نوجوان کسی بھی قوم و ملت کا اصل سرمایہ ہوتا ہے۔قوم و ملت کی نظریں نوجوانوں پر ہوتی ہیں۔ کسی بھی قوم میں کوئی انقلاب اور تبدیل نوجوانوں کی بدولت ہی رونما ہوتی ہے جس طرح سے ایک نوجوان بیٹا والدین کا سہارا ہوتا ہے ۔اسی طرح سے قوم کی نوجوان نسل بھی قوم کا سہارا اور قوم کا مستقبل ہوتا ہے جس کے سہارے قوم چلتی ہے،آگے بڑھتی ہے اور خوشحالی کی جانب گامزن ہوجاتی ہے۔ جس قوم کے نوجوان محنتی، قابل ،ذہین، دیندار، ہوشیار اور ہونہار ہونگے وہی قوم بہتر مانی جاتی ہے۔کیونکہ قوم کے وسائل کا بہتر استعمال اسی صورت میں ہوگا، جب قوم کے نوجوانوں میں عقل و شعور ہو گا ۔نوجوانوں پر ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ وہ اپنی قوم کو سہارا دیں اور مشکلات اور مصائب سے نکال کر قوم کا مستقبل تابناک بنائیں ۔قوم کے نوجوانوں پر فرض ہےکہ وہ معاشرے میں پھیلی برائیوں ،اور سماجی ناسور کا قلع قمع کرنے میں اپنا بہتر کرداراداکریں۔ اس طبقے کا سنجیدہ اور ہوشیار ہونا بہت ضروری ہے ۔اکثر دیکھا گیا ہے کہ کسی بھی قوم کی بات تب بگڑجاتی ہے جب اُس قوم کی نوجوان نسل مختلف خرابیوں اور بُرائیوں میں پھنس کر رہ جاتی ہے۔موجودہ دور میں جہاں ہر طرف سے اخلاقی قدروں کا زوال عروج پر ہےاور بے راہ روی عام ہوچکی ہے تو بیشتر نفسیاتی ماہرین اور ذی شعور افراد کا خیال ہے کہ اس ساری بے راہ روی کی سب سے بڑی وجہ سوشل میڈیا کی بہتات اور اس کا غلط استعمال ہے۔اپنی اس وادیٔ کشمیر کی نوجوان نسل بھی مکمل طور پر سوشل میڈیا کی نذر ہوتے ہوئے نظر آتی ہے۔آج کل ہمارے نوجوان سوشل میڈیا پرانتہائی فضول قسم کے ویڈیوز بے جا اَپ لوڈکرتے رہتے ہیں اور جواز یہ پیش کیا جاتا ہے کہ ہم کشمیری قوم کو ہنسانے کی کوشش کرتے ہیں۔ اس بات میں کوئی شک نہیں کہ کشمیری قوم کئی دہائیوں سے بد امنی، ذہنی انتشار اور درد و کرب کی شکار ہے اور اس قوم کو باقی دنیا کےبہ نسبت طنزومزاح کی کچھ زیادہ ہی ضرورت ہے تاکہ کسی حد تک ذہنی انتشار سے چھٹکارہ پایا جا سکے۔ لیکن اس کا ہرگز یہ مطلب نہیں ہے کہ قوم کے پوری نوجوان سوشل میڈیا پر مسخرے پن کابَدا مظاہرہ کرتے رہے اور علم و ادب سے راہ فرار اختیار کرتے چلیں جائیں۔حیرت کا مقام ہے کہ یہ ہنسنے ہنسانے کا کام بھی دوسروں کی عزت و احترام کے ساتھ کھیل کرکیا جارہا ہے ۔کسی بھی شخص کی اگر ذرہ سی زبان پھسل جاتی ہے اور کوئی غلط فقرہ منہ سے نکل جاتا ہے تو اگلے دن ہمارے سوشل میڈیا کے ٹھیکے دار اس پر روسٹ کرتے ہیں جو بات سو لوگوں تک پہنچ چکی ہوتی ہے، سوشل میڈیا پر بیٹھے نوجوان اسے لاکھوں لوگوں تک پہنچا کر اس کی عزت کا کچرا کر اکے یہ سمجھتے ہیں کہ انہوں نے کشمیری عوام کو ہنسانے کا کام کیا ہے۔جبکہ ہمارے دین میں دوسروں کے عیبوں کا پردہ کرنے کی تعلیم دی گئی ہے۔حد تو یہ ہے کہ روسٹ کے نام پر اب علماء دین کو بھی نہیں بخشا جا رہا ہے ۔