سرینگر//لیفٹیننٹ گورنر کے مشیر بصیر احمد خان نے یومِ جمہوریہ 2021 پر ایس کے سٹیڈیم سرینگر میں قومی جھنڈا لہرایا اور مارچ پاسٹ پر سلامی لی ۔ بعد میں مشیر نے ایک کھلی جیپ میں پریڈ کا معائینہ کیا ۔ اس موقعہ پر حاضرین سے خطاب کرتے ہوئے مشیر نے کہا کہ جموں کشمیر یونین ٹیر ٹری تعمیر و ترقی کی راہ پر گامزن ہے اور حکومت ہند یو ٹی کو مزید خوشحال بنانے کیلئے کوئی دقیقہ فروگذاشت نہیں کرے گی ۔ انہوں نے کہا کہ اس عظیم موقعہ پر میں چند اہم حصولیابیوں کو اجاگر کرنا چاہتا ہوں جن میں ’’ حال ہی میں شروع کی گئی ایس ای ایچ اے ٹی سکیم شامل ہے جس کے تحت یو ٹی کے ہر فرد کو پانچ لاکھ روپے کے صحت فوائد ملک بھر میں فراہم کئے جائیں گے ۔ انہوں نے کہا کہ بھارت میں واحد جگہ ہے جہاں دو ایمز قائم کئے جا رہے ہیں ۔ نئے میڈیکل کالج اور نرسنگ کالج قائم کئے جا رہے ہیں ۔ انہوں نے کہا کہ مرکزی حکومت کی معاونت سے یو ٹی میں کووڈ 19 عالمی وباء سے موثر طور نمٹا جا رہا ہے اور اس کے مزید پھیلاؤ پر قابو پایا گیا ۔ انہوں نے کہا کہ کووڈ 19 کے باوجود یو ٹی میں تعلیمی معیار میں بہتری آئی ہے اور جموں کشمیر کے مختلف اضلاع میں مزید نئے کالج قائم کئے جا رہے ہیں ۔ انہوں نے کہا کہ دور دراز علاقوں میں ہیلی کاپٹر سروس دستیاب رکھی جا رہی ہے اور مغل باغات کو یونیسکو کے تحت درج کرنے کیلئے اقدامات اٹھائے گئے ۔ انہوں نے کہا کہ یو ٹی میں بہتر ٹرانسپورٹ نظام کیلئے 2024 کے آخیر تک ایک منظم ریلوے نظام قائم کیا جا رہا ہے اور 2022 تک یو ٹی کے ہر گھر کو نل کے ذریعے پانی فراہم کیا جائے گا ۔ انہوں نے کہا کہ ڈی ڈی سی انتخابات کا کامیاب انعقاد ایک اور حصولیابی ہے ۔ انہوں نے کہا کہ یہ انتخابات پہلی مرتبہ آزادانہ اور شفافانہ طریقہ کار کے تحت منعقد کئے گئے ۔ مشیر نے اُن تمام شہدا کو خراجِ عقیدت پیش کیا جنہوں نے ملک کیلئے اپنی جانیں نچھاور کیں ۔ اس موقعہ پر پریڈ کمانڈر بینم توش ، ایس ایس پی آئی آر پی 17 بٹالین اور ایس پی سریندر کمار نے بطور اسسٹنٹ پریڈ کمانڈر مارچ پاسٹ کی قیادت کی ۔ اس موقعہ پر بی ایس ایف ، سی آر پی ایف ، ایس ایس بی ، جے کے اے پی ، آئی آر پی ، خواتین دستہ ، ایس ڈی آر ایف ، فائیر اینڈ ایمر جنسی سروس اور ایف پی ای نے مارچ پاسٹ میں حصہ لیا ۔ جبکہ بی ایس ایف اور جے کے پی کے بینڈ بھی مارچ پاسٹ میں شامل تھے ۔ جموں کشمیر اکیڈمی برائے فن ، ثقافت و لسانیات نے اس موقعہ پر رنگا رنگ ثقافتی پروگرام پیش کئے ۔ اس موقعہ پر ایک خصوصی یوگا ٹریننگ سیشن بھی منعقد ہوا ۔ بعد میں مشیر نے شرکاء کو اسناد اور ٹرافیوں سے نوازہ ۔ صوبائی کمشنر کشمیر ، آئی جی پی کشمیر ، ڈپٹی کمشنر سرینگر اور سول انتظامیہ ، پولیس کے اعلیٰ افسران اس موقعہ پر موجود تھے۔
