مینڈھر//سرحدی علاقے بالاکوٹ کے لوگوں نے فوج کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ وہ ان کے کام کاج میں رکاوٹیں ڈال رہی ہے ۔مقامی لوگوں کاکہناہے کہ گزشتہ دنوں ایک نوجوان دو کلو فیم کے ساتھ پکڑا گیا تھا جس کے بعد فوج نے تاربندی کے اندر رہنے والے لوگوں کے لئے کئی قسم کی رکاوٹیں کھڑی کر دی ہیں جبکہ فوج نے اس نوجواں کو خود تار بندی کے اندر بھیجا اور جب وہ منشیات واپس لے کر آیا تو فوج نے اس کو پکڑ کر پولیس کے حوالے کیا لیکن تار بندی کے اندر رہنے والے لوگوں کے لئے فوج نے کئی قسم کی مصیبتیں کھڑی کر دی ہیں۔انہوں نے کہا کہ جو لوگ تار بندی کے اندر رہتے ہیں، ان کی جگہ تار بندی کے باہر بھی ہے ، اس موسم میں لوگ اپنا مال مویشی تار بندی کے باہر لا کر گزارا کرتے تھے لیکن فوج نے مال مویشی باہر لانا اور لے جانے پر پابندی لگا دی ہے جس سے لوگوں کا گزارا کرنا مشکل ہو گیا ہے۔ کئی لوگوں نے اپنا نام نہ ظاہر کرتے ہوئے بتایا کہ انہوں نے بار بار فوجی آفیسران سے اپیل کی کہ انہیں مال مویشی لانے یا لے جانے کے لئے پابندی نہ لگائی جائے اور تار بندی کے اندر رہنے والے لوگوں کے لئے مصیبتیں نہ کھڑی کی جائیں لیکن فوج یہ سب کچھ ماننے سے انکار کر رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ اگر کسی نوجوان نے منشیات کا دھندہ کیا ہے تو اس میں تار بندی کے اندر رہنے والے لوگوں کا کیا قصور ہے ۔انہوںنے کہاکہ اس نوجوں کو فوج نے خود اندر بھیجا اور اب مصیبت تار بندی کے اندر رہنے والے لوگوں کے لئے کھڑی کر دی ہے جبکہ آج تک سرحدی علاقہ میں رہنے والے کسی بھی نوجوں نے غلط کام نہیں کیا ہے اور نہ ہی فوج کے خلاف کوئی کام کیا ۔ انہوںنے ریاستی سرکار سے اپیل کی کہ اس سلسلے میں فوری مداخلت کرکے تاربندی کے اندر رہنے والے لوگوں پر عائد کی گئی پابندیاں ہٹائی جائیں تاکہ انہیں کسی قسم کی پریشانی کا سامنا نہ کرناپڑے ۔