سرینگر //واک آئوٹ کے بعد جہاں نیشنل کانفرنس ، کانگریس ممبران نے گورنر کے خطبہ پر بحث سے بائیکا ٹ کیا وہیں اپوزیشن کی غیر موجودگی میں ممبر اسمبلی خانصاحب حکیم محمد یاسین نے شہری ہلاکتوں ، نسانی حقوق کی پامالیوں ، مساجدوں میں نمازیوں پر پابندی پکڑ دھکڑ کے خلاف سرکار کی خوب خبر لی ۔ گورنر خطبے پر بحث کرتے ہوئے حکیم محمد یاسین نے کہا کہ اس سال جو خطبہ گورنر نے پیش کیا وہ نہایت ہی کمزور تھا ۔ انہوں نے کہا کہ یہاں پہلے 90میں خالات خراب تھے لیکن اب 2017میں بھی ایسے ہی حالات بن گے ہیں جہاں ہر طرف لوگ اپنے آپ کو غیر محفوظ تصور کر رہے ہیں ۔ انہوں نے کہا کہ سڑکیں بنیں گئی کالج بنیں گے ہسپتال اور دیگر عمارات بنیں گئی، تاہم ہمیں سب سے پہلے اُس چیز پر توجہ دینی چاہئے جس میں جموں وکشمیر کے لوگ پھنسے ہوئے ہیں ۔ حکیم محمد یاسین نے کہا ’’ آپ اگر کہتے ہیں کہ کشمیر کا مسئلہ کوئی مسئلہ نہیں ہے تو پھر مذاکراتکار کی تعیناتی کیوں عمل میں لائی گئی کیوں وزیر اعظم نے دلی کے لال قلہ سے کہا کہ کشمیریوں کو گلے لگانے سے بات بنے گئی ۔‘‘ انہوں نے کہا کہ یہاں مرکزی سرکار نے مذاکراتکات کو بھیجا لیکن انہیں وہ اختیار ہی نہیں دئے گے ہیں ۔انہوں نے کہا کہ سید علیٰ شاہ گیلانی کئی برسوں سے خانہ نظر ہیں ۔ہمیں یاد ہے کہ اگر گیلانی صاحب کو 1ماہ بھی بند رکھا جاتا تھا تو ریاست کی موجودہ وزیر اعلیٰ محبوبہ مفتی اپوزیشن میںبیٹھ کر ہنگامہ کرتی تھی لیکن بھی وہ بند ہیں اُن پر پہرے ہیں آج کیوں خاموش ہیں۔انہوں نے کہا کہ امن اور آشنی کی بات کی جاتی ہے لیکن کشمیر میں جمعہ نماز پڑھنے پر پابندی عمل میں لائی جاتی ہے ۔انہوں نے کہا کہ آپ کروڑوں روپے لائوں تعمیر وترقی کرائو لیکن اس سے کوئی حل نہیں نکلے گا جب تک نہ بامعنی مذاکرات شروع کئے جائیں گے ۔انہوں نے کہا کہ دلی کے لال قلہ سے جب وزیر اعظم نے گلے لگانے کی بات کی اُس کے فوراًً بعد بھی کشمیر میں میں معصوموں پر گالیاں چلائیں گئیں،ورزنہ ایسا ہونا تھا کہ اُس کے بعد ان کاروئیوں میں ملوث لوگوں کے خلاف سرکار کو سخت کاروائی عمل میں لانی تھی لیکن ایسا نہیں ہوا ۔ انہوں نے کہا کہ چھاپہ مار ی اور این آئی اے کی کاروائیوں سے مسئلے حل نہیں ہوتے ہیں بلکہ اُس سے حالات مزید خراب ہوتے ہیں ۔ انہوں نے کہا کہ جو بچے اور خواتین گھروں میں تھیں اُن پر گولیاں چلائی گئیں اور ایسی مائوں کو گولیاں سے بوندھ ڈالا گیا جو بچوں کو دودھ پلا رہی تھی ۔انہوں نے کہا کہ پہلے پیلٹ کا استعمال نہیں ہوتا تھا اب پیلٹ کا استعمال بھی ہو رہا ہے ۔پہلے ایک مرتا تھا اب درجنوں مر رہے ہیں ۔انہوں نے سرکار سے سوال کرتے ہوئے کہا کہ انسانی حقوق کی پامالیوں پر روک لگانے کیلئے اقدمات کئے جائیں اور اس کی روک تھام کیلئے ایک راستہ تلاش کیا جائے ۔انہوں نے کہا کہ اگر ریاستی وزیر اعلیٰ کی گلے لگانے کی بات میں کوئی سچائی ہے تو پھر صیحی معنوں میں گلے لگایا جائے ۔انہوں نے کہا کہ کشمیری نوجوان ملی ٹنسی کی طرف راغب ہو رہے ہیں اور اس سے سب کو سبق سیکھ لینا چاہئے اور اگرکوئی مقامی جنگجو ہلاک ہوتا ہے تو اس کے جنازہ میں ہزاروں کی تعداد میں لوگ جمع ہوتے ہیں یہ ہمارے لئے کڑی آزمائش ہے ۔انہوں نے کہا کہ سرحدوں پر حالات کشیدہ ہیں گولہ باری سے لوگ مر رہے ہیں اور بات چیت کا کوئی سلسلہ آگے نہیں بڑھ رہا ہے ۔