ایجنسیز
سڈنی// سڈنی کے ’بونڈی بیچ‘ پر یہودی تہوار ’ہنوکا‘ کے دوران فائرنگ میں شامل دو بندوق برداروں کی شناخت ہو گئی ہے۔ نیو ساؤتھ ویلز پولیس نے بتایا کہ حملہ آوروں کی شناخت بالترتیب 50 اور 24 سال کے باپ بیٹے کے طور پر ہوئی ہے۔ تاہم تفتیش کاروں نے کسی دوسرے حملہ آور کے ملوث ہونے کو مسترد کر دیا ہے۔ پولیس کا ماننا ہے کہ باپ اور بیٹے نے حملے میں لائسنسی ہتھیاروں کا استعمال کیا ہے کیونکہ ملزم شخص کے نام پر 6 فائر آرمس درج ہیں۔ ساؤتھ ویلز کے پولیس کمشنر مال لینون نے پیر کو ایک پریس کانفرنس میں بتایا کہ رات بھر کی تفتیش کے بعد اہم معلومات سامنے آئی ہیں۔ پولیس نے حملہ آوروں اور حملے میں استعمال ہونے والے ہتھیاروں کے بارے میں اہم معلومات کی تصدیق کی ہے اور اس واقعے کو یہودی برادری کو نشانہ بنانے والا دہشت گردانہ حملہ قرار دیا ہے۔ افسر نے بتایا کہ اس حملے میں ایک بندوق بردار سمیت کم از کم 15 افراد ہلاک اور تقریباً 40 زخمی ہوئے۔کمشنر کے مطابق 50 سالہ شخص کو گولی مار کرموقع پر ہی ہلاک کر دیا گیا، جب کہ ایک 24 سالہ شخص شدید زخمی ہے اور اسپتال میں پولیس کی حراست میں ہے۔ پولیس نے بتایا ہے کہ رات کو مغربی سڈنی کے بونی رگ اور کیمپس علاقوں میں دو مقامات پر چھاپے مارے گئے۔ تحقیقات سے معلوم ہوا کہ متوفی 50 سالہ شخص کے نام پر 6 آتشیں اسلحہ رجسٹرڈ تھے اور وہ لائسنسی بندوق کا مالک تھا۔لینیون نے کہا کہ خیال کیا جاتا ہے کہ حملے میں انہیں 6 ہتھیاروں کا استعمال کیا گیا۔ پولیس اس بات کی مکمل تحقیقات کرے گی کہ اسلحہ کیسے حاصل کئے گئے اور استعمال کئے گئے۔ انہوں نے بتایا کہ متوفی کے پاس تقریباً 10 سال سے بندوق کا لائسنس تھا۔ پولیس کمشنر نے حملہ آوروں کے محرکات پر تبصرہ کرنے سے انکار کردیا ہے۔ انہوں نے یہ بھی نہیں بتایا کہ آیا یہ دونوں افراد پہلے پولیس کی نگرانی میں تھے۔ انہوں نے جائے وقوعہ پر داعش کا جھنڈا ملنے کی اطلاعات پربھی کوئی تبصرہ نہیں کیا۔لینیون نے کہا کہ ہم حملے کے پیچھے محرکات کی تحقیقات کریں گے اور یہ تحقیقات کا اہم حصہ ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ حملے کی کوئی پیشگی اطلاع نہیں تھی۔ جائے وقوعہ کے قریب سے دو دیسی ساختہ بم (آئی ای ڈی) برآمد ہوئے ہیں جنہیں بم اسکواڈ نے ناکارہ کر دیا ہے۔اس بیچ، وزیراعظم انتھونی البانیز نے عندیہ دیا ہے کہ کابینہ کے اجلاس میں گن لا پر غورو خوض کیا جائیگا ۔اس بیچ ،میڈیا پورٹس کے مطابق ،سڈنی کے حملہ آوروں کی شناخت ساجد اور نوید اکرم کی حیثیت سے کی گئی ہے ۔ آسٹریلیا کےوزیرداخلہ ٹونی برک نے کہا ہے کہ جوابی کارروائی میں ہلاک ہونے والا فرد1998 میں بیرون ملک سے اسٹوڈنٹ ویزا پر آسٹریلیا آیا تھا۔وہ کس ملک سے آسٹریلیا آیا تھا ۔
سابق انگلش کپتان مائیکل وان نے جان کیسے بچائی
یواین آئی
سڈنی// سابق انگلش کپتان مائیکل وان نے بتایا کہ جس وقت بونڈی بیچ پر دہشتگرد حملہ ہوا وہ اس وقت سڈنی میں جائے واردات کے قریب ہی واقع ہوٹل میں موجود تھے۔انہوں نے لکھا ہے کہ فائرنگ کے واقعہ کے بعد میں نے خود کو ہوٹل میں بند کرلیا تھا اوراس وقت سخت خوفزدہ تھا۔ جب تک حالات نارمل نہیں ہوئے، میں وہاں سے باہر نہیں آیا۔ حالات نارمل ہونے کے بعد ہم بحفاظت گھر پہنچے۔سابق انگلش کپتان نے اپنے بیان میں آسٹریلوی پولیس کی ایمرجنسی سروس کا شکریہ ادا کیا۔
حملہ آور کو روکنے والا شخص بہادر اور قابل احترام: ٹرمپ
یواین آئی
واشنگٹن// امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے آسٹریلیا کے شہر سڈنی میں پیش آنے والے فائرنگ کے واقعے کی شدید الفاظ میں مذمت کی واقعے کے وقت جان پر کھیل کر حملہ آور کو روکنے والے شخص کو بہادر قرار دیا اور کہا کہ یہ شخص قابل احترام ہے، اس بہادر شخص نے بہت سے لوگوں کی جان بچائی۔ادھر امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو نے بھی سڈنی حملے کی شدید الفاظ میں مذمت کی اور کہا کہ یہود دشمنی کا اس دنیا میں کوئی مقام نہیں۔