جاوید قابال
مینڈھر //حالیہ طوفانی بارشوں اور شدید برفباری کے بعد سنگیوٹ سڑک کی ابتر حالت نے مقامی آبادی کی مشکلات میں بے پناہ اضافہ کر دیا ہے۔ یہ اہم رابطہ سڑک کئی دیہات کو تحصیل ہیڈکوارٹر سے ملاتی ہے، مگر جگہ جگہ ٹوٹ پھوٹ، گہرے گڑھوں، کیچڑ اور پھسلن کے باعث گاڑیوں کی آمد و رفت تقریباً ناممکن ہو چکی ہے۔ نتیجتاً روزمرہ زندگی کے معمولات بری طرح متاثر ہو رہے ہیں اور لوگ شدید پریشانی کا شکار ہیں۔مقامی سماجی کارکن عامر خان نے سڑک کی موجودہ حالت پر گہری تشویش ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ بارش اور برفباری کے بعد سڑک کئی مقامات پر بہہ گئی ہے جبکہ بعض حصوں میں پانی جمع ہونے سے کیچڑ اور پھسلن نے خطرناک صورتحال پیدا کر دی ہے۔
ان کے مطابق نہ صرف عام گاڑیوں بلکہ ایمبولینس اور دیگر ایمرجنسی سروسز کے لئے بھی آمد و رفت مشکل ہو گئی ہے، جس سے کسی بھی ہنگامی صورت حال میں قیمتی جانوں کو خطرہ لاحق ہو سکتا ہے۔عامر خان نے کہا کہ بیماروں کو ہسپتال پہنچانا، بچوں کا اسکول جانا اور روزگار کے لئے سفر کرنا عوام کے لئے ایک بڑا مسئلہ بن چکا ہے۔ کئی مقامات پر گاڑیاں پھنس جاتی ہیں اور لوگوں کو پیدل سفر کرنے پر مجبور ہونا پڑتا ہے۔ انہوں نے خبردار کیا کہ اگر بروقت مرمت نہ کی گئی تو حادثات کا خدشہ بھی بڑھ سکتا ہے۔مقامی لوگوں کے مطابق سنگیوٹ سڑک درجنوں دیہات کی واحد بڑی رابطہ سڑک ہے، لیکن طویل عرصے سے اس کی مناسب دیکھ بھال نہ ہونے کے باعث اس کی حالت دن بہ دن خراب ہوتی جا رہی ہے۔ حالیہ برفانی طوفان نے صورتحال کو مزید سنگین بنا دیا ہے۔ لوگوں کا کہنا ہے کہ سڑک کی خرابی کے باعث اشیائے ضروریہ کی ترسیل بھی متاثر ہو رہی ہے جس سے قیمتوں میں اضافہ اور دیگر مسائل جنم لے رہے ہیں۔مکینوںنے ضلعی انتظامیہ اور متعلقہ محکموں سے اپیل کی ہے کہ وہ فوری نوٹس لے کر ہنگامی بنیادوں پر سڑک کی مرمت شروع کروائیں۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ برف، ملبہ اور کیچڑ ہٹا کر سڑک کو فوری طور پر قابلِ آمد و رفت بنایا جائے اور مستقل بنیادوں پر اس کی مضبوطی کے لیے جامع منصوبہ تیار کیا جائے۔