لیفٹیننٹ گورنر کی جموں ڈویژن کی سیکورٹی صورتحال، نشہ مکت ابھیان کی پیش رفت اور آئندہ یاتراؤں کی تیاریوں کا جائزہ
عظمیٰ نیوزسروس
جموں//لیفٹیننٹ گورنر منوج سنہا نے ایک اعلیٰ سطحی اجلاس کی صدارت کی، جس میں سیکورٹی صورتحال، نشہ مکت جموں و کشمیر ابھیان کی پیش رفت اور آئندہ یاتراؤں کے لیے ضلع وار تیاریوں کا جائزہ لیا گیا۔اجلاس کے دوران ڈپٹی کمشنرز اور ایس ایس پیز نے لیفٹیننٹ گورنر کو اپنے اپنے اضلاع میں امن و قانون اور سیکیورٹی صورتحال کے بارے میں آگاہ کیا۔ انہوں نے ’نشہ مکت جموں و کشمیر ابھیان‘ کے تحت 100 روزہ مہم کی پیش رفت اور مختلف یاتراؤں کے انعقاد سے متعلق تیاریوں کی تفصیلات بھی پیش کیں، جن میں امرناتھ یاترا، کوثر ناگ یاترا اور بڈھا جی یاترا شامل ہیں۔لیفٹیننٹ گورنر نے ڈی سیز اور ایس ایس پیز کو ہدایت دی کہ پولیس، سول انتظامیہ اور سیکیورٹی فورسز کے درمیان مکمل ہم آہنگی کو یقینی بنایا جائے۔ انہوں نے مزید کہا کہ عوامی شکایات کے ازالے کے لیے بلاک اور تھانہ دیوس کا باقاعدگی سے انعقاد کیا جائے۔لیفٹیننٹ گورنر نے منشیات کے مسئلے سے نمٹنے کے لیے پورے معاشرے کی شمولیت کے ساتھ نتیجہ خیز اقدامات کرنے پر زور دیا۔ انہوں نے منشیات کے اسمگلروں اور سپلائرز کے خلاف تمام متعلقہ اداروں کے اشتراک سے سخت کارروائی کرنے کی ہدایت دی۔انہوں نے جموں ڈویژن میں نارکو کوریڈورز کی نشاندہی کرنے پر زور دیا تاکہ ان علاقوں میں سرگرم نیٹ ورکس اور ہاٹ سپاٹس کو مکمل طور پر ختم کیا جا سکے۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ عالمی ادارہ صحت کے معیاری طریقہ کار کے مطابق علاقہ وار منشیات کے استعمال کے رجحانات اور ایک “ولنریبلٹی انڈیکس‘‘ پر مبنی مطالعہ کیا جائے۔ امرناتھ یاترا 2026 اور دیگر آئندہ یاتراؤں کے انتظامات کے حوالے سے لیفٹیننٹ گورنر نے ڈی سیز اور ایس ایس پیز کو ہدایت دی کہ وہ اپنے اپنے اضلاع میں جامع جائزہ لیں۔لیفٹیننٹ گورنر نے مزید ہدایت دی کہ وائبرنٹ ولیجز پروگرام کے مؤثر نفاذ کو یقینی بنایا جائے تاکہ دیہی صحت، ترقی، معاشی تبدیلی اور سماجی بہبود کو فروغ دیا جا سکے، اور غیر متعدی امراض کی 100 فیصد سکریننگ کو یقینی بنایا جائے۔آخر میں، لیفٹیننٹ گورنر نے ایک بار پھر سخت ہدایت جاری کی کہ تمام سیکیورٹی فورسز کے درمیان مکمل ہم آہنگی کے ذریعے سیکیورٹی نظام کو مزید مضبوط بنایا جائے تاکہ ابھرتے ہوئے خطرات کے خلاف ایک ناقابلِ تسخیر حفاظتی حصار قائم کیا جا سکے۔ انہوں نے دہشت گردوں کو پناہ دینے والے افراد اور او جی ڈبلیوز کے خلاف سخت ترین کارروائی کرنے کی ہدایت دیتے ہوئے واضح کیا کہ قومی سلامتی کے خلاف خطرات کو پناہ دینے والوں کے لیے زیرو ٹالرنس پالیسی اپنائی جائے گی۔