سرنکوٹ// سرنکوٹ قصبہ اور مضافاتی علاقوں میں پانی کی ہاہاکارمچی ہوئی ہے جبکہ محکمہ پی ایچ ای ضرورت کے حسا ب سے پانی کی پائپیں بھی فراہم نہیں کرپارہا۔سرنکوٹ قصبہ میں آبادی میں تیزی سے اضافہ ہواہے جس کے ساتھ ہی پانی کی طلب بھی بڑھ گئی ہے تاہم محکمہ کی طرف سے آبادی کو دیکھتے ہوئے کوئی اقدامات نہیں کئے گئے اور پرانی آبادی کے حساب سے سپلائی فراہم کی جارہی ہے جو کم پڑ رہی ہے۔مقامی ذرائع کاکہناہے کہ سرنکوٹ قصبہ میں جب محکمہ کی طرف سے پائپیں بچھائی گئی تھیں تب آبادی صرف چار ہزار تھی لیکن اب اسی قصبہ کی آبادی کئی گنا بڑھ گئی ہے اور پائپیں وہیں پرانی ہیں ۔قابل ذکر ہے کہ ملی ٹینسی کے دوران گائوں دیہات سے بڑی تعداد میں لوگوں نے قصبہ کارخ کیا اور وہیں پر چھوٹے چھوٹے مکانات تعمیر کرکے اپنا ڈیرہ بسالیا ۔مقامی لوگوں کاکہناہے کہ اگر محکمہ نے بڑھتی آبادی کے ساتھ پانی کی سپلائی اور پائپوں کی فراہمی کے انتظامات کئے ہوتے تو آج یہ صورتحال درپیش نہ ہوتی اور لوگ پریشان نہ ہوتے ۔ ان کاکہناہے کہ ضرورت کے مطابق پانی کی پائپیں فراہم کی جائیں تاکہ ہر ایک گھر کو سپلائی مل سکے ۔پانی کا بحران صرف قصبہ میں ہی نہیں بلکہ گائوں دیہات میں بھی پایاجارہاہے ۔خاص طور پر دھندی دھڑہ ،درابہ بفلیاز ، سانگلہ ،گونتھل ،مرہوٹ، دھندک، سنئی ، پوٹھہ ،جڑانوالی گلی ، جوگی موڑ، پمروٹ علاقوں میں پانی کی ہاہاکار مچی ہوئی ہے اور قدرتی چشمے سوکھ جانے کے بعد محکمہ پی ایچ ای کی طرف سے کوئی متبادل انتظام نہیں کیاگیااوراس بات کا انتظار کیاجارہاہے کہ کب بارشیں ہوںگی اور سپلائی بحال ہوجائے گی ۔ان علاقوں کے لوگ پانی یاتو گھوڑوں پر ڈھورہے ہیں یاپھرکئی کلو میٹر پیدل چل کر۔سرنکوٹ کے لوگوں نے محکمہ کے ملازمین پر تنقید کرتے ہوئے کہاہے کہ وہ ڈیوٹی کے پابند ہی نہیںاور اگر کہیں لائن میں خرابی آجاتی ہے تو اسے ٹھیک کرنے کیلئے بھی انہیں کئی ہفتے لگ جاتے ہیں ۔ انہوں نے ڈپٹی کمشنر پونچھ سے اپیل کی ہے کہ پانی کی قلت کو مد نظر رکھتے ہوئے کوئی جامع منصوبہ مرتب کیاجائے ۔