سرنکوٹ// اگرچہ حکام کی طرف سے بجلی کے ترسیلی نظام اور بنیادی ڈھانچے میں بہتری کے بڑے بڑے دعوے کئے جاتے ہیں تاہم سرنکوٹ میں حقیقت بالکل اس کے برعکس ہے جہاں کئی علاقے آج بھی ایسے ہیں جن میں کھمبے فراہم نہیں کئے گئے جس کے نتیجہ میں ترسیلی لائنیں درختوں سے لٹک رہی ہیں جو انسانی جانوں کیلئے بڑاخطرہ ہے۔حالیہ برسوں میں ہر گھر میں بجلی روشن تو ہوئی ہے مگر کہیں ترسیلی لائنوں کے بجائے کریٹ کی تاریں لگی ہوئی ہیں تو کہیں کھمبوں کی جگہ درخت کام آرہے ہیں ۔ہرے بھرے درختوں سے ترسیلی لائنیں لٹکائی گئی جن سے کسی بھی وقت کوئی بڑا حادثہ رونماہوسکتاہے ۔شیندرہ کے طارق مغل نے بتایاکہ شیندرہ ،مدانہ ،لسانہ ،سنئی میں کئی جگہوں پر ترسیلی لائنیں درختوں سے لٹک رہی ہوتی ہیں جس سے پہلے بھی لوگوں کو نقصان پہنچاہے اور مستقبل میں خطرات ہیں تاہم افسوسناک بات ہے کہ متعلقہ حکام کی طرف سے انسانی جانوں کے تحفظ کیلئے کوئی اقدام نہیں کیاجارہااور خالی دعوے کئے جارہے ہیں۔اسی طرح سے کلر کٹل کے اعجاز شاہ نے بتایاکہ کلرکٹل، گونتھل، پمروٹ، سانگلہ ،فضل آ باد ، بیرعلاقوں میں بھی کھمبوں کا فقدان ہے ۔ان کاکہناہے کہ بارہا محکمہ سے اپیل کی گئی کہ کھمبے فراہم کئے جائیں لیکناسے ٹس سے مس نہیں ہورہا اور یقین دہانیوں سے کام چلایاجارہاہے ۔انہوں نے کہاکہ خطرہ اس وقت بڑھ جاتاہے جب بارش ہوجاتی ہے جس دوران کوئی شخص درخت سے لگ بھی نقصان اٹھاسکتاہے ۔ انہوںنے کہاکہ درختوں سے لٹک رہی ترسیلی لائنیں بجلی کے خراب نظام کی بہت بڑی وجہ ہیں کیونکہ بارش یا ہوا چلنے پر محکمہ کی طرف سے احتیاطی طور پر عموماًبجلی سپلائی کاٹ دی جاتی ہے جسے پھر کئی روز بعد بھی بحال نہیں کیاجاتا،اگر کھمبے نصب ہوں گے تو تاروں سے نقصان کا خطرہ نہیں رہے گا اور خراب موسم میں بھی بجلی دستیاب رہے گی ۔سرنکوٹ کے دیگر کئی علاقوں میں بھی کھمبے ضرورت ہیں ۔بفلیاز کے امجد خان اوردرابہ کے مزمل ملک نے بتایا کہ ان کے علاقوں میں بھی کھمبے درکار ہیں جن کے بارے میں باربار حکام سے اپیل کی گئی ۔انہوں نے کہاکہ محکمہ قانونی کنکشن والوں کو بغیر کسی تاخیر کے کھمبے فراہم کرے اور جنہوں نے غیر قانونی طرز پر بجلی لگارکھی ہے ان کے کنکشن ہی کاٹ دیئے جائیں ۔جب اس سلسلے میں اے ای ای محکمہ بجلی سرفراز احمد سے بات ہوئی تو انہوں نے بتایاکہ گزشتہ روز گورنر کی میٹنگ کے دوران بھی کھمبوں اور ترسیلی لائنوں کا مسئلہ اٹھایاگیا اور ایک پرپوزل بھی پیش کیاگیا۔ انہوں نے کہاکہ عملے کو ہدایت دی گئی ہے کہ تمام علاقوں سے رپورٹ جمع کی جائے تاکہ مرکزی معاونت والی سوبھاگیا سکیم کے تحت کام کیاجاسکے۔