کڑوا سچ
حافظ میر ابراھیم سلفی
اک جدائی کا وہ لمحہ جو مرتا ہی نہیں
لوگ کہتے تھے سبھی وقت گزر جاتے ہیں
۲۰۲۲ اپنی مدت گذارکر وِداع ہوگیا اور ہمارے درمیان بہت سی یادیں چھوڑ کر چلا گیا ۔ کچھ یادیں خوبصورت تو کچھ یادیں بے حد دلخراش۔بہت سے افراد اس سال اپنی منزلوں سے ہم کلام ہوئے اور بہت سارے افراد کے ارمان خوابوں کی شکل میں رہ گئے۔ زندگی کا دستور اپنے اصولوں پر قائم رہا، کہیں دھوپ تو کہیں چھاؤں نے اپنے عکس چھوڑے۔ بہت سے بچھڑے لوگ اس سال دردِ جدائی سے آزاد ہوئےاور بہت سے لوگ درد خیز جدائی کا غم دے کر چلے گئے۔ بات وادی کشمیر کی ہو تو اس سال کچھ ایسے بھی حادثات پیش آئے کہ جن سے انسانیت شرمسار ہوئی۔ تفصیل میں جانے کے بغیر یہ کہنا ٹھیک رہے گا کہ بدقسمتی سے اس سال بھی جرائم میں بے حد اضافہ ہوتا رہا، منشیات کا بازار گرم رہا، ظلم و جبر کی داستانیں رقم ہوتی رہیں، عصمت دری کے واقعات بھی سامنے آئے، شرم و حیا کا فقدان عروج پر پہنچا، مہنگائی کا سیلاب تیز رفتاری سے بڑھتا چلا گیا، والدین کی نافرمانی عادتِ عامہ بن گئی، صنف نازک پر تشدد کے واقعات میں بھی بڑھوتری ہوتی رہی۔ اسی طرح گھریلو سطح سے لیکر عالمی سطح تک، کہیں پر بھی اصلاح کی ہلکی سی کرن تک نظر نہ آئی۔ رزق حرام اس طرح عام ہوچکا ہے کہ حلال کھانا اور حلال کمانا اب عیب تصور کیا جانے لگا۔ آپسی ہمدردی، جذبہ ایثار، سخاوت اور بھائی چارہ معاشرے سے اوجھل ہوتا رہا اور ہر کوئی فرد بشر اپنی زندگی کی الجھنوں کے ساتھ مشغول و مست ہے۔ اخلاقی گراوٹ ، تعلیمی فقدان، سیاسی بحران کے ابر و آلود نے تقریباًسب کو گھیر لیا ہے۔ الا من رحم ربی۔ یہ سب کچھ ہماری آنکھوں کے سامنے ہوتا رہا اور بدستور ہورہا ہے، پھر بھی سال کے آخری دن میں خوشی کا اظہار اور فحاشی و عریانی محفلوں کا انعقاد کرنا انسانی شعور سے بالاتر ہے۔ ہونا تو یہ چاہیے کہ ہم اپنے نفس کا محاسبہ کرتے، ہم نے کیا کھویااورہم نے کیا پایا؟ تب جاکر شاید کسی حد تک گزرے سال سے فائدہ اٹھا پاتے۔
۲۰۲۲ کے ۱۲ مہینوں پر نظر ڈالنے سے معلوم ہوتا ہے کہ دینی و شرعی تعلیمات سے بھی یہ معاشرہ دن بہ دن دور ہوتا چلا گیا۔ اگرچہ اس بات میں کوئی شک نہیں کہ ہمارے اس سماج میں اللہ تعالیٰ کے نیک بندے بھی موجود ہے، نیک صفت خواتین بھی موجود ہیں۔ لیکن اکثریت کا حال ہمارے سامنے ہے۔ مساجد سال بھر ویران رہی جبکہ بازاروں کی دھوم برقرار رہی ۔ عصر حاضر میں اگر بزرگ افراد مساجد میں نہ آئے، شاید بہت سے مقامات پر اذان بھی نہ ہوگی۔ وجوہات بہت سارے ہیں۔ ہم اپنی جدید نسل کو تربیت نہیں کر پارہے ہیں۔ ٹیکنالوجی کے منفی استعمال نے ہمارے نوجوان طبقے کو جوانی میں ہی بوڑھا کردیا ہے۔ غیر شرعی ناجائز تعلقات ایک فیشن بک چکا ہے، پھر اسی حرام کاری کو جذباتی رنگ دے کر جدید نسل کو تباہ کیا جارہا ہے۔ یہ سال ہمیں درس دے کر چلا گیا کہ والدین اپنی اولاد کی دینی و اخلاقی تربیت پر سب سے زیادہ زور دے۔ اساتذہ کرام جو کہ معاشرے کی تعمیر کرنے میں اہم کردار ادا تو کرتے رہے لیکن دیکھنے کو ملا کہ بعض نااہل افراد اس شعبے میں آکر رہزنی کا کام کرتےرہے ۔ منبر و محراب سے مسلسل تکفیر کی گونج سننے کو ملی۔ حالانکہ یہ بھی حقیقت ہے کہ ہماری وادی میں مستند علماء و مشائخ کی ایک جماعت موجود ہے جو دعوت و اصلاح کا کام احسن طریقے سے کررہے ہیں۔ ضرورت اس بات کی ہے کہ منبر و محراب سے ایسے لوگوں کو دور کیا جائے جو طلبِ شہرت کی آڑ میں انسانیت کو گمراہ کررہے ہیں۔ بقول جان ایلیاء ؎
اب نہیں کوئی بات خطرے کی
اب سبھی کو سبھی سے خطرہ ہے
فرمان ربانی ہے کہ، ’’بےشک اللہ کسی قوم سے اپنی نعمت نہیں بدلتا جب تک وہ خوداپنی حالت نہ بدل دیں اور جب اللہ کسی قوم سے برائی چاہے تو وہ پھر نہیں سکتی اور اس کے سوا ان کا کوئی حمایتی نہیں‘‘(القرآن)۔ خودکشی کی طرف بڑھتا رجحان بھی قابل تشویش ہے۔ سوپور سانحہ نے سال کو تڑپاتے تڑپاتے الوداع کیا۔ عیش پرست انسان اپنی عیاشی سے بعض نہیں آتے، معاشرے کا کمزور طبقہ دن بہ دن زیر زمین آتا جارہا ہے لیکن ہم ٹس سے مس نہیں ہوتے۔ ہمیں اپنے ضمیر کو خواب خرگوش سے بیدار کرنے کی ضرورت ہے۔ معاشرے کا ہر فرد ذہنی تناؤ میں مبتلا ہے، جو در حقیقت ہمارے اپنے اعمال کا پھل ہے۔ فرمان ربانی ہے کہ:’’اور جو رحمٰن کے ذکر سے منہ پھیرے توہم اس پر ایک شیطان مقرر کردیتے ہیں تو وہ اس کا ساتھی رہتاہے۔‘‘ (القرآن) دوسری جگہ رب کائنات کا فرمان ہے کہ:’’اور جس نے میری یاد سے منہ پھیرا تو بےشک اس کے لیے تنگ زندگانی ہے اور ہم اسے قیامت کے دن اندھا اٹھائیں گے۔‘‘(القرآن) دونوں آیات سے واضح ہے کہ جس قدر ہم شیطان اور نفس کی پیروی کرتے رہیں گے، اسی قدر دھتکار اور پھٹکار بھی ہمیں ملتی رہے گی۔ کاروبار میں دھوکا، امانتوں کے ساتھ خیانت، حقوق کی پامالی، شرکیہ و کفریہ اعمال کا چلتا کارواں، تعلیم کے نام پر فحاشی و عریانی کی تشہیر، ہمارے وطن کی پہچان بن چکی ہے۔ ہونا تو یہ چاہیے کہ آنے والے سال ۲۰۲۳ کا استقبال ہم شرم و حیا، سادگی و امانت داری کے ساتھ کریں۔ اعلیٰ کردار و جذبہ ایثار سے کریں۔ اس سال بھی بہت سی عمر دراز بہنوں کے ہاتھوں میں مہندی کسی صالح رشتے کا انتظار کر رہی تھی، لیکن اس انتظار کا خاتمہ نہ ہو سکا۔ یہ بات بھی واضح ہے کہ کچھ مخصوص افراد نکاح کو آسان بنانے کے لئے بلکہ سادگی سے نکاح کرانے میں پیش پیش رہے۔ الحمد للہ
سال گذشتہ نے بھی ہمیں وقت کی قدر کرنے کا درس دیا ہےکہ جس قدر وقت گزرتا چلا جارہا ہے، اُسی قدر ہم قبر کے قریب ہوتے چلے جارہے ہیں۔ سڑک حادثات میں بڑھتا اضافہ اس بات کا ثبوت ہے کہ ہمیں نہ وقت کی قدر ہے نہ اپنی زندگی کی۔ اموات ہمیں اس حقیقت سے متعارف کرارہی ہے کہ زندگی کا کوئی بھروسا نہیں۔۔ ہر سیکنڈ کی قدر کرنا لازمی ہے۔ہر لمحے کا احسن طریقہ سے استعمال کریں۔ بقول جان ایلیا ؎
کون اس گھر کی دیکھ بھال کرے
روز اک چیز ٹوٹ جاتی ہے
)رابطہ6005465614)
[email protected]