عظمیٰ نیوزسروس
جموں//سابق وزیر اور بی جے پی کے سینئررہنما سکھ نندن چودھری نے جمعرات کو جموں کے منڈل کمشنر دفتر کی جانب سے زمین کے استعمال میں تبدیلی (Change of Land Use ) کی فیس کے معقول تعین سے متعلق دی گئی سفارشات کو فوری طور پر نافذ کرنے کا مطالبہ کیا۔ انہوں نے موجودہ نظام کو ’’دیہی زمین مالکان کے ساتھ گہرا امتیازی اور ناانصافی پر مبنی ‘‘قرار دیا۔سکھ نندن چودھری، ڈاکٹر پردیپ ماہوترہ (میڈیا انچارج، جموں و کشمیر بی جے پی)، راکیش پنت (صدر، کسان مورچہ، جموں و کشمیر بی جے پی) اور بلبیر کمار (ڈی ڈی سی رکن اور نائب صدر، درج فہرست ذات مورچہ، جموں و کشمیر بی جے پی) کے ہمراہ بی جے پی ہیڈکوارٹر، تریکوٹا نگر، جموں میں ایک پریس کانفرنس سے خطاب کر رہے تھے۔ چودھری نے 28 مارچ 2024 کو جاری ایک سرکاری خط کا حوالہ دیا، جس میں منڈل کمشنر، جموں نے واضح طور پر تسلیم کیا ہے کہ جموں ڈیولپمنٹ اتھارٹی کی جانب سے CLU فیس عائد کرنے کے طریقہ کار میں سنگین بے قاعدگیاں پائی جاتی ہیں۔چودھری نے کہا کہ یہ نہایت حیران کن ہے کہ دور دراز دیہی علاقوں کے زمین مالکان،جہاں زمین کی مارکیٹ ویلیو خاصی کم ہے،سے جموں شہر کے سب سے مہنگے علاقوں، جیسے گاندھی نگر، کی بلند ترین اسٹامپ ڈیوٹی شرحوں کی بنیاد پر CLU فیس وصول کی جا رہی ہے۔انہوں نے سوال اٹھایا’’کسی دیہی گاؤں کے کسان یا چھوٹے زمین مالک سے گاندھی نگر کے برابر CLU فیس کیوں لی جائے؟ یہ سراسر معاشی ناانصافی ہے‘‘۔انہوں نے بتایا کہ منڈل کمشنر کے خط میں واضح کیا گیا ہے کہ جموں ماسٹر پلان2032کے تحت جے ڈی اے کا دائرہ اختیار جموں اور سانبہ اضلاع کے شہری اور دیہی—دونوں علاقوں تک پھیلا ہوا ہے، جہاں مارکیٹ ویلیو اور اسٹامپ ڈیوٹی کی شرحیں ایک دوسرے سے نمایاں طور پر مختلف ہیں۔ پورے خطے کے لیے ایک ہی، وہ بھی بلند ترین شرح کو معیار بنانا، چودھری کے مطابق، “عقل، انصاف اور قانون—تینوں کے خلاف ہے‘‘۔انہوں نے کہا’’جب انتظامیہ خود تسلیم کر چکی ہے کہ موجودہ طریقہ کار غلط ہے، تو پھر تبدیلی نافذ کرنے میں تاخیر کیوں؟‘‘۔سینئر بی جے پی رہنما نے محکمہ ہاؤسنگ و اربن ڈیولپمنٹ اور جموں ڈیولپمنٹ اتھارٹی سے اپیل کی کہ وہ منڈل کمشنر کی سفارشات کو فوری طور پر اپنائیں اور CLU فیس کا تعین مقامی اسٹامپ ڈیوٹی شرحوں کی بنیاد پر کریں، تاکہ دیہی زمین مالکان کو طویل عرصے سے زیر التوا راحت مل سکے۔