گاندربل//سینٹرل یونیورسٹی کشمیر میں راج بھاشا کے تحت ایک روزہ ورکشاپ کا انعقاد کیا گیا۔ اس موقع پر رجسٹرار پروفیسر ایم افضل زرگر نے کہا کہ یونیورسٹی میں راج بھاشا سیل کے قیام کے بعد سے انتظامی عملے نے ہندی سیکھنے میں گہری دلچسپی ظاہر کی ہے اور بیشتر طلباء نے تینوں پروگرام پروبود ، پروین اور پراگیا کورس مکمل کئے۔. انہوں نے کہا کہ یونیورسٹی کے متعدد کارکن اپنے روزانہ سرکاری کام میں ہندی کا استعمال بھی کررہے ہیں انہوں نے مزید کہا کہ مزید ملازمین نے زبان سیکھنے کے لئے اپنا نام اندراج کرایا ہے۔پروفیسر زرگر نے کہا کہ راج بھاشا سیل باقاعدگی سے ورکشاپ اور دیگر سرگرمیاں انجام دے رہی ہیں تاکہ عملے کو زبان کے استعمال سے پوری طرح واقفیت حاصل ہوجائے۔انہوں نے مزید کہا کہ ہندی پورے ملک کے لوگوں کے لئے رابطے کی زبان بن گئی ہے۔ورکشاپ سے خطاب کرتے ہوئے امتحانات کے کنٹرولر پروفیسر پروین پنڈت نے کہا کہ زبان کسی خاص برادری ، فرقے ، مذہب یا علاقے سے تعلق نہیں رکھتی ہے۔مختلف زبانیں سیکھنا لوگوں کے لئے انتہائی فائدہ مند ثابت ہوسکتا ہے کیونکہ اس سے انہیں مختلف محاذوں پر طاقت ملتی ہے ۔ انہوں نے مزید کہا کہ ہر زبان اپنی طرح سے اہم اور انوکھی ہوتی تھی۔فنانس آفیسر پروفیسر پروفیسر فیاض احمد نکہ نے ورکشاپ کے انعقاد کے لئے راج بھاشا سیل کی تعریف کی۔ سربراہ شعبہ راج بھاشا وزارت تعلیم،محترمہ سنیتی شرما نے خطاب کرتے ہوئے زبانی رابطے اور سرکاری تحریر کے دوران ہندی کے آسان الفاظ استعمال کرنے کو کہا،’’ہندی لکھنے اور بولنے کا مقصد دوسروں کے ساتھ آسانی سے بات چیت کرنا چاہئے۔‘‘ انہوں نے سرکاری مواصلات میں ہندی کی اہمیت کی نشاندہی کرنے والے آئین کے مختلف آرٹیکلز پر تفصیلی روشنی ڈالی۔