جامع سراج العلوم شوپیان میںتقریب کا اہتمام
شاہد ٹاک
شوپیان//گزشتہ سال اکتوبر میں عسکریت پسندوں کی مدد کرنے کے الزامات کے بیچ جامع سراج العلوم امام صاحب شوپیان میں بھی 26جنوری کی تقریب منائی گئی۔جنوبی کشمیر کا یہ مشہور مدرسہ شوپیان ضلع کے ہیلو امام صاحب علاقے میں 1992ء میں قائم ہوا اور تب سے لیکر آج تک اس ادارے میں دینی تعلیم کے ساتھ ساتھ دنیاوی تعلیم سے کئی طلاب، علم کی روشنی سے فیضیاب ہوئے ہیں۔گزشتہ سال اکتوبر میں یہ ادارہ اس وقت سرخیوں میں آیا تھا جب جموں وکشمیر پولیس کے انسپکٹر جنرل وجے کمار نے پولیس کنٹرول روم میں ایک پریس کانفرنس کے دوران خفیہ ادارے کی رپورٹ کے بارے میں پوچھے جانے پر کہا تھا کہ 'اس سکول کا نام سراج العلوم امام صاحب ہے، اس سکول کے تین اساتذہ پر ہم پہلے ہی پی ایس اے عائد کر چکے ہیں، ان کے نام عبدالحق بٹ، رئووف بٹ اور محمد یوسف وانی ہیں، اس کے علاوہ ہم پانچ سے چھ اساتذہ پر سی آر پی سی کی دفعہ 107 کے تحت کیس درج کر چکے ہیں‘‘۔ انہوں نے مزید بتایا تھا ’’ یہ سکول ہماری نگرانی میں ہے، اسکول جماعت اسلامی کے ساتھ منسلک ہے، ابھی تک ہم اس سکول سے وابستہ افراد کے خلاف ہی کارروائی کر رہے ہیں، ضرورت پڑی تو ادارے کے خلاف بھی کارروائی کی جائے گی‘‘۔ پولیس کے اس بیان کے بعد جامع سراج العلوم کے چیئرمین محمد یوسف مانتو نے اپنے ایک بیان میں بتایا تھا ’’ وہ پولیس کی طرف سے دیئے گئے سبھی بیانات کو مسترد کرتے ہیں اور ہمارے ادارے میں کسی بھی استاد کو نہ تو گرفتار کرلیا گیا نہ ہی جو پولیس کی طرفسے تین اساتذہ کے نام سامنے آئے ہیں، ان میں کسی کا تعلق ادارے سے ہے‘‘۔ بعد میں اس ادارے کے چیئرمین نے بتایا کہ جو اگرکوئی بھی ایجنسی ہمارے ادارے کی تحقیقات کرنا چاہیے، تو کرسکتی ہے اور اگر کھبی بھی ہمارے ادارے کی طرفسے کسی عسکریت پسند کو کسی بھی طرح کی مدد فراہم کی ہو تو ہمیں جو بھی سزا دی جائے ہمیں منظور ہوگی تاہم بعد میں اس مسلئہ پر کوئی بھی بیان سامنے نہیں آیا۔منگل کو 44 آر آرنے مقامی لوگوں کے ساتھ اسی تعلیمی ادارے میں یومِ جمہوریہ کی تقریب بڑے بڑے جوش و خروش کے ساتھ منائی۔اس دوران امام صاحب کے نمبردار نے قومی پرچم لہرایا۔ اس موقع پر عام لوگوں نے بھی شرکت کی۔