راجوری//چند روز قبل شوپیان میں پراسرار طور پر مردہ پائے گئے کوٹرنکہ کے نوجوان کے اہل خانہ نے حکام سے اس حوالے سے غیر جانبدارانہ کارروائی کا مطالبہ کرتے ہوئے دعویٰ کیاکہ جب وہ گھر سے کشمیر کیلئے نکلاتواس کے پاس ایک لاکھ پچیس ہزار روپے تھے ۔یہاں یہ بات قابل ذکر ہے کہ چند روز قبل شوپیان کے ایک باغ سے صبح کے وقت پولیس کو عمر سہیل ولد آصف اقبال ساکن موہڑہ کوٹرنکہ اوراس کے ساتھ ایک دوسرے نوجوان کی نعشیں ملیں اور پولیس نے اس کی وجہ منشیات کا استعمال بتایا۔ تاہم نوجوان کے اہل خانہ کاکہناہے کہ یہ منشیات کا کیس نہیں بلکہ اس کی تحقیقات کی جائے ۔ ذرائع ابلاغ سے بات کرتے ہوئے عمر سہیل کے اہل خانہ نے بتایاکہ وہ گھر میں اکیلا بھائی تھا اوراس کے والد کا بھی چند سال قبل انتقال ہوچکاہے۔عمر کے والدہ شبانہ کوثر نے بتایاکہ اس کا بیٹا ایک مقامی لڑکے کے ذریعہ کشمیر میں کسی لڑکے ساتھ رابطے میں تھا اور وہ چاہتاتھاکہ وہ کشمیر کے اس لڑکے سے گاڑی خریدے ۔انہوںنے بتایاکہ چند ہفتے قبل عمر کشمیر گیا اور ایک لاکھ روپے لیکر کشمیر کے لڑکے کودیئے ۔انہوںنے مزید بتایاکہ اٹھائیس تاریخ کو عمر چار دیگر لڑکوں کے ہمراہ پھر سے کشمیر گیا اور اس بار اس نے اپنے ساتھ ایک لاکھ پچیس ہزار روپے لئے ۔عمر کی والدہ کے مطابق ان چارلڑکوں میں ایک وہ بھی شامل تھا جس کی نعش بھی عمر کے ساتھ ملی جبکہ تیسرا لڑکا گاڑیوں کادلال تھا اور چوتھانامعلوم ہے جسے وہ نہیں جانتی ۔ ان کاکہناہے کہ عمر کی نعش تو مل گئی لیکن اس کے پاس جو ایک لاکھ پچیس ہزار روپے تھا وہ نہیں ملا جس سے صاف ظاہر ہوتاہے کہ اس معاملے میں کچھ کالاہے جس کی غیر جانبدارانہ تحقیقات کرنے کی ضرورت ہے تاکہ اسے انصاف مل سکے ۔اہل خانہ نے شوپیان پولیس سے مطالبہ کیاکہ اس معاملے کی غیر جانبدارانہ تحقیقات کی جائے اور کیس کو ہر ایک زاویہ سے دیکھاجائے کیونکہ ان کے بیٹے کا قتل ہواہے اور اس سے پیسے بھی چھین لئے گئے ۔