سمت بھارگو
راجوری//فوج کی شمالی کمان کے سربراہ لیفٹیننٹ جنرل پرتیک شرما نے کہا ہے کہ تیزی سے بدلتے عالمی اور علاقائی حالات کے پیش نظر ہر وقت چوکنا اور تیار رہنا وقت کی اہم ضرورت ہے۔ انہوں نے کہا کہ موجودہ حالات میں جنگ کے خطرات میں اضافہ ہو رہا ہے اور روایتی و غیر روایتی دونوں طرح کے چیلنجز درپیش ہیں۔وہ ہفتہ کے روز منعقدہ ایک اعزازی تقریب سے خطاب کر رہے تھے، جہاں انہوں نے فوجی اہلکاروں کی پیشہ ورانہ صلاحیتوں، بہادری اور قربانیوں کو سراہا۔ انہوں نے کہا کہ شمالی کمان کے تمام جوان ملک کی سرحدوں کے تحفظ کے لیے پوری لگن اور عزم کے ساتھ خدمات انجام دے رہے ہیں۔
لیفٹیننٹ جنرل شرما نے کہا کہ جدید دور کی جنگ صرف میدان جنگ تک محدود نہیں رہی بلکہ اس میں ٹیکنالوجی، صنعت اور سماج کا اشتراک بھی شامل ہو چکا ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ جنگی حکمت عملی میں تیزی سے تبدیلی آ رہی ہے، جس کے پیش نظر فوج اپنی صلاحیتوں کو ہر شعبے میں مزید مضبوط بنا رہی ہے۔انہوں نے مزید کہا کہ جدید جنگ میں درست نشانہ لگانے والے ہتھیار، بغیر پائلٹ فضائی نظام، مصنوعی ذہانت اور برقی جنگی نظام اہم کردار ادا کر رہے ہیں، جبکہ ان کے مقابلے کے لیے نئی صلاحیتوں کی ضرورت بھی بڑھ رہی ہے۔ ان کے مطابق آج کی جنگ میں روایتی خندقوں کی لڑائی کے ساتھ جدید ٹیکنالوجی کا امتزاج نظر آ رہا ہے۔لیفٹیننٹ جنرل شرما نے آپریشن سندور کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ اس کارروائی کے دوران فوج نے 88 گھنٹوں میں نمایاں کامیابیاں حاصل کیں اور کئی دہشت گرد ٹھکانوں اور لانچ پیڈز کو تباہ کیا۔ انہوں نے اس کامیابی کا سہرا سفارتی حکمت عملی، مضبوط دفاعی تیاری، فیصلہ کن کارروائی اور سیاسی عزم کو دیا۔انہوں نے کہا کہ بھارتی فوج اس وقت ایک جامع تبدیلی کے عمل سے گزر رہی ہے، جس کی بنیاد پانچ اہم ستونوں پر رکھی گئی ہے۔ ان میں مشترکہ ہم آہنگی، تنظیمی ڈھانچے میں بہتری، جدید ٹیکنالوجی کا استعمال، نظام و طریقہ کار کی اصلاح اور انسانی وسائل کی ترقی شامل ہیں۔تقریب کے دوران لیفٹیننٹ جنرل پرتیک شرما نے نمایاں کارکردگی دکھانے والے فوجی اہلکاروں اور یونٹس کو اعزازات سے نوازا۔ مجموعی طور پر 93 اعزازات دیے گئے، جن میں 52 انفرادی اور 41 یونٹ سطح کے اعزازات شامل تھے۔انفرادی اعزازات میں یدھ سیوا میڈل، سینا میڈل، وششٹ سیوا میڈل اور جیون رکشا پدک (بعد از مرگ) جیسے اہم اعزازات شامل تھے، جو غیر معمولی بہادری اور خدمات کے اعتراف میں دیے گئے۔تقریب میں سینئر فوجی افسران، اعزاز یافتہ اہلکاروں اور ان کے اہل خانہ نے شرکت کی۔