جموں//سپریم کورٹ کی جانب سے کٹھوعہ عصمت دری و قتل کیس کی تحقیقات سی بی آئی سے کرانے کے مطالبے کو بار بار مسترد کئے جانے کے باوجود بی جے پی کے سینئر لیڈر اور سابق وزیر جنگلات چودھری لال سنگھ اس واقعے کی سی بی آئی تحقیقات پر مصر ہیں ۔انہوں نے لکھنپور سے کٹھوعہ تک 16کلو میٹر پیدل مارچ کر کے ایک عوامی جلسہ منعقد کیا ۔اس موقعے پر ذرائع ابلاغ کے ساتھ گفتگو کے دوران سابق وزیر نے کہا کہ وہ اپنا احتجاج تب تک جاری رکھیں گے جب تک نہ 8سالہ لڑکی کاکیس سی بی آئی کو سونپ دیا جائیگا ۔انہوںنے کہا کہ ریاستی حکومت کو چاہیے کہ وہ اس سلسلے میں فوری طور پر احکامات صادر کرے۔ کابینہ سے مستعفی ہونے کے بعد بھارتیہ جنتا پارٹی کے سینئر لیڈر اور وزیر جنگلات چودھری لعل سنگھ نے سرکار کے خلاف محاذآرائی جاری رکھی ہے اور رسانہ کٹھوعہ کے معاملے پر نہ صر ف احتجاجی ریلیاں منعقد کر رہے ہیں بلکہ تحقیقاتی عمل سی بی آئی کو سونپ دینے کا اپنا مطالبہ دہرا رہے ہیں ۔سپریم کورٹ آف انڈیا نے گزشتہ دنوں اپنے فیصلے میں سی بی آئی کے ذریعے تحقیقات کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ کرائم برانچ نے صحیح معنیٰ میں اپنی کارروائی اختتام تک پہنچائی ہے اورلڑکی کے معاملے کی تحقیقات سی بی آئی کے ذریعے کرانے کی کوئی ضرورت نہیں ہے ۔