جاوید اقبال
مینڈھر// گورنمنٹ ہائی سکول سڑوتی میں بنیادی سہولیات کی شدید کمی نے تعلیمی نظام کو بری طرح متاثر کر دیا ہے، جس کے باعث طلباء و طالبات کو روزمرہ کی بنیاد پر مشکلات کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔ مقامی ذرائع کے مطابق سکول میں صرف چار کمرے موجود ہیں، جن میں ایک دفتر، ایک سٹور روم اور ایک لیبارٹری شامل ہے، جبکہ تقریباً 300 کے لگ بھگ طلباء و طالبات کے لئے صرف ایک ہی کمرہ دستیاب ہے، جو کسی بھی لحاظ سے ناکافی ہے۔طلباء کا کہنا ہے کہ ایک ہی کمرے میں مختلف جماعتوں کے بچوں کو بٹھایا جاتا ہے، جس کی وجہ سے نہ صرف تعلیمی ماحول متاثر ہو رہا ہے بلکہ اساتذہ کو بھی پڑھانے میں دشواری پیش آ رہی ہے۔
والدین نے بھی اس صورتحال پر شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے متعلقہ محکمہ کے افسران کو تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔مقامی لوگوں کے مطابق سال 2019 میں سکول کی ڈبل سٹوری عمارت کی تعمیر کا کام شروع کیا گیا تھا، جس کے لیے تقریباً ایک کروڑ تیس لاکھ روپے کا ٹینڈر منظور ہوا تھا۔ تاہم، ابتدائی مرحلے میں لنٹر ڈالنے کے بعد ہی ٹھیکیدار نے کام ادھورا چھوڑ دیا اور کئی برس گزر جانے کے باوجود یہ عمارت مکمل نہ ہو سکی۔ اس ادھوری تعمیر کی وجہ سے نہ صرف سرکاری وسائل ضائع ہو رہے ہیں بلکہ بچوں کی تعلیم بھی شدید متاثر ہو رہی ہے۔والدین کا کہنا ہے کہ حکومت کی جانب سے تعلیم کے فروغ کے دعوے اپنی جگہ، لیکن زمینی سطح پر صورتحال اس کے برعکس نظر آتی ہے۔ انہوں نے الزام عائد کیا کہ متعلقہ محکمہ کے بعض افسران کی لاپرواہی اور عدم دلچسپی کے باعث یہ منصوبہ التواء کا شکار ہے۔علاقہ مکینوں اور طلباء کے والدین نے ضلع ترقیاتی کمشنر پونچھ سے اپیل کی ہے کہ وہ خود سکول کا دورہ کریں اور صورتحال کا جائزہ لیں۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ نامکمل عمارت کا کام فوری طور پر مکمل کروایا جائے اور موجودہ ٹھیکیدار کا لائسنس منسوخ کر کے کسی ذمہ دار ٹھیکیدار کو کام سونپا جائے تاکہ تعلیمی ادارے کی حالت بہتر بنائی جا سکے۔مزید برآں، انہوں نے متعلقہ محکمہ کے ان افسران کے خلاف بھی کارروائی کا مطالبہ کیا ہے، جنہوں نے کئی سال گزرنے کے باوجود اس اہم منصوبے کو مکمل نہیں کروایا۔ عوام کا کہنا ہے کہ سرکاری فنڈز کے ضیاع اور بچوں کے تعلیمی مستقبل سے کھلواڑ کسی صورت برداشت نہیں کیا جائے گا۔