حافظ میر ابراہیم سلفی
گزشتہ روز سوپور میں جو دلخراش واقعہ پیش آیا اس نے ہر ذی ہوش کا وجود جھنجھوڑ دیا۔ اس چمن کی ایک معصوم کلی وطن کو الوداع کہہ گئی۔مگر جاتے جاتے ہمارے لئے کئی سوالات چھوڑ گئی۔غربت و مفلسی کا بھیانک چہرہ سامنے آتے ہی اس مہکتے گلاب نے اپنے وجود کو مٹا دیا۔ کوئی بھی اس طرح مرنا نہیں چاہتا، کوئی خودکشی جیسے جرم میں مبتلا نہیں ہونا چاہتا لیکن شاید ہر حد پار ہوچکی تھی، انسانیت کا جنازہ نکل چکا تھا، تبھی تو عیش پرستوں کی بستی میں رہنا اس پری نے گوارا نہ کیا۔ سوپور کی اس معصوم کلی نے مجبوریوں سے تنگ آکر خود کو جہلم کے حوالے کردیا۔ دوستو! یہ کوئی مذاق نہیں،نہ کوئی فسانہ ہے۔
ہاں!عیش پرستوں کے لئے غربت ایک افسانہ ہے۔ پتھر دل انسانوں کے لئے مفلسی بس ایک لفظ ہے جس کی تاثیر سے وہ آشنا نہیں۔ وہ کیا جانیں کہ مفلسی ایک عذاب ہے جو انسان کے ارمانوں، خواہشات اور امیدوں کا قاتل ہے۔ عیش پرست اپنی عیاشیوںمیں مگن تھے اور سماجی مسائل پر گفتگو کرنے والے سیاست کرنے میں محو تھے کہ اسی دوران کسی کا آشیانہ جل کر راکھ ہوگیا۔ اہل ِدولت کی بستی میں ایک ستارہ ندا دیتے دیتے چل بسا۔ ندا اس بات کی کہ ’’تم مردہ ہو، تم بے ضمیر ہو، تم انسان نہیں درندے ہو‘‘حادثہ ہونے کے بعد ہر کوئی افسوس کرتا رہا، کسی نے Facebook پر تو کسی نے whatsApp پر status رکھا، ہر کوئی رونے کا drama کررہا تھا لیکن جب یہ معصوم کلی مدد کے لئے پکار رہی تھی تب کوئی آگے نہ آیا۔راقم خودکشی کا دفاع نہیں کرتا، یہ عمل صحیح نہیں، شرعاً ناجائز ہے لیکن کہانی کا دوسرا پہلو بھی ہے کہ یہ جرم کیوں بڑھتا چلا جا رہا ہے۔ اس کے ذمہ دار کون ہیں؟ فتویٰ دینا کوئی بڑی بات نہیں۔ زمینی حقائق پر نظر ڈالنے سے پتہ چلتا ہے کہ اس قوم کے افراد جذبہ ایثار، ہمدردی، اخوت جیسے الفاظ بھول چکے ہیں۔ میری دعا ہے کہ اللہ میری اس بہن کی مغفرت کرے ۔ لیکن یہاں جس مسئلے پر اب لازمی کام کرنے کی ضرورت ہے وہ یہ ہے کہ اس جرم کے اسباب پر کام کیا جائے، اپنی بستی، محلے اور ہمسائیگی پر اچھی طرح نظر رکھی جائے، ہر کوئی فرد بشر انفرادی سطح پر حسب استطاعت اس قوم کی خدمت کرے۔ دلوں میں انسانیت کا درد رکھنے والے ہی انسان کہلانے کے قابل ہیں،حیوانات یہاں تک کہ وحشی جانور بھی کسی کی تکلیف دیکھ کر مدد کو آتے ہیں، کیا ہم ان جانوروں سے بھی بدتر ہیں؟
