جموں//سیکریٹری محکمہ منصوبہ بندی و نگرانی ایم راجو نے پیر کو اہم پروجیکٹوں کی پیش رفت کا متعلقہ محکموں کے اعلیٰ افسران کے ساتھ منعقدہ میٹنگ میں جائیزہ لیا ۔ دورانِ میٹنگ مختلف معاملات بشمول سرحدی دیہات میں جاری ترقیاتی عمل وزیر اعظم ترقیاتی پروگرام ، اہم نوعیت کے پروجیکٹوں اور دیگر اہم پروگراموں وغیرہ پر مفصل غور و خوض ہوا ۔ میٹنگ میں 2793 کروڑ روپے مالیت کے کثیر المقاصد شاہ پور کنڈی بیراج پروجیکٹ کو بھی زیر بحث لایا گیا جس پر 8 ستمبر 2018 کو حکومت جموں کشمیر اور حکومت پنجاب کے مابین تازہ معاہدے کے بعد کام شروع ہو چکا ہے ۔ پروجیکٹ کو بعد میں مرکزی کابینہ نے قومی پروجیکٹ قرار دیا ۔ مکمل ہونے پر پروجیکٹ سے 53927 ہیکٹر اراضی کیلئے آبپاشی سہولت فراہم ہونے کے ساتھ سالانہ 470 ایم یو بجلی نسبتاً کم لاگت پر جموں کشمیر کیلئے تیار ہو گی ۔ میٹنگ میں فیصلہ لیا گیا کہ حکومت پنجاب کو جموں کشمیر کی طرف سے مزید تعطل کے بغیر کام شروع کرنے کیلئے کہا جائے گا ۔ میٹنگ میں بتایا گیا کہ پروجیکٹ کی نگران کمیٹی کو سی ڈبلیو سی رُکن کی صدارت میں ہر تین ماہ کے بعد میٹنگ منعقد کرنے کا اختیار دیا گیا ہے ۔ اس نوعیت کی دو میٹنگیں دس اپریل 2019 اور 15 نومبر 2019 اب تک پروجیکٹ کی پیش رفت کا جائیزہ لینے کیلئے منعقد ہوئی ہیں ۔ میٹنگ میں مزید بتایا گیا کہ مرکزی وزیر برائے جل شکتی نے پروجیکٹ پر جاری کام کا جائیزہ22 جنوری 2020 کو لیا اور متعلقہ افسروں کو سی ڈبلیو سی کے رُکن کی سربراہی میں سٹینڈنگ کمیٹی کی باقاعدہ میٹنگ کے انعقاد یقینی بنانے کی ہدایت دی تا کہ جموں کشمیر کے خدشات کو دور کیا جا سکے ۔ دورانِ میٹنگ 624 ایم ڈبلیو کیرو پن بجلی پروجیکٹ ،540 میگاواٹ کثیر المقاصد اوجھ پروجیکٹ ، بٹھنڈا ۔ جموں نیچرل گیس پائپ لائین ، اوجھ دریا پر 445 میٹر سپین پُل پر جاری کام کا بھی جائیزہ لیا گیا اس کے علاوہ قابلِ تجدید توانائی ، تجارتی اصلاحات ایکشن پلان ۔ ای او ڈی بی ، پی ایم اے وائی ، جل جیون مشن ، سمارٹ سٹی مشن وغیرہ اہم سکیموں پر بھی غور و خوض ہوا ۔ دورانِ میٹنگ چھوٹے پیمانے کے مجوزہ پن بجلی پروجیکٹوں وزارت برائے جدید اور قابلِ تجدید توانائی کے پروجیکٹوں کی عمل آوری کے علاوہ وزارت برائے سڑک ٹرانسپورٹ اور قومی شاہراہ کے مجوزہ پروجیکٹوں جو کہ بھارت مالا کے تحت تعمیر کئے جانے والے ہیں کو بھی زیر بحث لایا گیا۔ میٹنگ میں 30 کلو میٹر جموں اکھنور سڑک اور قومی شاہرہ 1 اے کے چنینی ناشری حصے کو چار رویہ بنانے پر بھی غور ہوا ۔ سیکریٹری کو جموں اور سرینگر شہروں کیلئے سمارٹ سٹی مشن پروجیکٹوں پر جاری پیش رفت کے بارے میں جانکاری دی گئی ۔ انہیں بتایا گیا کہ 182 پروجیکٹوں میں سے 86 جموں شہر کیلئے اور 96 سرینگر کیلئے تجویز کئے گئے ہیں جن میں سے 402 کروڑ روپے کے 7 پروجیکٹ اور 663 کروڑ روپے کی مالیت کے 17 پروجیکٹوں پر کام جاری ہے جبکہ 1213 کروڑ روپے کی مالیت کے 42 پروجیکٹوں کیلئے ٹینڈر طلب کئے گئے ہیں ۔ سیکریٹری نے متعلقہ حکام کو پی ایم ڈی پی کے تحت مختلف پروجیکٹوں اور دیگر مرکزی معاونت والی اہم سکیموں کی بروقت تکمیل کیلئے کام کی رفتار میں سرعت لانے کیلئے تمام ممکن اقدامات اٹھانے کی ہدایت دی ۔