پرویز احمد
سرینگر //جموں و کشمیر میں شدید گرمی کی وجہ سے ہونے والے ہیٹ سٹروک سے بچنے کیلئے محکمہ صحت اور گورنمنٹ میڈیکل کالج سرینگر نے احتیاط برتنے کا مشورہ دیا ہے اور ایڈوائزری جاری کی ہے۔معالجین نے ہائی بلڈ پریشر اور شوگر مریضوں کو احتیاط کرنے کی ہدایت دیتے ہوئے صبح 11سے 4بجے تک غیر ضروری طور پر گھروں سے باہر آنے سے پرہیز کرنے کا مشورہ دیا ہے۔ ہیٹ سٹروک شدید گرمی اور مرطوب موسم میں جسم کے درجہ حرارت کو کنٹرول کرنے کے نظام کے ناکا م ہونے کی حالت ہے۔اس میں جسم کا درجہ حرارت 40ڈگری سینٹی گریڈ یا 104ڈگری فارن ہایٹ تک پہنچ جاتا ہے۔اس کی بڑی وجوہات میں زیادہ دیر تک شدید گرمی میں رہنا، جسم میں پانی کی شدید کمی، گرم اور مرطوب ماحول میں شدیدمحنت اورضرورت سے زیادہ موٹے کپڑے پہننا اوردیگر وجوہات شامل ہیں۔ درجہ حرارت 35ڈگری تک پہنچنے کے ساتھ ہی طبی ماہرین نے لوگوں کو ہیٹ سٹروک سے بچنے کیلے شدید گرمی کے دوران گھروں سے باہر آنے سے پر ہیز کرنے کی ایڈوائزری جاری کی گئی ہے ۔
وادی کشمیر
وادی عمومی طور پر سرد علاقہ ہے اور یہاں مشکل سے لوگ 30ڈگری درجہ حرارت برداشت کرتے ہیں۔30سے زیادہ درجہ حرارت یہاں کے سبھی لوگوں کیلئے ناقابل برداشت بن جاتا ہے اور عادت نہ ہونے کی وجہ سے لوگ ہیٹ سٹروک کے شکار ہوجاتے ہیں۔یہاں درجہ حرارت میں تھوڑا سا اضافہ بھی ہیٹ سٹروک کی وجہ بن سکتا ہے کیونکہ یہ گرم علاقہ نہیں ہے اور یہاں 6مہینے میں مشکل سے 20ڈگری درجہ حرارت رہتا ہے۔
لازمی احتیاط
محکمہ صحت نے ہسپتالوں میں خصوصی ہیٹ سٹروک کلنک بنائے ہیں۔ اس کے علاوہ عام لوگوں سے کہا گیا ہے کہ وہ ہیٹ سٹروک سے نپٹنے کے دوران ہنگامی صورتحال میں 102اور 108ایمبولنس سے رابطہ کریں۔بہت زیادہ پانی پئیں اور خود کو ڈی ہائیڈریٹ رکھیں۔معالج مبشر بٹ نے کہا ہے کہ 60سال سے زیادہ عمر اور کم عمر و کمسن بچوں کو دن کے اوقات میں سورج کی گرم شعاعوں سے بچاتے رکھنا بہت ضروری ہے کیونکہ وہ زیادہ گرمی برداشت نہیں کرسکتے۔پانی کا استعمال عام لوگ زیادہ سے زیادہ کریں اور دن میں تین چار لیٹر پانی پینے کی عادت ڈالیں۔انکا کہنا ہے کہ ہائی بلڈ پریشر اور شوگر مریضوں کیلئے شدید گرمی سے خود کو بچا کے رکھنا لازمی ہے۔