عام لوگوں کیلئے ممنوع جگہ ہے۔ٹی آر سی گراؤنڈ کے نصف سے زیادہ رقبے کواسٹیڈیم بنایاگیا ہے اوراب سول لاینزعلاقے میں صرف پولوگراونڈ میںہی اب نوجوان کھیل سرگرمیاں جاری رکھ سکتے ہیں۔عید گاہ کے میدان کی حالت ناگفتہ بہہ ہے۔ا گرچہ حکومت نے پائین شہر میں غنی میموریل اسٹیڈیم بنایا لیکن وہاں کوئی بھی سہولیت موجود نہیں ہے۔اس کے علاوہ رعناواری میں بھی ایک چھوٹے سے قطعہ کواسٹیڈیم کی شکل دی گئی لیکن وہاں بھی سہولیات کافقدان ہے۔مجموعی طوردیکھا جائے تو اب شہرسرینگرمیں نوجوانوں کے کھیل کود کیلئے ماسوائے کچھ میدانوں کے کوئی گرائونڈ ہی نہیں ہے اورنہ ہی مستقبل قریب میں شہرمیں ایسی کسی جگہ کامہیا ہونا ممکن ہے کیونکہ شہر سرینگر کے پھیلائو کے بعد شاذہی کہیں کسی کالونی یا علاقہ میں اتناوسیع رقبہ اراضی دستیاب ہے کہ جسے نوجوانوں کے کھیل کود کے میدان کیلئے استعمال کیاجائے۔