جموں// اپنی پُرانی روایت کے تحت ادبی و ثقافتی سر گرمیوں کو رواں دواں رکھتے ہوئے جموں و کشمیر کی کثیر اللسانی معروُف ادبی تنظیم ’ادبی کُنج کے اینڈ کے‘ کی جانب سے اِس کے ادبی مرکز کِڈ ذی سکوُل جموں میں ایک خصوُصی ادبی نِشست کا اِنعقاد ہُوا۔ جِس میںویدانت کو بھارت سے باہر خصوُصاً امریکہ تک لیجانے کا عظیم کاذ انجام دینے والے عظیم دھارمک راہنُما سوامی وِویکا نند کی بُلند مرتبہ شخصیّت کے حالاتِ زندگی پر سیر حاصل روشنی ڈالی گئی۔ نِشست کی صدارت کے فرائض تنظیم کی نائب صدر اور کشمیری و اُردوُ کی جانی مانی شاعرہ و گلوکارسنتوش نادانؔء نے سر انجام دِئے جبکہ نظامت کے فرائض اُردوُ کے جانے مانے غزل گو شاعر عبدال جبّارؔ بٹ نے انجام دِئے۔ کاروائی کا آغاز کرتے ہوئے تنظیم کے چئیرمین آرشؔ دلموترہ اور صدر شام طالبؔ نے سوامی وویکا نند کی شخصیّت بارے تفصیلاً بتایا کہ سوامی وِویکا نند بیشک ایک عالمی گوروُ اور نوجوان نسل کیلئے مشعلِ راہ تھے۔اُن کا جنم 12جنوری 1863ء میں کلکتہ میں ہوُا تھا۔ جبکہ1907 ء میں وہ اِس جہانِ فانی سے وداع ہوگئے۔ آج کی اِس نِشست میں ایک شعری تنقیدی دور بھی ہوُا۔ جِس میں نو آمیز اُبھرتے ہوئے غزل گو شعرا کی حوصلہ افزائی اور تربیّت کیلئے اسلوُبِ غزل کے مختلف پہلوؤں پرروشنی ڈالی گئی۔اِ س موقعہ پر ایک نوجوان اُبھرتے ہوئے شاعر اُتّم سنگھ راہیؔ کی غزل’کون ہیں کِس کے پاس بیٹھے ہیں، کِس قدر ہم اُداس بیٹھے ہیں‘۔ اور پنجابی زبان کے ایک نوعُمر شاعرِسپرش شرما کی غزل’ خوُب رونق وِچ ساڈا نگر ہے‘ پر سیر حاصل تبصرہ ہوُا۔ اور اُنھیں کارآمد ادبی نُکات سے سرفراز کِیا گیا۔ اِسنِشست میں حِصہ لینے والے شعراء حضرات کے اِسم گرامی اِس طرح ہیں:۔ آرشؔ دلموترہ، سنتوش نادانؔ، عبدال جبّارؔ بٹ، ایم ایس کامرا، اشوک منطقؔ، ِ کے آر سلگوترہ اُتّم سنگھ راہی، سپرشؔ شرما۔سنجیو کُمار اور شام طالبؔ۔ اِس تقریب کااِختتام تنظیم کے چئیرمین آرشؔ دلموترہ کی طرف سے پیش کردہ شُکریہ کی تحریک سے ہوُا۔