انہیں بھی مزاق بنایا جارہا ہے۔ پرینک کے نام پر لوگوں کا نہ صرف مذاق اڑایا جاتا ہے بلکہ تذلیل بھی کی جاتی ہے۔اجتماعی طور پر دیکھا جائے تو ہم سب اس کے لیے کہیں نہ کہیں ذمہ دار ہیں، اگر ایسا نہیں ہے تو ان ویڈیو زبنانے ، روسٹ کرنے اور پرینک کرنے والوں کی فین فالوینگ لاکھوں میں کیونکر ہوجاتی ہے اور ہزاروں لوگ ان کے اِن ویڈیوز پر کمنٹ کیوں کرتے رہتےہیں ۔اس کے برعکس اگر کوئی معتبر اور سنجیدہ شخص کوئی ویڈیو یا کوئی علمی مواد اَپلوڈ کرتا ہے تو چند ایک کو چھوڑ کر اس پر کمنٹ کرنا فضول سمجھا جاتا ہے بلکہ اس ویڈیو کو سُننا یا اس مواد کو پڑھنا ہم سب پر بارِ گراں ہوجاتا ہے ۔اس عمل سے بھی ہماری اجتماعی بے حسی کا اندازہ لگایا جاسکتا ہے اور تو اور اب بچوں سے بھی روسٹ کروایا جاتا ہےاور انہیں بھی ویڈیو بنانے کے کام میں لگایا گیا ہے۔ ایسا لگتا ہے کہ جیسے ان بچوں کو تعلیم سے دور دور تک کا بھی واسط نہیں رہا ہے۔ قوم کی بیٹیاں بھی سوشل میڈیا پر ویڈیوز بنانے سے نہیں کتراتی ہیں ۔قوم کے بزرگوں کا بھی حال اس سے مختلف نہیں ہے ۔بزرگوں کو جو اپنا وقت اپنےبچوں کی تربیت اور مختلف دینی کاموں میں صرف کرنا چاہیے تھا، وہ بھی دن رات سوشل میڈیا پر لگے رہتے ہیں، جو ہم سب کے لیے ایک لمحہ فکریہ ہے۔ سوشل میڈیا کے حد سے زیادہ استعمال سے یہ قوم نہ صرف اقتصادی طور پر کمزور ہوتی جا رہی ہے بلکہ اخلاقی طور بھی پسماندگی کی جانب چل رہی ہے ۔ اس سے ہماری صحت پر بھی مضر اثرات پڑ رہے ہیں۔ ایسا لگتا ہے کہ لوگوں نےاب یہ سب اپنامعمول بنایاہے بلکہ اس معاملے نے اب فیشن کی صورت اختیار کرلی ہے اور اپنے لوگ اپنے ہی قوم کی اس بے حسی اور بے حسی کو دیکھ کر محظوظ ہورہے ہیں ۔کسی کو اسبات کا احساس نہیں ہوتا کہ ان کے بچے کس جانب چل پڑے ہیں ۔اس بے حسی کو دیکھ کر ڈاکٹر علامہ اقبال کا ایک شعر یاد آ رہا ہے ؎
وائے ناکامی! متاعِ کارواں جاتا رہا | کارواں کے دل سے احساسِ زیاں جاتا رہا
کہیں ایسا نہ ہو کہ ہماری نئی نسل ان ہی خرافات میں لگ جائے اور علم و ادب سے دور ہوتی جائے اور ہمارے پاس کفِ افسوس ملنے کے سوا کوئی چارۂ کار نہ رہ جائے ۔ ہمارا مزاج اس مسخرے اور چھچھورے پن کا شکار نہ ہو جائے۔ بغوردیکھا جائے تو اجتماعی طور پر ہماری ساخت بھی داؤ پر لگی ہوئی ہے کیونکہ یہ ویڈیوز پوری دنیا دیکھتی ہے ،کہیں ایسا نہ ہو کہ پوری دنیا کے سامنے ہماری روایتی ساخت مسخ ہوکر رہ جائےاور دنیا یہ سمجھے کہ اصل میں کشمیری لوگوں کے مزاج کی شناخت یہی ہے ،اور یہ قوم بالکل غیر سنجیدہ ہے ۔پھر ہم کس کس کو کہتے پھریں گے کہ یہ قوم مسخروں کی قوم نہیں ہے بلکہ علم و ادب سے محبت کرنے والی قوم ہے۔ اس قوم سے حضرت انور شاہ کشمیری جیسے عالم دین پیدا ہوئے ہیں، اس وادی کشمیر نے مہجور، لل دید، حبہ خاتون، اور رُسل میر جیسے بلند پایے کے شعراء بھی پیدا کئے ہیں ۔