ہفتہ ہوگیا اور ابھی بھی اس پری کا وجود آنکھوں سے اوجھل ہے۔ انکی ماں کے آنسو ، وہ تڑپ برداشت نہیں ہورہی، اللہ انہیں صبر عطا کرے۔ لیکن کیا یہ سلسلہ ایسے ہی چلتا رہے گا؟ آ ئے روز ایسے معاملات سامنے آتے جارہے ہیں لیکن قوم کے باشعور ابھی بھی کوئی مستند لاہ عمل نہیں بنا پارہے ہیں۔ تب تک کسی کی مدد کرنے کو کوئی نہیں آتا جب تک کہ وہ خود کو social media پر ذلیل نہیں کرنا، لوگوں کے سامنے ہاتھ نہیں پھیلاتا، اپنے مرادوں کی بھیک نہیں مانگتا۔ کیا یہ مسلمانی ہے؟ ان جیسے حالات کو دیکھ کر لگ رہا ہے کہ اس بستی پر کچھ بھیانک نازل ہونے والا ہے۔
اسی کڑی میں قوم کے بیت المال چلانے والے ذمہ داران کو مخاطب کرکے کہتا ہوں کہ بیت المال آپکی جاگیر نہیں بلکہ آپکے پاس عوام کی امانت ہے۔ بیت المال کی آمدنی کروڑوں میں ہے اور جب کسی مفلس کو دس یا بیس ہزار روپے کی ضرورت ہوتی ہے تو اسے پہلے ذلیل کرکے بار بار چکر لگانے پر مجبور کر دیا جاتا ہے، پھر کہیں جاکر ایک ہزار یا پندرہ سو روپے دئیے جاتے ہیں۔ کیا یہ اس غریب کی عزت نفس کے ساتھ کھلواڑ نہیں؟ ہمارے بیت المال بھی اب شریعت کے مطابق نہیں چلتے ،الا ماشاء اللہ وہاں اب سیاست ہوتی ہے۔ دوسری جانب یہ بھی حسرت کی بات ہے کہ قوم کے رہبر ہی قوم کے رہزن بنتے چلے جا رہے ہیں۔ یہاں پر راقم یہ بھی بتاتا چلے کہ پریشانیاں صرف پیسوں کی نہیں ہوتی، کبھی کسی کو آپ کے سہارے کی ضرورت ہوتی ہے، کسی کو مشورہ کی، کبھی کسی کو رونے کے لئے کندھا دینے کی۔ لیکن اس قوم کا دستور بن چکا ہے کہ یہاں میت اُٹھ جانے کے بعد قدر کی جاتی ہے۔ بقول جان ایلیاء ’’ایک ہی حادثہ تو ہے اور وہ یہ کہ آج تک بات نہیں کہہ گئی بات نہیں سنی گئی ۔‘‘
دوستو! یہاں ہر کوئی ذہنی پریشانیوں میں مبتلا ہے۔ کبھی کسی کے پاس چند لمحات گزاریں۔ کوشش کریں کہ اسکے درد کی دوا بن سکو۔ زندگی کا سکون پانا چاہتے ہو تو کسی کی مسکراہٹ کی وجہ بنو، کسی کا مسیحا بن کے دکھا دو۔ کسی کی آنکھوں میں چھپی اُداسیوں کو پڑھنا سیکھو، تماشائی بن کر کسی کی بے بسی کا منظر نہ دیکھو۔ یہ دنیا ظالموں سے بھر گئی ہے۔ تم دردِ دل کے سامنے انسانیت کی ڈوبتی کشتی کو سہارا دینے کے لئے آئو۔ جان ایلیا نے عصر حاضر کی عکاسی ان الفاظ میں کی ہے: ’’سب سے پر امن واقعہ یہ ہے ،آدمی آدمی کو بھول گیا ۔‘‘
سیدنا امام اعظم محمد رسول اللہؐ کا فرمان ہے: ’’جس نے کسی مومن کی دنیا کی پریشانیوں میں سے کوئی پریشانی دور کردی، اللہ تعالیٰ بروز قیامت اس کی پریشانیوں میں سے ایک پریشانی دور کردے گا۔ جس نے کسی تنگ دست پر آسانی کی، اللہ اس پر دنیا وآخرت میں آسانی کرے گا۔ جس نے کسی مسلمان کی پردہ پوشی کی، اللہ تعالیٰ دنیا وآخرت میں اس کی پردہ پوشی فرمائے گا۔ اللہ تعالیٰ برابر بندے کی مدد میں ہوتا ہے جب تک بندہ اپنے بھائی کی مدد میں ہوتا ہے‘‘۔(ترمذی)
اللہ سے دعا ہے کہ ہمارے دلوں کو انسانیت کے درد سے بھر دے۔ آمین
(رابطہ 6005465614)
[email protected]