سیول// شمالی کوریا نے منگل کے روز ایک ہفتے سے بھی کم وقت میں مشرقی سمندر میں اپنا دوسرا بیلسٹک میزائل داغا، جو صورتحال پر سخت موقف اختیار کرنے کے علاوہ پیونگ یانگ کے پڑوسیوں کی تنقید کا سبب بن رہا ہے ۔ یہ اطلاع امریکی فوج نے دی ہے ۔یو ایس انڈو پیسیفک کمانڈ نے کہا ‘‘ہم بیلسٹک میزائلکے لانچ سے آگاہ ہیں۔ ہم اپنے اتحادیوں اور شراکت داروں کے ساتھ بات چیت کر رہے ہیں۔یہ لانچ اس وقت ہوا جب اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل نے گزشتہ ہفتے پیونگ یانگ کے ایک اور میزائل تجربے کے بارے میں ایک خفیہ میٹنگ منعقد کی تھی۔اس موقع پر جاپانی وزیر اعظم فومیو کشیدا نے افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا ‘‘یہ افسوسناک ہے کہ شمالی کوریا مسلسل میزائل داغ رہا ہے ، اور وہ بھی اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کے ذریعہ شمالی کوریا کے پہلے تجربے پر بحث کے فوراً بعد’’۔ انہوں نے کہا کہ شمالی کوریا کی فوجی سرگرمیوں پر جاپان اب مزید گہری نظر رکھے ہوئے ہے ۔انہوں نے کہا کہ ‘‘شمالی کوریا کی جانب سے میزائل لانچ کیا جانا اس کے غیر قانونی ہتھیاروں کے پروگرام کے غیر مستحکم اثر کو ظاہر کرتا ہے ۔ تاہم، اس سے امریکہ یا اس کے فوجیوں کو کوئی خطرہ نہیں ہے ’’۔خبر رساں ایجنسی یونہاپ کے حوالے سے بتایا گیا ہے کہ شمالی کوریا نے اس میزائل کا تجربہ چین کی سرحد سے متصل شمالی علاقے چانگانگ سے کیا تھا۔