روئیداد
قاضی سلیم ۔گاندربل
ملک میں سرکاری ملازمین سے متعلق 2004ء کی پینشن سکیم متنازعہ چلی آرہی رہی ہے۔ ملازمین اس سکیم کے خلاف اپنی ناراضگی کا اظہار ارباب و اقتدار تک پہنچاتے رہتے ہیں ۔ راجستھان کے بعد پنجاب کی حکومت نے ملازمین کا مطالبہ تسلیم کرکے 2004 والی پینشن سکیم کو منسوخ کرکے ملازمین کو پرانی والی پینشن سکیم کے ہی دائرہ میں لایاہے۔اب جبکہ گجرات اور ہماچل پردیش کے چنائو منعقد ہونے کے بعد جموں وکشمیر کے چناو بھی مستقبل قریب میں ہونے والے ہیں،تو یہاں کے سرکاری کرمچاریوں کوبھی موقعہ فراہم ہواہے کہ وہ غیر مقبول نئ پینشن سکیم سے متعلق اپنے خدشات ان ریاستوں کی سیاسی جماعتوں کی نوٹس میں لائیں اور مستقبل میں حکومت سازی کے بعد اس نئی پنشن سکیم کو منسوخ کرواکے پرانی سکیم لاگو کئے جانےکی یقین دہانی حاصل کرسکیں۔ ہماچل میں تو رواں ماہ کی 12تاریخ کو الیکشن کرانے کا اعلان کیا جا چکا ہے۔ یہاں گانگریس نے چناؤ میں لوگوں کے سامنے دو خاص مدعے رکھے ہیں۔ ایک مدعا ریاست کی بیروزگاری کا ہےاور دوسرا سرکاری ملازمین کو اولڈپنشن اسکیم کے دائرے میں لائے جانے کا ہے۔ کانگریس پارٹی نے وعدہ کیا ہے کہ ریاست میں انکی سرکار آتے ہی محض دو گھنٹوں میں اولڈ پینشن سکیم کو لاگو کرنے کے احکامات جاری کئے جاینگے۔ جموں وکشمیر میں اگرچہ انتخاب کا انعقاد مستقبل قریب میں نظر نہیں آرہا ہے لیکن دیر یا سویر انتخابات کا انعقاد ایک ضروری عمل ہے، جسے زیادہ دیر تک ٹالا نہیں جاسکتا ہے۔اس صورت میں یہاں کے ساڑھے چار لاکھ سے زیادہ سرکاری ملازمین کے لئے اولڈ پینشن سکیم کا مدعا اُٹھانے کے لئےایک اچھا موقع فراہم ہورہا ہے۔ الیکشن کے وقت پر ہر کوئی سیاسی پارٹی عوام خصوصاً ملازم طبقہ کا ساتھ چاہتا ہے۔ یہاں کی معتبر اور مستند ملازم تنظیمیں موقعہ کی اہمیت اور نزاکت بھانپتے ہوئے ایک جھٹ ہوکر ملازمین کے چند اہم مسائل بشمول اولڈ پینشن سکیم کےحصول کے لئے ایک مشترکہ لائحہ عمل ترتیب دے کر آگے بڑھ سکتے ہیں۔
ایک ریٹائرڈ ملازم کی حیثیت سے ہمارا بھی یہی ماننا ہے کہ 2004 سے لاگو کی گئی پنشن سکیم سرکاری ملازمین کے لئے نقصان دہ ہے۔ ایک عام شہری اپنی زندگی کے قریباً بیس پچیس سال حصول تعلیم میں صرف کرکے انتہائی مشکل ریکریوٹمنٹ پراسس سے گزر کر کسی سرکاری عہدہ پر تعینات ہوتا ہے۔ عہدہ کی مناسبت سے اپنی زندگی کے بہترین حصہ عوامی خدمت میں صرف کرتا ہے۔ عمر کی ایک خاص حد کو پہنچ کر قاعدہ کے مطابق ملازمت سے فارغ ہوجاتا ہے۔ سبکدوش ہونے والے ملازم کے لئے یہ عمر کا وہ حصہ ہوتا ہے، جس میں وہ جسمانی اور ذہنی توانائی طور کمزور ہوچکا ہوتاہےاور اب اسکی زندگی کا آخری پڑاؤ شروع ہوتا ہے۔ یہی وجہ ہے اب اس کو نوکری سے سبکدوش کیا جاتا ہے تاکہ دوسرے تازہ دم شخص کو اس کی جگہ اس کام کے لئے مامور کیا جاسکے۔ یہ ایک جاری عمل ہے جس کا با ضابطہ ایک لائحہ عمل ہوتا ہے، تاکہ ملک و سماج کی خدمت کا یہ مربوط طریقہ اسی طرح بدستور چلتا رہےاور ایک ریاست کے روزمرہ کے مسائل کا بخوبی نپٹارہ کیا جاسکے۔سبکدوش شدہ ملازم کی بہت سی گھریلو اور سماجی ذمہ داریاں ہنوز باقی پڑی ہوئی ہوتی ہیں، جنہیں پورا کرنے کے لئے اس کو وسائل کی ضرورت ہوتی ہے۔ موجودہ زمانہ میںتاخیر سے شادی کر نا اور پھر اس کے نتیجہ میں ڈھلتی عمر میں بچوں کا پیدا ہونا، ان کے پالن پوسن اور تعلیم وتربیت کے اخراجات اٹھانا، ان کے لئے روزگار کے مواقع ڈھونڈنا اور پھر شادی کروانا، یہ سب معاملات ملازم کی سبکدوشی تک کھینچے چلے آتے ہیں۔ بیچارہ ملازم ابھی ملازمت سے ریٹائرمنٹ کے تکلیف دہ عمل کو سہہ ہی رہا ہوتا ہے کہ سماج سے جڑے ہوئے یہ گھریلو مسائل و معاملات اس کے سامنے آ کھڑا ہوتے ہیں۔ ریٹائرمنٹ سے حاصل شدہ رقم ان مسائل کو نمٹانے میں اکثر ناکافی ثابت ہوتی ہے۔ اِدھر اُدھر کرکے اور بسا اوقات قرض لے کر ہی بیچارے کو ان اہم گھریلو اور سماجی مسائل کا نمٹارہ کرنے میں مصروف عمل رہنا پڑتا ہے۔ پچیس تیس سال تک سر کاری کارندے کی حیثیت سے لگا تار محنت کرنے کے بعد چند لمحوں کے لئے سکون تو چاہیے تھا لیکن یہ سکون ایک عام اور اوسط درجے کے ملازم کے نصیب میں کہاں؟ فوراً متذکرہ کاموں کا انبار سامنے کرنا پڑتا ہےاور ان کے نمٹارہ کے لئے کمر بستہ ہونا پڑتا ہے۔ اگلے پانچ سات سال اور بسا اوقات دس بارہ سال اِنہیں حالات میں گزر جاتےہیں اور پتہ بھی نہیں چلتا کہ کب بستر علالت پر اپنے آپ کو پاتا ہے۔ اب علاج و معالجہ کے لئے کچھ بھی بچا ہوا نہیں ہوتا ہے۔ بچے اگر قسمت سے کچھ کماتے بھی ہوں ،وہ بھی آجکل کے اس گراں بازاری میں بمشکل اپنے ہی اہل و عیال کے پالن پوسن کے اخراجات پورا کر پاتے ہیں۔ تنگدستی کی صورت میں بسا اوقات بوڑھے ماں باپ ان کے لئے بوجھ لگتے ہیں۔جس کے نتیجے میںیہ لوگ اکثر اوقات اپنی عمر کے اس آخری پڑاؤ میں اعصابی کشمکش کی وجہ سے ڈپریشن کا شکار ہوجاتے ہیں۔ اُس وقت ان عمر رسیدہ اشخاص کو مالی امداد کی اشد ضرورت ہوتی ہے اور اس نازک وقت پر ریٹائرڈ سرکاری ملازم کے لئے یہی پینشن کا پیسہ اولاد سے زیادہ مددگار ثابت ہوتا ہے۔ کم از کم اپنا اور اپنی بوڑھی ناتواں شریک حیات کا بوجھ خود اٹھانے کے قابل تو ہوتا ہے۔ دیگر افراد خانہ بھی روپیہ پیسہ پاس دیکھ کر سامنے آتے ہیں۔ حتیٰ کہ باہر کے لوگوں سے بھی معاوضہ دے کر بوقت ضرورت مدد لی جاسکتی ہے۔ ان سبھی مشکل حالات میں پینشن ہی ایک ایسی آمدنی ہے جو بڑھاپے کا سہارا بنتی ہے۔ گھر،خاندان ،رشتہ داروں اور سب سے بڑھ کر بازار میں وقار( credibility ) قایم رکھنے کا ذریعہ بھی یہی پینشن بنتا ہے۔ انگریزوں نے اس برصغیر پر سینکڑوں سال تک حکومت کی۔ اچھے بُرے دونوں طرح کے نقوش اپنے پیچھے چھوڑ کر واپس چلے گئے۔اچھائی میں سب سے اچھی روایت ملازموں کی یہی پینشن سکیم ہے، جسےدے کر وہ دوراندیش لوگ اپنا وطن لوٹ گئے۔ کہاوت ہے کہ ایک کشمیری پنڈت کی بیٹی کے لئے کوئی رشتہ جوڑنے والا شخص(منزم یور) ایک رشتہ لے کر آیا۔ لڑکے کی بہت تعریفیں کیں۔لڑکا اچھے اور مال دار گھرانے سے ہے، شریف ہے، تعلیم یافتہ ہے اور بر سر روزگار ہے۔ لڑکی کے لئے بہتر رشتہ ثابت ہوگا۔ لڑکی کے باپ یعنی پنڈت جی نے صرف ایک ہی بات پوچھی،کہ’’ کیا لڑکے کی پینشن والی نوکری ہے ؟‘‘ اگر ہے تو اس صورت میں ہم اپنی لڑکی کا رشتہ اس لڑکے کے ساتھ جوڑنے کو تیار ہیں۔ یہ تھا سماج میں پینشن والی نوکری کا وقار یا credibility ۔ نئی پینشن سکیم 2004ء سے بھرتی ہونے والے سرکاری ملازموں پر لاگو ہوتی ہے۔ ان ملازمین کو ریٹائرمنٹ کے وقت ماہوار پینشں کے بجائے ایک خاصی رقم یک مشت ادا کی جا نی ہے۔ سروس کے دوران ملازم کے ماہانہ تنخواہ کا کچھ حصہ(شاید10فیصد) ملازم کے سیونگ اکاونٹ میں رکھ کر محکمہ کی جانب سے بھی ماہوار اتنا ہی رقم جمع کراکے ملازم کو سبکدوش ہوتے وقت ادا کیا جانا ہے۔ بلا شک یہ ایک خاصی موٹی رقم ہوسکتی ہے ،جس کو یہ ملازم ریٹائرمنٹ کے بعد کاروبار یا اور کسی اور ضروری مصرف میں لا سکتا ہے۔لیکن زمینی سطح پر یہ رقم ایک دو کاموں میں ہی صرف کیا جاتا ہے۔ ایک بچوں کی شادی پر دوم مکان کے تعمیر یا مرمت پر۔ پیسہ کی خصوصیت ہے کہ یہ ایک جگہ نہیں رہتا۔ پتہ بھی نہیں چلتا کہ کب آیا اور کب چلا گیا؟ ہاں کچھ لوگوں کے لئے یہ موٹی رقم فائدہ مند بھی ثابت ہوتی ہے اور وہ اس سے کاروبار میں ڈالکر اچھا خاصا کماتے ہیں۔لیکن یہ عام طور پر وہی ریٹائرڈ ملازم کرسکتے ہیں جو کاروباری گھر یا خاندان سے تعلق رکھتے ہوں۔ انہیں کاروبار کرنے کا تجربہ ہوتا ہے۔ ایک عام گھر کا خصوصاً ملازم پیشہ گھر کا فرد بہت مشکل سے ایسا کرسکتا ہے۔ لہٰذا اس کی ساری پونجی ایسے ہی ایک دو کاموں میں خرچ ہوتی ہے۔بے چارہ ملازم بقیہ پیراں سالی کے ایام کسمپرسی کے حالات میں گزارتا ہے۔ہاں پرانی پینشن سکیم کے رو سے ایک اچھی رقم بطور گریچوٹیGratuaty اور کچھ اور رقم بطور لیو سیلری leave salary ملتی ہے۔ ا سکے علاوہ ایک اچھی خاصی رقم تا حیات ماہوار بطور پینشن ملتی رہتی ہے۔ یہی ماہوار آمدنی اس بیچارے کی آخری امید ہوتی ہے جس پر اس کا اپنا حق ہوتا ہے اور کسی سے پوچھے بنا اس آمدنی کو وہ اپنے ذاتی استعمال میں لاسکتا ہے۔ پیراں سالی میں کسی کے سامنے ہاتھ پھیلانے سے بچ جاتا ہے۔ ورنہ بڑھاپے میں ایک انسان بے کس، بے یار و مددگار بن جاتا ہے۔ دیکھنے میں آیا ہے کہ بوڑھے والدین کو اپنے اولاد بھی بوجھ سمجھنے لگتے ہیں۔ اللہ ہر ایک کو بڑھاپے کی سختی سے محفوظ رکھے۔ پرانی پینشن سکیم ہی ریٹائرڈ ملازم کے لئے فائدہ مند ہے۔ضرورت اس بات کی ہے کہ صاحب اقتدار لوگ ملازمین کی اس جائز مانگ کو تسلیم کر کے پرانی پینشن سکیم کو ہی جاری رکھ کر اپنے لاکھوں ریٹائرڈ ملازموں کو بڑھاپے کی پریشانیوں سے ممکنہ حد تک نجات دلائے۔
(رابطہ۔ 7889324408 )
[email protected]>