اس وادی سے عالم، عابد اور زاہد پیدا ہوئے ہیں ۔لیکن آجکل کے نوجوانوں کی حالت دیکھ کر بے حد دکھ ہوتا ہے ۔اُن کے اس ویڈیو گرافی کو نہ معلوم کیوں ٹیلنٹ کا نام دیا جاتا ہے ۔ یہ کون سا ٹیلنٹ ہے، جس میں دوسروں پر کیچڑ اچھالا جائے، جس میں کسی کی بے بسی کا تماشہ بنایا جائے اور جس میں زبان و ادب کا لحاظ نہ رکھا جائےاور دن رات اسی سوشل میڈیا پر گزرا جائے۔ہمیں اس عمل میں حد سے نہیں گزرنا ہے بلکہ باز آنا ہے ،اس ضمن میں اگر چہ کچھ لوگ اچھا کام بھی کرتے ہیں اور زبان و ادب کا لحاظ بھی رکھتے ہیں تاہم اکثر سبسکرابرس بنانے اور پیسے کمانے کے چکر میں اپنی حدودں کو پار کرتے ہیں اور ایسا مواد اپلوڈ کرتے، جس سے اخلاقی قدروں کا جنازہ نکلتا ہے۔ سوال یہ ہے کہ آخر اس صورت حال سے کیسے بچا جا سکتا ہے۔ ہمارے پاس کوئی بٹن تو ہے نہیں جو ہم دبائیں اور سوشل میڈیا سے یہ ساری چیزیں یک دم غائب ہو جائیں۔لیکن ایک دو تدابیر ایسی ہیں، جن پر عمل کر کے ہم سوشل میڈیا کے منفی اثرات کو زائل کر سکتے ہیں۔ ہمیں چاہیے کہ ہم اپنے بچوں کو سوشل میڈیا بلکہ سمارٹ فون سے دور رکھیں، بچوں کو سوشل میڈیا کے منفی اثرات کے بارے میں محبت سے سمجھائیں اور انہیں اس وبا سے دور رکھنے میں اپنا کردار بنھائیں۔ لیکن ایسا کرنے کے لیے کافی محنت درکار ہے۔ ایسا نہیں ہوسکتا کہ والدین خود سوشل میڈیا میں لگے رہیں گے اور بچوں کو اس سے دور رہنے کی تلقین کرتےرہیں۔اس عمل سے کچھ بھی حاصل نہیں ہوگا۔اگر بچوں کو اس وبا ، بد اخلاقی اور بے راہ روی سے بچانا ہے تو والدین اور گھر کے باقی ذمہ داران کو بھی سوشل میڈیا سے الگ ہونا پڑے گا، یا اس کا استعمال کم سے کم کرنا ہوگا،اپنے بچوں کے سامنے موبائل فون کا کم سے کم استعمال کرنا پڑے گا۔کووِڈ کی وبائی بیماری کو مد نظر رکھتے ہوئے اگر چہ بچوں کو تعلیم حاصل کرنے کے لیے اسمارٹ فون دئیے گئے، تاہم دیکھنے میں آیا ہے کہ سمارٹ فون سے بچوں کو فائدہ نہیں بلکہ نقصان ہی ہوا ہے ۔اگر کچھ فائدہ ہوا بھی ہے لیکن ہمارے بچے بد اخلاقی کا شکار ہو گئے ہیں، جو ایک ناقابلِ تلافی نقصان ہے ۔ایک بات تو طے ہے کہ سمارٹ فون کتاب کا نعم البدل نہیں ہوسکتا ۔سمارٹ فون نہ چلانے سے اگر بچے مروجہ تعلیم میں کمزور بھی رہیں لیکن کم سے کم بد اخلاق تو نہ بنیں گے۔ دوسری بات یہ ہے کہ علم و ادب سے وابستہ لوگوں کو سوشل میڈیا پر اپنے اپنے میدانوں میں اپنے اپنے موضوعات پر بات کرنی چاہیے تاکہ ہم سب علم و ادب کی باتیں سننے کے عادی ہو جائیں اور دنیا میں بھی ایک پیغام جائے کہ یہ قوم محض مسخروں کی جماعت نہیں ہے بلکہ یہ قوم علم و ادب کی شیدائی ہے، جو حقیقت بھی ہے۔ظاہر ہے کہ ہماری پہچان علم و ادب ہے مسخرے پن نہیں ۔
اندازِ بیاں گر چہ بہت شوخ نہیں ہے
شاید کہ اتر جائے تیرے دل میں میری بات
(اویل نورآباد)