پونچھ//ضلع پونچھ کی معروف درگاہ عالیہ سائیں بابا میراں بخش ؒ پر منعقدہ تین روزہ سالانہ عرس اختتام پذیر ہوا۔اس سلسلہ کے اختتامی روز بھی درگاہ پر سائیں بابا کے چاہنے والے بڑی تعداد میں عقیدتمندوں نے حاضر ہو کر ان کے وسیلہ سے دعائیں کی۔ اس موقعہ پر ممبر قانون ساز اسمبلی شاہ محمد تانترے، ضلع ترقیاتی کمشنر پونچھ طارق احمد زرگر، اے ڈی ڈی سی پونچھ عبدالحمید شیخ ،ایس ایس پی پونچھ راجیو پانڈے،ڈی وائی ایس پی آپریشن سلیم کے علاوہ ضلع انتظامیہ اور پولیس انتظامیہ کے افسروں نے بھی درگاہ پر حاضر ہو کر اپنی عقیدتوں کا اظہار کیا۔درگاہ پر علمائے کرام کی جانب سے پر نور محفل کا اہتمام کیا گیا جہاں پونچھ ضلع کے معروف علمائے کرام نے خطاب کرتے ہوئے لوگوں کو دنیاوی تعلیم کے ساتھ ساتھ دینی تعلیم اپنے بچوں کو دینے کی گزارش کی۔ محفل کے دوران زائرین سے خطاب کرتے ہوئے مفتی فاروق احمد مصباحی نے کہا کہ اللہ کے ولی مر کر بھی زندہ رہتے ہیں اوراس کا ثبوت سائیں بابا کی درگاہ پر جمع یہ بھیڑ ہے جو سائیں بابا ؒ سے ملنے کے لئے دور دور سے آئی ہے۔انہوں نے کہا کہ اولیا اللہ یعنی اللہ کے دوست اس تک پہنچنے کا وسیلہ ہیںاس لئے انہیں ان کی درگاہوں پر حاضری دیتے وقت یہ خیال رکھنا چاہئے کہ ان کی کسی حرکت سے یہ ناراض نہ ہوں۔انہوں نے اسلامی نظام کے حوالے سے بات کرتے ہوئے کہا کہ جہاں بھی اسلامی قانون رائج ہیں ،وہاں امن ہے۔انہوں نے کہا کہ اسلام کو اس وقت بدنام کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے لیکن کیونکہ اسلام کا محافظ اللہ خود ہے اس لئے اس کے دشمن خود بخود نابود ہو جائیں گے۔عرس کے اختتامی روز تین بجے عرس کی تقربات ختم کئے جانے کا اعلان کیا گیا ۔اس دوران درگاہ پر خصوصی دعائوں کی تقریب منعقد کی گئی جہاں علمائے کرام نے پوری دنیا میں امن و امان کے لئے دعائیں طلب کی۔درگاہ کی انتظامیہ کمیٹی سائیں میراں بخش ؒ ٹرسٹ کے ایڈمنسٹریٹر نے اس موقعہ پر تمام شرکاء ، ضلع انتظامیہ اور پولیس کا شکریہ ادا کیا جنہوں نے عرس کے تقریبات کے دوران تمام انتظامات میں انتظامیہ کمیٹی کا تعاون کیا۔ انہوں نے کہا کہ عرس کے دوران ہر سال کی مناسبت اس بار زائرین زیادہ تعداد میں آئے اوراس وجہ سے سڑک پر ٹریفک جام لگے اورزائرین کو پریشانیوں کا سامنا کرنا پڑا ۔انہوں نے کہا کہ وہ ریاست کی وزیر اعلیٰ محبوبہ مفتی سے اپیل کرتے ہیں کہ وہ سائیں میراں بخش ؒ کی سڑک کو کشادہ کرنے کیلئے رقومات واگزار کریں تاکہ اگلے برس زائرین کو ٹریفک جام کا سامنا نہ کرنا پڑے۔